Thursday, 20 June 2024

تم میرے نکاح میں ہو EPISODE NO 3

 #تم_میرے_نکاح_میں_ہو


حد ہوگٸ۔ اب یہ لڑکا۔ میرے خلاف جاۓ گا۔۔۔؟؟ اپنی ماں کے خلاف؟ رافیہ بیگم کوکل رات سے غصہ تھا۔
خانم۔۔! میری مانیں تو۔۔ بیٹے کو پیار سے ہینڈل کریں۔ ورنہ۔۔ وہ ۔۔ باغی نہ ہوجاۓ۔۔۔پتہ تو ہے آپ کو۔۔گھر کےاندر ہی دشمنوں کا۔۔! ارباز خان نے منہ بنایا۔
بڑے خان!وہ میرا بیٹا ہے۔ شہیر خانزادہ۔۔! برسوں پہلے آپ نے اور آپ کی امی جان نے زبردستی اسکا نکاح کر دیا تھا۔ اپنی اس غریب بہن کی بیٹی سے۔
نخوت سے کہا۔
لیکن۔۔ بہت غلط فیصلہ کیا۔ یہ وقت نے ثابت کیا ۔
اور آج۔۔ عروج کو اسکی زندگی میں لانے کا میرا فیصلہ ہے جو بالکل درست ہے۔ وہ عروج کو ہی ڈیسرو کرتا ہے۔ ناکہ اس چھوٹے گھر کی آپ کی بھتیجی کو۔۔
دل میں زہر بھرا آج زبان پے آہی گیا تھا۔
وہ سب دی جے کی مرضی سے ہوا تھا۔ میری مرضی نہیں تھی۔ ارباز خان بھی بھڑکے۔
ان سے تو جان چھوٹی۔ اب بس اس نکاح سے جان چھڑانی ہے۔ دھیمے لہجے میں کہتی وہ ایک ادا سے خان کو دیکھنے لگیں۔
ہماری خانم تو جو کرتی ہیں کمال کرتی ہیں۔ ارباز خان ان کے پاس آۓ ۔ اور انکے ساتھ بیٹھتے انکا ہاتھ تھاما۔
دس سال چھوٹی تھیں وہ خان سے اور اپنی کٸیر بھی کچھ زیادہ کرتی تھیں۔ کہ اپنی عمر سے مزید چھوٹی دکھتی تھیں۔ ارباز خان کو اپنے حسن کا دیوانہ بنایا ہوا تھا۔ وہ جو کہتیں وہ پتھر پے لکیر ثابت کرتے۔ اور وہ بھی اپنے حسن کا اپنے شوہر سے اچھا خاصا فاٸدہ اٹھاتیں۔ ناز نخرے اٹھواتیں۔ اور ہر بات منواتیں۔
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
ارباز خان اور عباد خان دونوں سگھے بھاٸ تھے۔
دونوں کی شادی ایسی عورتوں سے ہوٸ جو پہلے سے ہی کزنز تھیں۔ اور ایک دوسرے سے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انکی آپس میں کبھی لگ نہ آٸ۔ اور عباد خان بھی اس وقت بھابھی اور بھاٸ کے ہتھے چڑھے۔ اور بھابھی کی باتوں میں آ کے اپنی بیوی مریم کو طلاق دے دی۔ اپنی ایک ماہ کی چھوٹی سی بچی کی بھی پرواہ نہ کی۔ اور انہیں دھکے دے کے گھر سے نکال باہر کیا۔ اور وہیں پھر رافیہ اپنی ہی سب سے قریبی سہیلی تبسم کو عباد کے لیے بیاہ کے لے آٸیں۔
یوں تو تبسم خان بھی طلاق یافتہ تھیں اور انکا ایک بیٹا تھا۔ لیکن رافیہ کی بھی اس میں چال تھی۔ وہ ایسی عورت لانا چاہتی تھیں۔ جو ان کے سامنے سر نہ اٹھا سکے۔ اور ان کے احسان کے نیچے دب کے رہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ آج چاہ کےبھی تبسم ان کے سامنے کھڑی نہیں ہوپاتی تھیں۔
لیکن اس سب میں ارباز خان اور عباد خان کا پیار دھیرے دھیرے ماند پڑتا چلا گیا۔ ان کی اکلوتی بہن جمیلہ خاتون جو فیاض سلطان سے بیاہی تھیں۔ انکا بھاٸ کےگھر آنا جانا بھی بہت کم ہوگیا ۔
