میرا خان ۔۔۔؟؟ وہ۔۔ وہ آگیا ہے۔۔؟ دی جے کے خوشی سے آواز کانپنے لگی۔ جو شامی کو سخت ناگوار گزری۔
جی۔۔ آگیا ہے آپ کا لاڈلا۔ اور حیرت کی بات ہے ناں۔۔ بہت گرینڈ پارٹی ہے آج رات خان ولا میں۔۔ سبھی رشتہ داروں کو دعوت دی گٸ ہے۔۔ لیکن افسوس۔۔ کسی نے آپ کو یاد نہیں رکھا۔
کھانے سے وہ ہاتھ کھینچ گیا تھا۔
اسکی بات پے دی جے کا دل دکھا۔ اور آنکھیں نم ہوٸیں۔
شامی۔۔۔! کھانا کھاٶ۔۔ جمیلہ خاتون نے اسے ٹوکا۔
پیٹ بھر گیا ہے امی جان۔۔۔! سخت انداز میں کہتا وہ اٹھ کے جا چکا تھا۔
جمیلہ۔۔۔! میرا خان بھی بھول گیا۔۔ مجھے۔۔۔! دی جے رونے لگیں۔
بس کریں۔۔ اماں۔۔۔! جب بھاٸیوں نے چھوڑ دیا تو ۔۔۔ بھاٸیوں کی اولاد سے کیسا گلہ۔۔؟؟؟
دل تو جمیلہ خاتون کا بھی دکھا تھا لیکن ماں کو دکھی نہ دیکھ سکی۔ اور دلاسہ دینے لگی۔
دروازے کی اوٹ سے یہ منظر دیکھتی انابیہ انہی قدموں سے واپس مڑ گٸ۔
دل پے آج پھر سے سخت گھاٶ لگے تھے۔
جس شخص کے نکاح میں تھی وہ۔۔ آج دس سال بعد واپس لوٹا تو۔۔۔؟؟ اسے کوٸ بھی یاد نہ تھا۔ انا جانتی تھی۔ اس وقت شامی سخت ٹینس ہوگا۔
وہ چھت کی منڈیر پے بیٹھا اپنا غصہ ٹھنڈا کر رہا تھا۔
انا بھی اسکے پاس جا بیٹھی۔
بہت غصہ آرہا ہے۔۔؟؟ وہ اپنے بھاٸ کو ہینڈل کرنا اچھی طرح جانتی تھی ۔
کیانہیں آنا چاہیے۔۔؟؟ الٹا سوال کیا۔ دونوں بہن بھاٸ ٹانگیں نیچے لٹکاۓ بیٹھے اپنے اپنے دل کو سنبھالے ہوۓ تھے۔
شامی۔۔۔۔؟؟ کیا تم سب کچھ وقت پے نہیں چھوڑ سکتے؟ لہجہ تلخ ہوا۔
کاش۔۔۔! یہ جتنا کہنا آسان ہے۔۔ کرنا بھی آسان ہوتا۔۔! وہ حق پےتھا۔ اسے غلط کہنا وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔
حیرت تو مجھے دی جے پے ہے۔ پانچ سال سے اوپر ہو گۓ ہیں۔ ان لوگوں نے انہیں اپنے گھر سے نکال دیا۔۔ اور پلٹ کے خبر تک نہ لی ۔ اور۔۔ یہ آج تک انہی کا دم بھرتی ہیں۔۔ جو انہیں یاد رکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔
دانت پیستا وہ بولا تھا۔
ہر ایک کا اپنا دین ایمان ہے۔۔ ہمیں کسی سے کیا لگے۔۔؟؟ ہمیں اپنے کرم صحیح رکھنے چاہیں۔ تحمل سے سمجھایا۔
یو نو۔۔ انا۔۔۔۔!
she deserves...
