Saturday, 21 October 2023

قسم سے یا میں تمہارا Episode No 5

قسم_سے_یارا_میں_تمہارا

عائشہ_ذوالفقار 

پانچویں قسط 


سہام اور انشرہ کی منگنی پورا ایک ماہ رہی اور اس ایک ماہ میں ان دونوں کا وہ دھواں دھار عشق چلا کہ کیا کہیں... سہام ان دنوں ہاؤس جاب کر کہ فارغ تھا اور ایم او شپ کر رہا تھا,  انشرہ بھی ہاؤس جاب کر کہ آ چکی تھی سو فارغ تھی,  سہام کی گاڑی ہوتی اور گاڑی میں وہ دونوں... شادی سے پہلے ہی ہنی مون کی ساری کسر پوری ہو گئی تھی,  سمعیہ نے تو گن گن کر دن گزارے اور جیسے ہی مہینہ پورا ہوا,  شادی کی تاریخ طے کر دی,  اس بار طاہرہ بیگم کا واویلا کسی کھاتے میں نہیں تھا, گھر میں گہما گہمی سی مچ گئی, روز بازار کے چکر لگتے,  ہال بک کروا لیا گیا,  سہام کی شاندار سی بری تیار ہوئی,  طاہرہ بیگم بھی کسی سے کم نہیں تھیں,  انشرہ کا فرنیچر دیکھنے لائق تھا

اس دن بھی انشرہ پارلر سے آئی تھی,  پرسوں اس کی مہندی تھی,  طاہرہ بیگم اسے بازو سے کھینچ کر اندر لے گئیں اور دروازے کی کنڈی لگا دی

"کیا ہو گیا امی ؟" وہ حیرانی سے بولی

"میری بات سن... دھیان سے,  تیرے ابو کی کال آئی تھی,  انہوں نے دبئی میں ایک رشتہ دیکھا ہے تیرے لئے " طاہرہ بیگم نے اس کے سر پر بم پھوڑا

"امی... " وہ مارے صدمے کے کچھ بول نہ سکی

"میری بات سمجھ انشرہ... کیا ہے سہام کے پاس سواۓ ایک ڈاکٹری کی ڈگری کے,  کل کلاں کو کتنا کما لے گا ؟ میں تو سہام سے تیری شادی کرنے پر راضی ہی نہیں تھی, بھائیوں نے مجبور کر دیا" وہ کہتی چلی گئیں 

"امی,  کوئی خدا کا خوف کریں,  آپ کو اس وقت یہ سب یاد آ رہا ہے,  پرسوں مہندی ہے میری" وہ چیخ پڑی 

"آہستہ بول,  بات سن میری,  میں نے تیرے باپ کو انکار نہیں کیا ہے ابھی,  وہ تھوری دیر تک کال کر کہ فائنل بتائیں گے,  اگر مجھے رشتہ اچھا لگا تو چپ چاپ میری ہاں میں ہاں ملاۓ گی تو,  سمجھی" وہ بولیں

"اور آپ کے بھائی... انہیں کیا کہیں گی؟" اس نے پوچھا 

"انکار کر دوں گی اور کیا... سمعیہ ویسے بھی آجکل کچھ زیادہ ہی اونچا اڑنے لگی تھی" طاہرہ بیگم ہنسیں 

"امی,  یہ ساری بکواس اپنے دماغ سے نکال دیں,  میں نے سہام سے ہی شادی کرنی ہے" انشرہ کو غصہ آ گیا

"چپ کر,  بڑی آئی سہام کی دیوانی... " طاہرہ بیگم نے اس کے ایک لگائی 

"ساری عمر ان دونوں بہنوں نے میرے اوپر راج کیا ہے,  میں تو مراد اور فاطمہ کی شادی کے حق میں بھی نہیں تھی لیکن مراد اڑ گیا,  دونوں بہنیں مزے سے پورے گھر پر قبضہ جما کر بیٹھ گئیں,  سینے پر سانپ لوٹتے ہیں میرے جب دھڑا دھڑ دوکان کے پیسے پر عیش کرتی ہیں... " طاہرہ بیگم شعلے اگل رہی تھیں

"تو آپ نے کونسا عیش نہیں کی امی,  ان سے زیادہ بڑا گھر ہے آپ کا,  ان سے زیادہ ریل پیل ہے پیسے کی,  ان سے زیادہ بڑی گاڑی ہے آپ کے پاس... بس کریں امی,  اب آپ فاطمہ اور سمعیہ کا بدلہ مجھ سے اور سہام سے تو نہ لیں" انشرہ نے کہا

"پرے ہو... خاک ہے میری پاس,  جب شوہر ہی پاس نہیں تو فائدہ.. چار,  چار سال بعد چکر لگاتا تھا تیرا باپ بس مہینے دو مہینے کے لئے... اور وہ دونوں بہنیں شوہروں کے دلوں پر راج کرتی تھیں" ساری جلن ہی یہ تھی