خان ولا کے سارے چھوٹے بڑے فیصلے انہو ں نے اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔ یہی وجہ تھی۔ کہ بہن شسہ کے طلاق لینے کے بعد وہ اسے بی اسکی دونوں بیٹیوں کے ساتھ یہیں لے آٸیں تھیں۔ اور اپنا آپ مزید وہاں مضبوط کر لیا تھا۔
الغرض رافیہ خانم نے خان ولا میں اب تک عروج ہی عروج دیکھا تھا۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
ارے او۔۔۔ برخوردار۔۔بات سنیے۔۔۔! وہ جو آج اتوار ہونےپے صبح صبح باٸیک پےاپنے دوست کی طرف جا رہا تھا۔ اپنے پیچھے نواب صاحب کو آواز دیتا دیکھ رک گیا ۔
جی سلام پھپھاجان۔۔! چہرے پے بے زاری کو ایک طرف کر کے جواب دیا۔
وعلیکم آج۔۔ آپ ہمیں آفس تو چھوڑ دیں۔ دراصل ہماری گاڑی خراب ہوگٸ ہے۔ دو دن تک ٹھی ہو کے آجاۓ گی۔ تو آپ ہمیں چھوڑ آٸیں۔
بہت حق جتانے والے انداز میں کہا۔ تو شامی منع نہ کر سکا۔
بیٹھیں۔ باٸیک اسٹارٹ کرتا وہ بولا۔
ارے بھٸ آپ کا ہیلمٹ کہاں ہے؟ انکاپہلا اعتراض ۔
میں نہیں پہنتا پھپھاجان۔۔۔! دانت پیستے مسکر کےکہا۔
پہنا کریں بیٹا۔ یہ ہماری سیفٹی کے لیے ہوتا ہے۔
سیٹ پے اچھے سے بیٹھ جانے کے بعد شامی نے اپنےکان سی لیے۔ اور باٸیک اسٹارٹ کرتا ان کے آفس کے راستے پے ڈال دی۔
پندرہ منٹ کے راستےمیں دونوں ہی خاموش رہے ۔
یہ لیں۔ آگیاآپ کا آفس۔ ! باٸیک روکتے کہا۔
ہمممم۔۔۔ یہ لیں بیٹا۔! آپ کا کرایہ۔
پھپھاجان نے دوسو روپے شامی کی طرف بڑھاۓ۔
یہ۔۔۔؟؟ کیا ہے پھپھا جان؟ اسکے ماتھےپے بل پڑے۔
بیٹا۔۔رکھ لیں۔ یہاں تک آنے کاکرایہ ہے۔
شامی تو منہ دیکھتا رہ گیا۔ جبکہ وہ اسکی جیب میں پیسے ڈال کے جاتے واپس مڑے۔
بیٹا۔۔! بھلے ہم کنجوس ہیں۔ لیکن ہم کسی کا حق نہیں کھاتے۔ انکے لہجے میں دکھ تھا۔
کہنے کے بعد وہ رکے نہیں۔ جبکہ شامی لب بھینچتا رہ گیا۔
عابی کی بچی۔۔۔! چھوڑوں گا نہیں تمہیں۔
غصے سے باٸیک کو کک لگاتے اسٹارٹ کیا۔
اسے لگا عبیر نے حشنت صاحب کو سب بتایا۔ جو بات رات کو ہوٸ۔ جبکہ وہ یہ نہیں جانتا تھا۔ کہ وہ اتنا اونچا بول رہا تھا۔ کہ بہرہ بھی سن لے۔
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
ریمبو۔۔! چھوٹے خان کو بھی بلالاٶ۔
ناشتے کی ٹیبل پے سب کی موجودگی محسوس کرتے لیکن وہاں شہیر کو نہ پاکر رافیہ خانم نے گھر کے خاص سرونٹ کو کہا۔ جو ناشتہ لگا رہا تھا۔
خانم بی بی۔۔! وہ تو چلے گۓ۔ برجستہ جواب آیا۔
چلے گۓ۔۔؟؟ حیرانی سے شوہر کو یک نظر دیکھا ۔
لیکن کہاں۔۔؟؟ اتنی صبح صبح۔۔؟؟ گھڑی پے ٹاٸم دیکھا ۔
کہاں گۓ ہیں یہ تو پتہ نہیں۔۔! لیکن۔۔۔ان کے ہاتھ میں بیگ تھا۔
ریمبو نے مزید اطلاع دی۔
دانت پیستے شوہر کو دیکھا جو خود بھی پریشان نظر آۓ۔
تبسم جی۔۔! چاۓ پاس کیجٸے گا۔
عباد صاحب کا کھنکتا انداز ارباز خان کو سخت چبھا۔
رافیہ خانم فوراً ڈاٸننگ ٹیبل سے اٹھیں۔ اور شہیر کو کال ملاٸ۔ لیکن نمبر بند آرہا تھا۔
دیکھا آپ نے۔۔۔؟؟ بنا بتاۓ کہیں چلا گیا ہے۔۔۔