جسطرح وہ ہر وقت۔۔ میرا خان میرا خان کرتی ہیں۔۔ ناں۔۔ ان کے لیے صرف وہ۔۔۔ شہیر خان ہی ہے۔۔ ہم تو کچھ ہیں ہی نہیں۔۔! ہمارا پیار تو ان کے لیے کوٸ معنی ہی نہیں رکھتا۔ انہیں بس اپنے پوتے سے مطلب ہے۔۔ نواسوں سے نہیں۔
منہ پھرتے وہ اندر کا غصہ نکالنے لگا۔
ایسی بات نہیں۔۔ شامی۔۔ وہ ہم سب سے بھی بہت پیار کرتی ہیں۔ شہیر کے نام پے انا کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔ لیکن اپنے احساسات ظاہر نہ کیے۔
مطلب پستی کی دنیا ہے۔۔آج وہ آتا ہے انکا پوتا۔۔ انہیں لینے۔۔ دیکھنا۔۔ ایک لمحہ نہیں لگاٸیں گیں اس کے ساتھ جانے میں۔۔ سب بھول جاٸیں گیں۔۔ بس وہ جو کہے گا یہ وہی کریں گیں۔
شامی غصہ کا شروع سے ہی تیز تھا۔
اور تم۔۔۔ ؟؟ نکاح پڑھا دیا بچپن میں۔۔ بھیڑ بکریوں کی طرح۔۔۔! اب وہ جو چاہے گا وہی ہوگا۔۔ تمہارے احساسات جاٸیں بھاڑ میں۔۔ !
وہ سچ بولے جا ہا تھا۔ جو اب بہت کڑوا ہوتا جا رہا تھا۔ انا برداشت نہیں کر پاٸ۔
چلو۔۔ اٹھو۔۔ نیچے چلتےہیں۔۔ کھانا کھاتے ہیں۔ تمہاری وجہ سے میں نےبھی نہیں کھایا۔ بہت زوروں کی بھوک لگی ہے۔
شامی کا ہاتھ تھامے وہ اٹھی۔
مجھے بھوک نہیں۔ منہ لٹکایا۔
میری خاطر۔۔۔ ورنہ میں بھی نہیں کھاٶں گی۔ پیار بھری دھمکی دی۔
انا آپی۔۔۔۔! ساتھ کی چھت کی منڈیر سے عابی نے منہ نکالا۔
لو۔۔اسکی کسر تھی۔ شامی نے منہ بگاڑا۔
کیا ہوا۔۔؟؟ انا آگے بڑھی۔
انا آپی۔۔۔! یہ۔۔ امی جان نے بریانی بناٸ ہے۔۔آپ کے لیے دی ہے۔۔ یہیں سے لے لیں گیں۔ یا دروازے سے آٸیں ہم ۔۔۔؟
کہتے ساتھ سوال بھی کیا ۔
کہو آکے کھلا بھی جاۓ۔ شامی نے چڑ کے کہا۔ انا بس مسکرا ہی سکی۔
یہیں سے دے دو۔۔ پیاری۔۔۔ انا نے پلیٹ تھامی۔
کھا کے بتاٸیے گا۔۔ کیسی بنی؟ جھک کے کہتی ایک نظر شامی پے بھی ڈالی۔
ہاں۔۔ جیسے خود بناٸ ہو۔۔۔! باپ نواب۔۔۔ ہے۔۔ نواب ابنِ نواب۔۔۔ اورانتہاٸ کنجوس ۔۔ اوپر سے بیٹی۔۔ بریانی کی پلیٹ لے کے آٸ ہے۔۔ نواب صاحب کو بھی بتا دینا تھا۔ اس پلیٹ کی بابت۔۔ ! تاکہ نیندیں تو حرام ہوتیں۔
شامی نے ابکی بار غصہ عابی پے اتارا۔
انا نے اشارے سے باز رہنے کو کہا۔ لیکن اسے کہاں بریک لگنے تھی۔
ہمارے والد محترم۔۔۔ بالکل بھی کنجوس نہیں۔ آپ کو غلط فہمی ہوٸ ہوگی ۔
اپنی دونوں چوٹیاں آگے کرتی وہ اس وقت شامی کو بہت بری لگی تھی۔
اپنے والد محترم سے پوچھنا۔۔ جیب میں کبھی دس روپے کا نوٹ بھی رکھ لیا کریں۔ غلطی سےکبھی کسی کو ضرورت پڑ سکتا ہے۔۔ تو ہونے چاہیں۔ اگر نہیں ہیں۔ تو میں دے دیتا ہوں۔