وہ جو ایک کونے میں کھڑیں کال ملا رہی تھیں۔ شوہر کے آنے پے دھیمی آواز میں ان پے بھڑکیں۔
دھیرج۔۔۔! خانم۔۔۔! دشمنوں کو خود پے ہنسنے کا موقع مت دیں۔ انہوں نے پیار سے سمجھایا۔
مجھے شام تک شہیر خانزادہ گھر کی دہلیز پے چاہیے۔ بڑے خان۔
پاس ہوتے دھیمے لیکن سخت انداز میں کہا۔
ایک مغرورانہ چال چلتا وہ سیڑھیاں اترا تھا۔ سب کی ہی نظر ایک لمحے کو اس پے اٹھی تھی۔ مردانہ وجاہت کا بھرپور شاہکار۔ تبسم خان نے دور سے ہی اسکی نظر اتاری۔ ماں کے قریب آتا وہ ان کے ساتھ والی چیٸر پے بیٹھا۔
رافیہ خانم نے منہ پھیرا۔ آج وہ یہاں اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتی تھیں۔ لیکن آج بھی وہی شخص انکی آنکھوں میں کھٹک رہا تھا۔ جبکہ تبسم خان آفتاب کو ناشتہ سرو کر رہی تھیں ۔ اور سارا آنکھوں ہی آنکھوں میں اس حسن کے مجسمے کو نہار رہی تھی ۔ جسے اللہ نے بہت ہی فرصت سے بنایا تھا۔
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
جہاز کراچی سے لاہور کے لیے اڑان بھر چکا تھا۔ اور شہیر خان بہت مطمیٸن انداز میں سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھا تھا۔
خوبصورت چہرے پے ایک خوبصورت مسکان تھی۔
ایک آسودگی۔ ایک یقین۔
دی جے۔۔۔۔! میں آرہا ہوں۔آپ کو لینے۔
گردن موڑ کے باہر اڑتےبادلوں کو دیکھا ۔
وہ آفتاب کی مدد سے پہلی فلاٸٹ سے کراچی سے لاہور پھوپھو کے گھر جا رہا تھا۔ گھر میں بنا کسی کو بتاۓ۔ کیونکہ وہ سچاٸ جاننا چاہتا تھا۔ بتا کر آتا تو۔۔ آنےکون دیتا۔۔۔؟؟ آنکھیں موندیں تو ایک معصوم اور غصیلا چہرہ آنکھوں میں آن سمایا۔ تو چہرے کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سی چمک آگٸ۔
بہت عرصہ پہلے دیکھا تھا۔ شاید نو یا دس سال کی ہوگی۔ نکاح کے وقت ہی دیکھا تھا۔ چہرہ پھولا ہوا۔ غصے سے لال بھبوکا ہوا۔۔ زبردستی نکاح کےپیپرز پے ساٸن کرتی وہ۔۔ آج بھی شہیر خانزادہ کو یاد تھی۔ لیکن۔۔ اب کیسی دکھتی ہوگی۔۔؟؟ جاکے ہی پتہ چلے گا۔۔۔۔
ان دیکھی انجانی سی۔۔۔
پگلی سی دیوانی سی۔۔۔
جانے وہ کیسی ہوگی؟
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
کیا سوچ کے تم نے گولی چلاٸ۔۔؟؟ تمہیں کیا لگا۔۔؟؟ آفتاب شیر خان کو مارنا اتنا آسان ہے کیا۔۔۔؟؟
سامنے ایک چیٸر پے اسے بٹھاۓ خود اسکے سامنے پر اسرار انداز میں بیٹھ وہ سامنے والے کے پسینے چھڑا گیا تھا۔
مجھھھھمجھے۔۔۔۔۔ معاف ک۔۔۔۔ردیں۔۔۔خان۔۔۔! غغغلللطططی۔۔۔ ہہوہوہ گٸ۔۔۔اس نے ہاتھ جوڑے۔ جبکہ اسکا چہرہ اچھا خاصا مار مار کے بگاڑا جا چکا تھا۔
آفتاب شیر خان کی لسٹ میں معافی کی کوٸ گنجاٸش نہیں۔
سپاٹ اور سرد لہجے میں کہتا وہ اس سارے وقت میں پہلی بار نظریں اٹھا کے سامنے والے کو دیکھا۔
آفتاب کے دیکھنےکی دہشت پے ہی وہ شخص اندر تک ڈر گیاتھا۔
اللہ کا واسطہ ہے خان !معاف کردو۔۔! میرے ۔چھوٹے چوٹے بچے ہیں ۔ میں پیسوں کی لالچ میں آگیا تھا۔ مجھے چھوڑ دو۔
وہ آفتاب کے قدموں میں گر کے روتاہوا گڑگڑانے لگا ۔
آفتاب نے سعدی کو اشارہ کیا۔ سعدی نے فوراً اسے وہاں سے اٹھایا۔ وہ روتا رہا۔ آفتاب وہاں سے باہر نکلتا آنکھوں پے گاگلز لگاۓ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھتا اپنے خفیہ ایریے سے نکلتا چلا گیا۔
جبکہ اس شخص کو ایک بلیک روم میں بند کر دیا گیا۔
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
دی جے۔۔! دواٸ کھا لیں۔ تا کہ آرام آجاۓ۔
انا نے انہثس سہارا دے کے اٹھایا ۔ اور دواٸ آگے کی۔
نہیں بیٹا۔۔! اب ان دواٸیوں سے نہیں آرام آنا۔ انہوں نے سرد آہ بھری۔
دی جے۔۔! آپ کیوں خود پے اتنا ظلم کر رہی ہیں؟ ایسے تو نہ کریں ناں۔۔ انابیہ کو بھی ان پے دکھ ہوا۔
دی جے نےایک دُکھتی نظر سے اسے دیکھا۔
ظلم تو ہوا ہے۔۔۔بہت ظلم ہوا ہے۔۔۔ کہتے ہوۓ انکی آنکھو ؟ثس آنسو آگۓ۔ ہاتھ آگے بڑھایا۔ انبیہ نے انکی ہتھیلی پے دو گولیاں رکھیں ۔ انہوں نے دواٸ لی ۔ اور واپس آنکھیں موندے لیٹ گٸیں۔ وہ اندر ہی اندر دکھ پال رہیں تھیں۔ سب جانتے تھے۔ وہ اپنے پوتے شہیر خانزادہ سے بے پناہ عشق کرتی تھیں۔ کہ اسکی خاطر خود کو روگ لیا۔
جان تو وہ بھی چھڑکتا تھا۔ لیکن وقت اور حالات نے اسے ان سب سے دور کر دیا تھا۔ غلط فہمی نہ تھی۔ بس ایک دکھ تھا۔ جو انہیں اندر ہی اندر گھاٶ لگا رہا تھا۔
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
تپتی دھوپ میں وہ ایک بازو میں پٹی ڈالے گلے میں لٹکاۓ اس بڑی سی بلڈنگ کے سامنے کھڑی تھی۔
خان انٹرپراٸز۔۔۔! بورڈ پے لکھے الفاظ پڑھتے وہ بلڈنگ کے اندر داخل ہوٸ۔ اندر آتے ہی ایک دم سے ٹھنڈک کا احساس جاگا۔
پوری بلڈنگ ہی ٹھنڈک میں لپٹی ہوٸ تھی۔
لب بھینچے وہ ریسپشنسٹ کی جانب بڑھی۔
ایکسکیوز می۔۔! مجھے آفتاب شیر خان سے ملنا ہے۔ پورے اعتماد سے کہتی وہ ریسپشنسٹ کو چونکا گٸ۔
میم۔۔۔! یو ہیو اپاٸمنٹ۔۔۔؟؟ شاٸستہ لب و لہجہ۔ پیشہ ورانہ انداز میں وہ بولی۔
یہ کارڈ۔۔۔! انہوں نے دیا تھا۔ایک کارڈ اس لڑکی کی جانب بڑھایا۔
اس نے پہلے کارڈ دیکھا پھر اس لڑکی کو۔
وہ کارڈ ہر ایک کو نہیں ملتا تھا۔ آفتاب کے بہت خاص لوگوں کے پاس ہی وہ کارڈ ہوتا تھا۔
اوکے میم۔۔پلیز ویٹ کرلیں ۔ سر ابھی آفس نہیں آۓ۔
کارڈ کو واپس تھماتے وہ اسی جھوٹی مسکان کے ساتھ کہتی اپنے کام میں واپس لگ گٸ۔
کارڈ واپس لیتی وہ اب منہ بنا کے وہیں ایک چیٸر پے بیٹھی۔ آفتاب کا انتظار کرنے لگی۔
تم۔۔۔ تم ۔۔ یہاں کر رہی ہو۔۔؟؟ تیز آواز سماعت سے ٹکراٸ تو اس نے سر اٹھایا۔
ایک پل کو تو دل بری طرح لرزا۔ لیکن اگلے ہی پل خود کو سنبھال لیا۔
تم سے پوچھا ہے۔ یہاں کیا کررہی ہو۔۔؟ عظمی غصے سے اسکی جانب بڑھی۔
آپ کو پوچھنے کا حق کس نے دیا۔۔؟ اسی کےانداز میں جواب دیا۔