شامی غصےسے اٹھ کے اب منڈیر کے پاس آیا۔ جہاں وہ منہ نکالے کھڑی تھی۔
ہمیں دیر۔۔۔ ہورہی ہے۔ آپی۔۔ ہم جا رہے ہیں۔ کہتے ہی وہ جھپاک سے غاٸب ہوگٸ۔
شامی تم بھی ناں۔۔ حد کرتے ہو۔۔ ایک تو وہ بیچاری بریانی لے کے آٸ۔ تمہاری فیورٹ۔۔ بجاۓ شکریہ کہنے کے تم نے اسے ڈانٹ دیا۔
بریانی نہیں۔۔ چوری کی بریانی۔۔ ! چھپا کے لاتی ہے۔۔ چورنی۔۔۔۔! باپ دس روپے دے نہیں سکتا اور بیٹی بریانی لا کے کھلاتی ہے۔
کافی اونچا بولتا وہ انا کے ساتھ نیچے اترا تھا۔ جبکہ ساتھ دیوار کے ٹیک لگاۓ اس معصوم کے دل پے کیا بیتی تھی۔ یہ بس وہی جانتی تھی۔ جو اپنے حصے کی بریانی شامی کے لیے لے کے آٸ تھی۔ کہ اسکی فیورٹ ہے۔ جبکہ۔۔ وہی اسے چورنی کا خطاب دے رہا تھا۔
آنسو صاف کرتی وہ بھی دل پے لگے زخموں کے ساتھ نیچے اتر گٸ۔
پارٹی اپنے عروج پے تھی۔
ہر طرف گہما گہمی تھی۔ بڑے بڑے بزنس مین اپنی بیٹیوں کے ہمراہ پارٹی میں موجود تھے۔
خانزادہ فیملی پورے جوش و خروش سے اس فنکشن میں اپنا آپ شو آف کر رہے تھے۔
خواتین کی الگ محفل تھی۔ تو جینٹس الگ ساٸیڈ پے تھے۔
لیکن خاندان اور فرینڈز سرکل کی لڑکیاں شہیر خانزادہ کی ایک جھلک کے لیے تڑپ رہی تھیں۔ جبکہ وہ اپنی دادی ڈی جے کو ڈھونڈ رہا تھا۔ جب صبر نہیں ہوا تو ماں سے پوچھ ہی لیا۔
مما جان۔۔۔! دی جے۔۔ اور۔۔ پھوپھو کی فیملی کہاں ہیں۔۔؟؟
بیٹا۔۔۔! وہ۔۔شاید نہیں آٸے۔۔۔! ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتے ادھر ادھر نظریں گھماٸیں۔
کیا مطلب۔۔؟؟؟ نہیں آۓ۔۔؟؟ جب سب۔۔یہاں موجود ہے۔۔ پورا خاندان ہے یہاں۔۔ تو۔۔۔ وہ کیوں نہیں ہے؟؟ شہیر کو حیرت ہوٸ۔
بیٹا۔۔۔! دعوت دے دی تھی۔۔ اب وہ کیوں نہیں۔۔ آۓ۔۔؟ اس پے بعد میں بحث کر لیں گے۔
lets cut the cake.
دھیمے لہجے میں کہتیں وہ حیران ہوتے شہیر کو ساتھ لیے اسٹیج کی جانب بڑھ گٸیں۔ سب کی ڈھیروں تالیوں میں کیک کاٹا گیا۔ رافیہ خانم نے کیک کا ایک پیس بیٹے کے منہ میں ڈالنا چاہا۔ جسے اس نے پیچھے کر دیا۔ ایک لمحے کو تو رافیہ خانم کے اندر تک سناٹا چھا گیا۔ پلٹ کے حیرت سے بیٹے کو دیکھا۔
مما جان۔۔۔! مجھے کیک پسند نہیں۔ سہولت سے انکار کرتا وہ اسٹیج سے نیچے اترا۔
اسی لمحے رافیہ خانم نے اسکی کلاٸ تھامی۔
سر۔۔۔! وہ قیصر کا آدمی تھا۔ جس نے گولی چلاٸ۔ اور اب وہ ہماری حراست میں ہے۔
آفتاب اس وقت ہاسپٹل میں تھا۔ اسکا سارا دھیان آپریشن تھیٹر کی جانب تھا۔ جہاں ڈاکٹر اد لڑکی کی ٹریٹمنٹ کر رہے تھے۔ اور آفتاب پہلی بار یوں کسی کے لیے پریشان ہوا تھا۔