ہونہہہ۔۔۔۔ میرے بھاٸ کا آفس ہے یہ۔۔ آفتاب شیر خان۔۔ بھاٸ ہے میرا۔۔۔ سمجھی تم۔۔ اور بتاٶ۔۔ا ب کیوں آٸ ہو یہاں۔۔؟؟
سخت ترین انداز کنول پے تو گڑوں پانی پڑ گیا۔
نظریں ادھر ادھر گھماٸیں۔ اور وہاں سے نکلنا چاہا۔ کہ عظمی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف جھٹکا دیا۔
میرے سوال کا جواب دیٸے بنا نہیں جا سکتی تم۔۔ غعراتے ہوۓ کہا۔
پہلی بات۔۔۔! یہ آفس آپ کےبھاٸ کا ہے۔۔ آپ کا نہیں۔۔ اور نہ ہی میں آپ کے کسی سوال کے جواب کی پابند ہوں۔ دوسری بات۔۔ مجھے پتہ ہوتا یہ آپ کے بھاٸ ہیں۔تو میں یہاں کبھی نہ آتی۔
ہر لفظ چبا چبا کے کہتی وہ جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا گٸ۔ اور جانے کے لیے پلٹی کہ سامنے آفتاب شیر خان پے نظر پڑی۔
اپنی گاگلز اتارے وہ ان دونو ں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ جبکہ اب وہ دونوں خاموش نظروں سے آفتاب کو۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
فیاض بیٹا۔۔۔اور شہباز بیٹا۔۔۔! آپ دونوں ہی نے مجھے بہت عزت اور مان بخشا ہے اپنے گھر میں۔
دیجے نے فیاض سلطان کاہاتھ تھامےکہا۔
آپ کا اپنا گھر ہے۔ دی جے۔ ! فیاض صاحب پیار سے بولے۔
تھیں تو وہ ساس لیکن ماں کا درجہ دیا تھا فیض صاحب نے بھی اور انکے بڑے بھاٸ شہباز نے بھی۔
بیٹا۔۔! اسی مان اور عزت کی وجہ سے میں یہاں ہوں۔ میرا حق تو نہیں۔۔ لیکن۔۔ میں چاہتی ہوں۔ کہ اب۔۔ میکال اور فضا کی شای ہوجانی چاہیے۔بیٹا۔
انہوں نے دل کی بات کہہ ہی دی۔
دونوں بھاٸیوں نے إک دوسرے کی شکل دیکھی۔
دی جے۔۔۔! آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر۔ جب آپ کہیں۔
شمسہ بیگم پاس بیٹھیں باتوں میں حصہ لیا۔
خوش رہو میرے بچو۔ دی جے نے مسکراتے ہوۓ ان سب کو دیکھا۔
شادی۔۔ ای ماہ کے آخر میں رکھ لیتےہیں۔ میکال کو چھٹیاں بھی ہیں۔ تو کوٸ مسٸلہ بھی نہیں ہوگا۔
شہباز صاحب نے راۓ دی۔
کس باتکا مسٸلہ بابا جان؟ اسلام علیکم ۔۔۔! میکال کی اچانک آمد پے وہ سب چونکے۔
وعلیکم سلام۔۔ بیٹا۔۔ آٶ آٶ۔۔۔ آپ ہی کی بات ہورہی تھی۔
سلام کرتا وہ دی جےکے پاس جا بیٹھا۔
آپ کی طبعیت کیسی ہے اب؟
وہ د جے کی بیمار پرسی کے لیے آیا تھا۔
چنگی بھلی ہوں بیٹا۔۔۔! ایک دم فٹ۔ دی جے مسکراٸیں۔
ہم آپ کی اور فضا کی شافی کی بات کر رہے تھے۔ کہ اسی ماہ کے آخر میں شای کر لیتے ہیں۔
شمسہ بیگم نے میکال سے کہا۔
میکال نے گہرا سانس خارج کیا۔ جو دی جے کہیں۔
دی جے کا ہاتھ تھامے میکال نے کہا تو سب کے چہرے پے مسکراہٹ دوڑ گٸ۔
میں۔۔ مٹھاٸ لے کے آتی ہوں۔ جمیلہ خاتون نے خوش ہوتے اٹھتے کہا۔ سبھی ایک دم خوش ہوگۓ تھے۔ میکال کے چہرے پے بھی ہلکی ہلکی سماٸل تھی۔ شمسہ بیگم نے میکال کا ماتھا چوما۔ وہ بھی بہت خوش تھیں۔ وہ خود بھی یہی چاہتیں تھیں۔
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
مبارک ہو بہت۔۔ بہت۔۔آپی۔۔۔! فاٸنلی۔۔ آپ کی رخصتی کی ڈیٹ تو فکس ہوٸ۔
انا نے فضا کو آکے مبارک باد دی۔ ابھی وہ کچن میں ماں سے اس بابت سن کے آٸ تھی۔
کیا سچ میں؟ فضا نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید پھیلاٸیں۔
جی بالکل۔۔۔۔! اب ہر ٹینشن فری۔ انا بہن کے لیے بہت خوش تھی۔
اور فضا کو گلے لگایا۔ فضا کا دل بہت سخت دھڑک رہا تھا۔ میکال سے ویسے بھی وہ شرماتی گھبراتی رہتی تھی۔ بلکہ دور دور ہی رہتی تھی۔ عجیب سڑی طبعیت کا انسان تھا۔ ایسا فضا کا سوچنا تھا۔ جبکہ باقی سب کی راۓ اس سے مختلف تھی۔ وہ سب کا خیال رکھنےوالا فرمانبردار بیٹا تھا۔ کم گو۔ اور صرف ضرورت کی بات کرنے والا۔ لیکن کیٸرنگ تھا۔
اب پیار کےمعاملے میں وہ کیسا تھا۔ اسکا تو سوچتے ہی فضا کی ہتھیلیوں میں پسینہ آنے لگا۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
پلیز۔۔ آپ دونوں بیٹھ جاٸیں۔
آفتاب ان دونوں کو اپنے آفس روم میں لے آیا تھا۔ جہاں آفتاب کو اس لڑکی کو دوبارہ دیکھ ایک خوشی کا احساس جاگا تھا۔ وہیں بہن کو اسکے ساتھ اسطرح کا رویہ کرتا دیکھ عجیب لگا تھا۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھے جا رہی تھیں ۔
عظمی کی آنکھو ںمیں غصہ تھا۔ جبکہ اس لڑکی کی آنکھیں بالکل سپاٹ تھیں۔
مجھے جانا ہے یہاں سے۔ وہ لڑکی لب بھینچے بولی۔
تم۔۔۔۔؟؟ عظمی نے انگلی اٹھاٸ۔
عظمی۔۔۔! تم گھر جاٶ۔ وہیں آکر بات ہوگی تم سے۔
آفتاب نے عظمی کے غصہ کو دیکھتے اٹھتے ہوۓ اسکی بات کو بیچ میں ہی ٹوکتے کہا۔
عظمی نے گہرا سانس خارج کیا۔ ایک قہر کی نظر سامنے کھڑی لڑکی پے ڈالی۔ اور باہر نکل گٸ۔
وہ یہاں کہنے تو کچھ آٸ تھی۔ جو بہت اہم تھا۔ لیکن سامنے کنول کو دیکھ وہ سب بھول گٸ تھی۔ جبکہ وہ سب اسے آفتاب کو نتانا بہت ضروری تھا۔ جو وہ بتانے آٸ تھی۔
عظمی آفتاب کی سوتیلی بہن تھی ۔
شیر خان نے تبسم خان کو طلاق دینے کے بعد دو شادیاں اور کی تھیں اور دونوں شادیوں میں اسکی تین بیٹیاں ہوٸ تھیں۔ بیٹا نہ تھا ۔
آفتاب نے اس گھر سے تو کوٸ تعلق نہ رکھا تھا۔ لیکن اپنی بہنوں سے تعلق نہ توڑ سکا۔ یہی وجہ تھی۔ کہ وہ عظمیکی شادی میں بھی شرکت کرنے گیا تھا۔ تبسم خان کی اجازت سے۔ اور تبسم خان کو بیٹے کی یہی عادت اچھی لگتی تھی۔ کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا ۔ اورنہ ہی کس رشتےمیں جھوٹ کی ملاٹ برداشت کرتا تھا۔
بیٹھیں پلیز۔۔۔! آفتاب نے کنولکو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ تو وہ چپ چاپ بیٹھ گٸ۔
کیسی ہیں آپ؟ آفتاب نے اسے گہری نظروں سے جانچا۔
ٹھیک ہوں۔ آپ کاکارڈ واپس لوٹانے آٸ تھی۔ کنولنے اسکا دیا ہوا کارڈ ٹیبل پے رکھا۔ آفاب نے ایک نظر کارڈ اور دوسری نظر اسکے سپاٹ چہرے پے ڈالی۔
بس۔۔؟؟ یہی کارڈ لوٹانا تھا؟ آفتاب کو وہ پراسرار سی لڑکی اپنی طرف کشش کر رہی تھی۔