اتنے میں ڈاکٹر باہر آپیشن تھیٹر سے نکلا۔ اور آفتاب کی جانب بڑھا۔
گھبرانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ خان صاحب اب وہ خطرے سے باہر ہے۔گولی چھو کے گزری ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے کہنے پے آفتاب نے سن کا ایک گہرا سانس خارج کیا۔ اور سعدی کی جانب مڑا۔
وہ شخص مجھے زندہ ہی چاہیے سعدی۔
آنکھوں میں وراننگ تھی۔ سعدی نے سر اثبات میں ہلایا۔ اور پیچھے ہوگیا۔
آفتاب کا رخ اب آپریشن تھیٹر کی جانب تھا۔ جہاں وہ لڑکی تھی۔ جس نے آج اس پے احسان کیا تھا اسکی جان بچا کے۔
دھیرے سے دروازہ کھولتا وہ اندر آیا۔ وہ تکیے کے سہارے آنکھیں موندے لیٹی تھی۔
اب کیسی ہیں آپ؟ پاس جاتے دھیرے سے پوچھا۔ تو اس لڑکی نے آنکھیں کھول دیں۔
بہت مزے میں ۔۔ بس گولی ہی تو لگی ہے۔۔۔۔ ! طنز سے مسکراتے ہوۓ جواب آیا۔ آفتاب کا سر جھک گیا۔
آپ کو میری وجہ سے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنی چاہیے تھی۔
آفتاب کو اسکا یہ انداز بالکل نہ بھایا۔
آپ کیوں شرمندہ ہورہے ہیں۔ میں اپنی مرضی سے آٸ تھی سامنے۔
ابکی بار لہجے میں تلخی تھی۔ اور رخ بھی پلٹ لیا تھا۔
شرمندہ۔۔۔۔؟؟ آفتاب نے دل میں سوچا۔ عجیب لڑکی ہے۔ خود سے ہی سب اخذ کر رہی ہے۔ سر جھٹکا۔
آپ کے گھر سے کسی کو بلوانا ہے۔۔ تو میں انفارم۔۔؟؟
کوٸ نہیں ہے میرا۔۔۔! آفتاب کی طرف رخ کرتے سخت لہجے میں کہا۔ موباٸل نکالتے آفتاب کے ہاتھ پل بھر کو رکے۔
آپ۔۔۔ یہاں۔۔ اکیلی۔۔؟؟ مطلب۔۔؟؟ کوٸ تو ہوگا۔۔؟؟؟ آفتاب کنفیوز ہوا۔
آپ فکر نہ کریں۔ اور جاٸیں۔ ڈاکٹر جیسے ہی مجھے ڈسچارج کریں گے۔ میں بھی چلی جاٶں گی ۔
اجنبیت سے کہتے وہ چہرے سے معصوم لڑکی آفتاب کو سخت ٹھوکر کھاۓ لگی۔
میں نے بل پے کر دیا ہے۔۔ پھر بھی۔۔ کسی چیز کی ضرورت ہوتو۔۔ یہ کارڈ ہے۔۔ آپ کال کر لیجیے گا۔ اس لڑکی نے کارڈ نہ تھاما۔ بلکہ آنکھوں پےایک بازو رکھے لیٹی رہی۔کیونکہ دوسری تو وہ زخمی کر چکی تھی۔ آفتاب نے کارڈ ساٸیڈ ٹیبل پے رکھا۔
جبکہ وہ لڑکی ٹس سے مس نہ ہوٸ۔
بہت ہی اکھڑ مزاج ہے ۔۔۔۔! آفتاب دل ہی دل میں بولا۔ اور باہر کی جانب رخ کیا۔
آفتاب کے جانے کے بعد اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ اور ساٸیڈ پے پڑا کارڈ اٹھایا۔
اور آنکھیں پھر سے موند لیں۔
ایک گہرا راز تھا ان کالی آنکھوں میں۔
لیڈیز اینڈ جینٹل مین۔۔
May have you attention plz....