جی۔۔۔! کنول اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸ۔
عظمی کو جانتی ہیں آپ ؟ آفتاب کے اچانک سوال پے کنول کی نظریں اس سب کے دوران پہلی بار اس شخص پے اٹھیں تھیں۔ کہ پلٹنا بھول گٸ تھیں۔ وقت تھا کہجیسے وہیں تھم گیا ہو۔۔ نظروں نے پلٹنے سے انکار کردیا ۔
دعا بھی لگے نہ مجھے
دوا بھی لگے نہ مجھے
جب سے دلکو میرے تو لگا ہے
نیند راتوں کی میری
چاہت باتوں کی میری
چین کو بھی میرے تونے یوں ٹھگا ہے
جب سانسیں بھروں میں
بند آنکھیں کروں میں
نظر تو یار آیا
دل کو قرار آیا۔۔۔
تجھ پے ہے پیار آیا
پہلی پہلی بار آیا۔۔
آفتاب اٹھ کے چلتا ہوا سکےپاس آیا۔ جبکہاسکے دل کی دھڑکنوں نے عجیب سا شور مچایا وہ ان فسوں خیز لمحوں سے نکلنےکی کوشش میں اندر ہی اندر اپنی توح کو لہو لہان کر رہی تھی ۔ لیکن نہیں نکل پاررہی تھی۔
جاب کریں گیں یہاں؟ اسکی کالی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ پوچھا۔
یہی تو وہ چاہتی تھی۔ اور اسی لیے تو وہ یہاں آٸ تھی۔ لیکن عظمی کو دیکھ کے وہ اپنا ارادہ بدل چکی تھی۔
آنکھیں موند کے پھر سے کھولیں ۔
مجھےلگتا ہے مجھے یہاں سے جانا چاہیے۔
کہتےہی کنول باہر کا رخ کیا۔ کہ آفتاب نے اسکا راستہ روک لیا۔
کل سے جواٸن کر لیں۔ آفتاب اسکی کالی آنکھوں کا وہ گہرا راز جاننا چاہتا تھا ۔ ایک عجیب سی کشش تھی اسکی آنکھوں میں۔ جو اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
کنول نے بہت مشکل سے اپنی بھاریوتی پلکوں کو اٹھایا۔
دل کو قرار آیا۔۔!
اور ایک لمحے کی دیری کیےبنا وہاں سے باہر نکلتی چلی گٸ۔
آفتاب کو سعدی کے توسط اس لڑکی کے بارے میں معلوم ہو چکا تھا۔
جس ریسٹورینٹ میں یہ میٹنگ اٹینڈ کرنے گیاتھا۔ یہ ہاں ویٹرس تھی۔ اور ج وقت گولی چلی۔ یہ وہاں سے چھٹی کے وقت باہر نکل رہی تھی۔
مزید براں ریسٹورینٹ کے مالک نے اسے جاب سے بی نکال دیا تھا۔ کہ وہ ایک ہاتھ سے کیاکرے گی ۔ اور اسکے کام کا حرج ہوگا۔ تو وہ کسی اور کو رکھ چکا تھا۔ ہاسٹل میں رہتی تھی۔ اور اب جاب لیس تھی۔ اسکا یہاں آنا۔۔ نوکری کی وجہ سے ہی تھا۔ آفتاب کو اندازہ ہوگیا تھا۔
لیکن رظمی کو دیکھ وہ اپنا ارادہ بدل گٸ تھی۔
عظمی کےساتھ اسکا کیالنک تھا۔ یہ اب عظمی سے ہی پتہ چلنا تھا۔
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
وہ اپنے مطلبوہ ایڈریس پے پہنچ چکا تھا۔ اب گلبرگ کے ایریا میں کھڑا وہ سلطان ہاٶس ڈھونڈ رہا تھا۔
جو کچھ ہی تگ و دو کے بعد اسے مل گیا تھا۔
کاندھے پے بیگ لٹکاۓ وہ اپنیمنزل کیجانب بڑھا۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
آنٹی ہماری بال آٸ ہے۔ پلیز دے دوناں۔۔؟؟
بچوں نے دروازے سے شور مچایا۔
دو دفعہ وہ بال دے چکی تھی۔
یہ آخری بار ہے۔ اب اگر دوبارہ آٸ تو نہیں دوں گی۔
اب دروازہ کھولتے انکو غصے سے سنا کے واپس بال تھماتے وہ اندر بڑھی۔ اور غصہ میں ہی دروازہ بند کرنا بھول گٸ۔
فضا پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ جب انابیہ کو اسے یکھ شرارت سوجھی۔ اپنا غصہ ٹھنڈا کرتی وہ فضا کی جانب بڑھی۔ جس نے ایک بار بھی دروازہ کھولنے کی زخمت نہ کی تھی۔ بدلہ تو بنتا تھا ناں۔
اوہو۔۔۔ آپ کو توپودوں کو پانی دینا بھی نہیں آتا۔۔ ایک منٹ۔۔ میں بتاتی ہوں۔ کیسے پانی دیتے ہیں۔ پودوں کو۔
انابیہ نے پانی کاپاٸپ فضا کے ہاتھ سے لیا۔ اور اس پے پانی کے پاٸپ کا رخ کیا وہ پوری بھیگ گٸ۔ جبکہ انا اپنا کام کرتی بھاگی تھی۔ فضا منہ کھولے اسے دیکھتی پانی کا پاٸپ اٹھاۓ اسکے پیچھے بھاگی تھی۔ جبکہ وہ پانی سے بچنے کے لیے پیچھے دیکھتی اور آگے اندھا دھند بھاگتی دروازے سے اندر آتے شہیر سے بری طرح ٹکراٸ تھی ۔ ٹکرا کے واپس پیچھے ہوتی وہ گرنے لگی تھی کہ شہیر نے اسکی کمر میں بازو ڈال اسے گرنے سے بچا لیا۔ جبکہ فضا ادھر ادھر دیکھے بنا ان پے پانی کی بوچھاڑ کیے جا رہی تھی۔ بدلہ لینا تھا ناں۔۔ تو دیکھا کہاں کہ۔۔ کون بھیگ رہا ہے کون نہیں
سورج ہوا مدھم ۔۔۔
چاند جلنے لگا۔۔۔
آسماں یہ ہاۓ۔۔۔
کیوں پگھلنے لگا۔۔۔؟؟
میں ٹھہری رہی۔۔
زمیں چلنے لگی۔۔۔
دھڑکا یہ دل سانس تھمنے لگی۔
وہ شہیر کے ہاتھوں سے بے جان ہوتی پھسلنے لگی تھی۔ کہ شہیر نے اسے مزید اپنے قریب کرتے خود سے لگایا۔ پانی ابھی بھی بارش کی طرح ان پے برسے جا رہا تھا۔ اور وہ اردگرد سے بے خبر ایک دوسرے کو دیکھتے دل کی دھڑکنوں کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔
ایک دم انابیہ ہوش میں آتی کرنٹ کھاتی پیچھے ہٹی۔ جبکہ فضا کا اب وہاں نام و نشان تک نہ تھا۔
اپنی حالت کےپیشِ نظر وہ بے انتہا شرمندہ ہوٸ۔ جبکہ شہیر خانزادہ کی نظریں ایک لمحے کو بھی اسکے پھولے گالوں سے نہ ہٹیں تھیں۔ دل نے ایک بیٹ مس کی۔
انابیہ شہیر خانزادہ۔۔۔۔! زیر لب وہ بڑبڑایا ۔
لوفر۔۔۔۔۔! وہ بھی اسی کے انداز مثس ماتھےپے بل ڈالےاسے دیکھتی بڑبڑاٸ۔
غصہ تو اسے خود پے تھا۔ کہ دروازہ بند کرنا کیسے بھول گٸ۔ ؟
اندر سے آتی آوازوں پے وہ ہوش میں آٸ ۔ وہ سب باہر آرہے تھے۔ایک غصہ کی نظر سامنے والے پے ڈال وہ پلک جھپکتےوہاں سے غاٸب ہوٸ۔ شہیر خانزاہ اپنے سر پے ہاتھ پھیرتا بالوں سے پانی صاف کرتا۔ اپنے پورے بگڑے حلیے کو دیکھتا مسکرایا تھا۔
جاری ہے۔
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
لانگ قسط بھی چاہیے۔پھر روز روز بھی چاہیے۔۔۔؟؟
😒😒😒😒
رسپانس مجھے چاہیے۔۔ وہ بھی اچھا سا چاہیے۔۔۔
تو سوچا جا سکتا ہے۔ اچھے اچھے کومنٹ کریں۔ یقین جانیں آپ کا ایک next کہنا بھی میرے لیے بہت اہم ہے۔
میں جواب نہیں دیتی کومنٹ کا۔ لیکن ۔۔پیارے ریڈرز۔ میں سب کے کومنٹ لازمی پڑھتی ہوں۔ اسلیے کرتے رہیں۔
خوش رہیں آباد رہیں۔
جزاك اللهُ‎

No comments:

Post a Comment