رافعہ خانم نے اچانک سے شہیر کا ہاتھ تھام کے واپس اسٹیج کی طرف موڑا۔
آج میرا بیٹا۔۔ شہیر خانزادہ پورے دس سال بعد پاکستان واپس لوٹ آیا ہے۔ اور ہم سب بے انتہا خوش ہیں۔
کہتے ساتھ ہی شہیر کو اپنے ساتھ کھڑا کیا۔ ارباز خان بھی سر فخر بلند کرتے ساتھ کھڑے ہوۓ۔
تبسم اور عباد خان بھی سامنے کھڑے انکے انداز و اطوار دیکھ رہے تھے۔ جبکہ انکی شمسہ خالہ اپنی دونوں جوان بیٹیوں عروج اور سارا کے ساتھ کھڑیں بہت فخر سے بہن کو دیکھ رہی تھیں۔ جو اسٹیج پےکھڑی تھیں۔اور اب اناٶنس منٹ کرنے والی تھیں۔جو یقیناً وہ جانتی تھیں کہ کیاکہنے والی ہیں ۔
شہیر خانزادہ کے آنے کی خوشی میں ہم نے آج یہ گرینڈ پارٹی رکھی۔ اور اب ہم۔۔ ایک بہت بڑی اناٶنسمنٹ کرنے جارہے ہیں خان صاحب ۔۔۔! اجازت ہے؟
ایک ادا سے ارباز خان سے جھک کے مسکراتے پوچھا۔
جی خانم۔۔۔! انہوں نے بھی سر تسلیم خم کیا۔ جبکہ شہیر تو بس دیکھے جا رہا تھا۔ کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟
عروج۔۔۔ یہاں آٶ بیٹا۔۔! بہت پیار سے بہن کی بیٹی کو بلایا۔ عروج شرماتی ہوٸ اسٹیج کی جانب بڑھی۔
ہم آج ۔۔ اپنے بیٹے شہیر خانزادہ کا رشتہ اپنی پیری بیٹی عروج کے ساتھ طے کرتے ہیں۔
ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ شمسہ خالہ کے تو دل کی مراد برآٸ۔
شہیر خانزادہ نے حیرت سے ماں کو دیکھا۔
جو عروج کو کیک کھلا رہی تھیں۔ اور وہ شرما کے کھارہی تھی۔
اسی اثنا میں آفتاب شیر خان اندر داخل ہوا۔ اناٶنس منٹ وہ بھی سن چکا تھا۔ جو اسے سخت ناگوار گزری تھی۔ ایک پل کوشہیر اور آفتاب کی نظر ملی۔ آفتاب لب بھینچے نفی میں سر ہلاتا وہاں سے نکلتاچلاگیا۔ تبسم خان نے آفتاب کو وہاں سے جاتا دیکھ پریشانی میں اسکے پیچھے ہو لیں۔
اییی۔۔۔ایک ۔۔۔ منٹ۔۔۔ شاید ۔۔ کوٸ غلط فہمی ہوٸ ہے۔۔یہاں۔۔؟؟
شہیر نے ماں کی طرف مڑتے نہایت سنجیدگی سے کہا۔
سبھی کی نظریں اسٹیج پے تھیں
کیسی غلط فہمی بیٹا۔۔؟؟ آپ کا رشتہ طے ہوا ہے عروج کے ساتھ۔
بظاہر مسراتےکہا۔ جبکہ اندر ہی اندر وہ پیچ و تاب کھا رہی تھیں۔
جب۔۔۔ میں الریڈی نکاح میں ہوں۔ تو رشتہ کیسے طے کر ستی ہیں آپ؟ شہیر کے ماتھے پے بل پڑے وہیں حاسدین کے چہرے کھل اٹھے۔
اب آۓ گا مزہ۔۔۔۔! عباد خان زیر لب بڑبڑاۓ۔
وہ ختم ہوجاۓ گا۔۔۔ اس بچپن کے نکاح کی کوٸ ویلیو نہیں۔ سپاٹ انداز میں کہا۔
آپ کے لیے۔۔۔۔! دوبدو جواب آیا۔ رافعہ خانم نے بیٹے کو حیرت سے دیکھا۔ جو انکے ساتھ سوال جواب کر رہا تھا۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے۔
میرے لیے میرا نکاح بہت اہمیت رکھتا ہے۔ مماجان۔۔۔! چاہے وہ بچپن میں ہی کیوں نہ ہوا ہو۔۔۔! ہر لفظ پے زور دیتے کہا۔ اور ایک نظر آنکھیں پھاڑے دیکھتی عروج پے ڈالی۔ اور اسٹیج سے نیچے اترتا چلا گیا۔ عروج کی آنکھیں جھلملا گٸیں۔
عروج ۔۔! فکر نہ کرو۔۔۔! میرے شہیر کی دلہن تم ہی بنوگی۔ وعدہ ہے میرا۔ گلےلگاتے دھیرے سے اسکے کان میں کہا۔ تو وہ روتی آنکھوں سے مسکرا دی۔
ارباز خان اپنے بھاٸ کی آنکھوں میں اپنے لیےتمسخر دیکھ چکے تھے۔ اس لیے پیچ وتاب کھاتےوہاں سے جا چکے تھے۔ جبکہ پارٹی میں اب کھاناپینا شروع ہو گیا تھا۔ یہی تو چال ہوتی ہے۔بڑے لوگوں کی۔ جب کوٸ چیز آپ کے خلاف جانےلگے۔ لوگوں کا دھیان کھانےکی طرف لگادیں کہ وہ باقی سب بھول جاٸیں۔
بیٹا۔۔۔! کیا ہوا۔۔؟؟ اتنی دیر لگا دی آنے میں۔۔؟ تبسم خان آفتاب کے پیچھے کمرے میں آٸیں۔
جی۔۔۔! بس دیرہوگٸ۔۔۔ کام۔میں۔۔ ! مڑتے ہوۓ پیار سےکہا۔
یہ۔۔ آپ کی جھٹانی کچھ زیادہ سپیڈسے نہیں چل رہیں؟ گھڑی کلاٸ سے اتار کے ساٸیڈ پے رکھتا وہ بیڈ پے بیٹھتا بولا۔
بس بیٹا۔۔۔! انکی جلد بازیاں ہی تو خراب ہوتی ہیں۔ خیر انکی اپنی اولاد ہے ہمیں کیالینا دینا؟
تبسم خان نے اپنا دامن بچایا۔
وہ رافعہ خانم سے پنگا کہاں لے سکتی تھیں ؟
ہمممم۔۔۔۔ سب جانتے ہیں۔ کہ شیری کا نکاح ہو چکا ہے۔ اسکے باوجود۔۔؟؟ خیر۔۔ اور اس شیری کو دیکھیں۔ بجاۓ اپنی دی جے کی بابت جاننے۔۔ وہاں اسٹیج پے کھڑا رشتہ طے کر رہا تھا ۔ عجیب ہی لگا مجھےتو ۔
آفتاب کو یہ سارا خاندان ہی عجیب لگتا تھا۔ وہ یہاں تھاتو صرف اپنی ماں کی وجہ سے۔ جو اپنے شوہر کو چھوڑنا تو دور کی بات ان کے بنا سانس بھی نہیں لیتی تھیں۔
آفتاب بھاٸ۔۔؟ اچانک شیری کی آمد پے وہ دونوں چونکے۔ آفتاب کھڑا ہوا تو شیری پاس آیا۔ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے۔
تبسم خان وہاں سے باہر چلی گٸیں۔ وہ ان دونوں کو اکیلا چھوڑنا چاہتی تھیں۔ تا کہ دونوں اپنے دل کی باتیں کر سکیں۔
کیسےہو۔۔؟؟ آفتاب نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
یہاں آنے سےپہلے بہت اچھا تھا۔۔۔۔! شیری بہت دکھی لگا۔
آفتاب نے اسکے کاندھے پےہاتھ رکھا ۔
بہت وقت بیت گیا شیری۔۔۔بہت کچھ بدل گیا ہے یہاں۔۔! آفتاب نے گھمبیر لہجے میں کہا ۔
میری ۔۔۔ دی جے یہاں نہیں۔۔ میرا بالکل دل نہیں لگ رہا یہاں۔۔ ! بس جی چاہتا ہے واپس چلا جاٶں۔۔! شیری کی آنکھیں لال ہوٸ ہوٸ تھیں ۔
واپس۔۔؟؟ واپس جانا مسٸلےکا حل ہے کیا۔۔؟؟ آفتاب نے اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے پوچھا۔
پھر آپ بتاٶ۔۔ یار۔۔کیا کروں۔۔؟؟ شیری نے مڑ کے آفتاب کو دیکھا۔
یہ بھی میں بتاٶں؟ آفتاب نے اٹھتے ہوۓ گہرا سانس خارج کرتے کہا۔
کہاں سے ڈھونڈوں دی جے کو؟ پھوپھو کےگھر بہت عرصہ پہلے گیا تھا۔ یاد نہیں۔ نہ ایڈریس۔۔۔؟؟
یہ لو۔۔۔۔! آفتاب نے ایک پیج پے ایڈریس لکھ کے شیری کو تھمایا۔ شیری نے حیران ہوتے آفتاب کو دیکھا ۔
اپنی دی جے سے مل لو جا کے۔۔۔! آفتاب نے اسکے کاندھے پے ہاتھ رکھتے محبت سے کہا۔
آپ۔۔۔۔؟؟ آپ کے پاس۔۔؟؟ ایڈریس۔۔۔؟؟ تھینک یو بھاٸ
شیری آفتاب کے گلے لگا۔
میں دی جے کو واپس لے کے آٶں گا۔۔! شیری نے پورے یقین سے کہا۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے۔۔؟وہ واپس آٸیں گیں۔؟ ایک آٸ برو چڑھاتے پوچھا۔
شیری چلتا ہوا آفتاب کے پاس آیا۔
ایک بات پوچھوں آپ سے؟ انہیں یہاں سے گۓ۔۔۔ کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟
پانچ سال۔۔۔! آفتاب تو جیسے ہر سوال کا جواب تیار رکھے بیٹھا تھا۔ شیری نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور سوچنےوالے انداز میں آفتاب کو دیکھا۔
باقی۔۔ ساری سچاٸ دی جے سے مل لو۔۔ وہ بتا دیں گیں۔
آفتاب کہتے ہوۓ کبرڈ کی جانب بڑھا ۔ اسے شیری ہمیشہ ہی اپنے چھوٹے بھاٸیوں جیسا لگتا تھا۔ اور بچپن بھلے ایک ساتھ کم گزارا تھا۔ لیکن جتنا وقت ایک ساتھ گزرا تھا ۔ چاہت بھرا ہی گزرا تھا۔ اور یہی چاہت رافعہ بیگم کو نہ بھاٸ اور شیری کو یہاں سے دور بھیج دیا۔ شیری کو یہاں سے دور بھیجنے کے پیچھے اور کتنے راز تھے۔۔؟؟ یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا۔
صبح فجر کی نماز کے بعد جمیلہ خاتون قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول تھیں۔ آج دی جے ان کے ساتھ نہ تھیں۔ کل سے انکی طبعیت ناساز تھی۔ تو آج نماز پڑھ کے لیٹ گٸیں تھیں۔ شہیر خانزادہ کا پاکستان آنا لیکن ان تک نہ پہنچنا انہیں اندر ہی اندر کھاۓ جا رہا تھا ۔
امی جان۔۔! ناشتہ بن گیا ہے۔ آجاٸیں۔
فضا نے ماں کو پکارا تو وہ اثبات میں سر ہلاتیں اپنی تلاوت میں مشغول رہیں۔
فضا اپنے اور انا کے مشترکہ روم کی جانب بڑھی۔
پڑھ لی نماز۔۔؟ پیار سے بہن کو دیکھتے پوچھا ۔
جی۔۔۔! جاۓ نماز کو فولڈ کرتے وہ اب فضا کے پاس آٸ ۔
کیسی رہی شادی؟ انجواۓ کیا؟
ہاں۔۔ ! اچھا وقت گزر گیا۔ لیکن۔۔ مجھے جانا اچھا نہیں لگا۔۔ فضا نے لمبا سانس خارج کیا۔
کیا ہوا۔۔؟؟ جاتے ہوۓ تو بہت ایکساٸٹڈ تھیں۔ اب ایسا کیا ہوا جو یوں مرجھا رہی ہیں۔؟؟ انا کو اسکا انداز تھوڑا عجیب لگا۔
کہیں۔۔۔میکال بھاٸ نے تو نہیں کچھ۔۔۔؟ انا کے جو دماغ میں آیا بول دیا۔
ارے نہیں۔۔ انہوں نے کیا کہنا ہے۔۔؟؟ وہاں عورتیں ہی بس عجیب سی باتیں کر رہی تھیں۔۔۔ بنا رخصتی کے جانا۔۔۔ اچھا نہیں ۔ناں۔۔۔!
ان ڈاٸریکٹلی فضا نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
اس میں آپ کا کیا قصور۔۔؟؟ یہ تو ہمارے بڑوں کو سوچنا چاہیے۔ جو ہمیں ایسی مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ انا نے اٹھتے شیشے کے آگے کھڑے ہوتے گیلے بالوں میں کنگھی کرتے کہا۔
فضا اس کے ریشم سے کالے لامبے بال ہی دیکھتی رہ گٸ۔ وہ بال نہیں کٹواتی تھی۔ اور اپنے بالوں کی بہت کٸیر کیا کرتی تھی۔ ایک لمحے کو تو فضا بھی اس کے بال دیکھ کھو جاتی تھی۔
کیا ہوا۔۔؟؟ بالوں کو یونہی ڈھیلا چھوڑتے وہ واپس فضا کے پاس آبیٹھی۔
سنا ہے۔۔۔ شیری۔۔ واپس آگیا ہے۔۔؟؟ دھیرے سے کہتے بہن کے چہرے کے اتار چڑھاٶ بھی ملاحظہ کیے لیکن وہ بالکل سپاٹ چہرہ لیے ہوۓ تھی۔
تو کیا کریں۔۔؟ لاپروا انداز۔۔۔دور جا کھڑی ہوٸ۔
کیا تمہیں فرق نہیں پڑتا انا؟ فضا اٹھ کے اس کے پاس جا کے پوچھنے لگی۔
ہمارے لیے نہیں آیا۔۔ جن کے لیے آیا ہے۔۔ انہیں فرق پڑنا چاہیے۔ اب کی بار انداز میں تلخی تھی۔
بچیوں آجاٶ۔۔! خاتون بی بی بلا رہی ہیں۔ ناشتے پے۔
غفوراں جو انکی بہت پرانی ملازمہ تھیں۔ دنیا میں ان کا کوٸ نہ تھا یہیں رہتی تھیں۔ اور سب کام بھی کر دیا کرتی تھیں۔ لیکن گھر کے افراد انہیں ملازمہ نہیں گھر کا فرد ہی سمجھتے تھے۔
جی۔۔اماں۔۔ آپ چلیں ہم ابھی آۓ۔
فضا نے دوپٹہ پھیلا کے لیا۔ اور انا کو لیے باہر آٸ ۔ جہاں تقریباً سبھی جاگ رہے تھے۔
برسوں سے روایت تھی۔سلطان ہاٶس کی ۔ کہ سب مل کے ناشتہ کرتے تھے۔ جو آج بھی ویسے ہی چلی آرہی تھی۔ سواۓ شاہمیر سلطان کے وہ ہر اس بات کے خلاف جاتا جس سے بڑے منع کرتے۔ عجیب باغی طبعیت کا انسان تھا وہ۔
بہت مزے میں ۔۔ بس گولی ہی تو لگی ہے۔۔۔۔
صبح تیار ہوتا اچانک سے اسے اس لڑکی کے الفاظ یاد آۓ۔ تو سر جھٹکتے مسکرایا۔
آفتاب شیر خان مسکرایا۔ وہ جو آج تک کبھی نہیں مسکرایا۔ وہ مسکرایا تھا۔ کسی اجنبی لڑکی کی بات کو یاد کرتا۔
کوٸ نہیں ہے میرا۔۔۔!
خود پے پرفیوم کا اسپرے کرتے اچانک سے اس کے الفاظ یاد آۓ۔ تو دل بے چین سا ہوا۔ اگر۔۔ اسکا کوٸ نہیں تو۔۔۔؟؟ وہ کہاں گٸ ہوگی؟
یہی سوچ آتے فوراً سعدی کو فون کیا۔ اور اس لڑکی کے بارے میں پوچھا۔
سر وہ تو رات کو ہی ڈسچارج لے کے چلی گٸ تھی۔
کہاں۔۔؟ مطلب۔۔؟؟ کہاں ڈراپ کیا؟ اپنی بے چینی پے قا بو پاتے فوراً وضاحت کی۔
سر۔۔! انہوں نے مدد لینے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ اکیلی ہی گٸ ہیں۔
رات کو اکیلے کیوں جانے دیا۔ کوٸ۔۔ حادثہ۔۔؟؟ آفتاب نے لب بھنچے اور فون بند کر دیا۔
سعدی کو خان کا انداز آج بدلا بدلاسا لگا۔
کون ہوگی۔۔؟؟ کہاں گٸ ہوگی۔۔؟ آفتاب کے ماتھے پے دو بل واپس اپنی جگہ بنا چکے تھے۔
جاری ہے
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
قسط روزانہ رات 7 سے 8 بجے کے درمیان آجایا کرے گی۔
آپ کا رسپانس جتنا زیادہ اچھا ہوگا۔ سرپراٸز قسط کا بھی چانس بن سکتا ہے۔ 

کیا لگتا ہے۔۔ شہیر جاۓ گا۔۔؟ دی جے کو لینے؟ اور کیا ہوا ہوگا ماضی میں؟ سوچو جی سوچو۔
اپنا خیال رکھیں۔ دعاٶں میں میری امی کو یاد رکھیں۔ جزاك اللهُ

No comments:
Post a Comment