"امی بس کریں... پرسوں میری مہندی ہے,  ڈرامے نہ کریں" وہ تنگ آ کر اٹھ کھڑی ہوئی لیکن طاہرہ بیگم ٹھان چکی تھیں,  سمعیہ سے تو انہیں خدا واسطے کا بیر تھا,  ان سے ضد لگا کر وہ فاطمہ کو اس گھر میں لے آئی تھیں, ہمیشہ ان کے بھائیوں نے طاہرہ کی شعلہ اگلتی زبان کے آگے بیویوں کا ساتھ دیا,  بس یہ ہی کسک تھی,  اب بھی بس سمعیہ کو نیچا دکھانا تھا,  وہ اگر بیٹے کی ضد کے ہاتھوں مجبور تھی تو اس بیٹے کو مہرہ بنا کر ہی اسے ہرانا تھا,  رات کو وہ پھر انشرہ کے کمرے میں چلی آئیں 

وہی رٹ... دبئی کا رشتہ... کروڑ پتی لوگ... اکلوتا لڑکا

انشرہ فٹ فٹ اوپر اچھل رہی تھی,  انتہائی مارے باندھے وہ مہندی میں شامل ہوئیں, ان کا چہرہ سوجا پڑا تھا

باقی سب خوش تھے... سب سے زیادہ انشرہ

ملاحم نے کل پہنچنا تھا,  فنکشن ختم ہوتے ہوتے رات کے بارہ بج گئے,  انشرہ سونے لگی تھی جب طاہرہ بیگم اسے کے کمرے میں آئیں 

"امی... آپ کچھ نہیں کہیں گی" وہ انگلی اٹھا کر بولی

"ہاں... بالکل صحیح,  اب بس میں کر گزروں گی" 

..........................

وہ کچن میں تھی جب اس کا سیل بجا, وہ دودھ کے نیچے آنچ مدھم کر کہ باہر نکلی اور ماہر کے ہاتھوں سے موبائل لے لیا

"ہیلو... کون ؟" نمبر انجان تھا

"کیسی ہو ؟" وہی مانوس سی, ملیح سی آواز

"ٹھیک ہوں" وہ دھیمے سے بولی

"میں اور ماحن فن لینڈ جا رہے ہیں,  چلو گی ؟" اس نے پوچھا 

"میرا دل نہیں کر رہا ملاحم" وہ بیزاریت سے بولی,  ملاحم دھیرے سے مسکرا دیا,  گزرے پانچ سالوں میں وہ اس کی بات رد کرنا بھی سیکھ گئی تھی

"میرے کہنے پر بھی نہیں چلو گی ؟" یہ اس کا آخری پتا تھا

ملاحم... " وہ بے بس سی ہو گئی 

"بچوں کی آؤٹنگ ہو جاۓ گی ساریہ,  سعدیہ آپی کے بچوں کو بھی لے چلتے ہیں" ملاحم نے اس کی مشکل آسان کی

"آ جاؤ پھر... " وہ بادل نخواستہ بولی تھی

"بس دس منٹ... " اور واقعی دس منٹ بعد وہ اس کے گھر کے سامنے تھا, وہاں پہنچ کر اسے ساریہ کے دائیں بائیں صرف چار عدد بچے ہی نہیں ہادیہ اور حاشر بھی کھڑے نظر آ گئے 

"ہاۓ ملاحم بھائی... ہم بھی تو دیکھیں کہ جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھنا کیسا لگتا ہے" وہ دونوں بچوں سے پہلے اندر تھے,  ساریہ کے لئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ مسکرا دیا,  ماحن اس کی گود میں ہی بیٹھا تھا 

"اسے مجھے دے دو,  ڈرائیو کیسے کرو گے ؟" ساریہ نے اسے گاڑی سٹارٹ کرتے دیکھا تو پوچھا 

"میں پچھلے تین سال سے ایسے ہی گاڑی چلا رہا ہوں" اس نے ماحن کے دونوں ننھے ننھے ہاتھ سٹیرنگ پر رکھے تھے, ساریہ نے سر جھکا لیا

وہاں پہنچ کر بچے ہادیہ اور حاشر کے ذمے تھے... ظاہر ہے اب ان کے آنے کا کوئی تو مصرف ہوتا... ماحن اور ماہر تو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کرن ارجن بن چکے تھے,  منسا ہادیہ کی گود میں تھے,  سعدیہ کے دونوں بیٹے خود کو کسی باس سے کم نہیں سمجھ رہے تھے, آدھا پونا گھنٹہ بچوں کے پیچھے پھرنے کے بعد ساریہ ایک بینچ پر بیٹھ گئی

"یہ لو... " ملاحم سب کو آئس کریم دے کر آیا تھا 

"ملاحم... مجھے سچ میں نہیں کھانی" وہ بولی

"کیوں...؟

"It's your favorite flavor,  I remember "

"پانچ سال کافی ہوتے ہیں بندے کی پسند ناپسند بدلنے میں" ساریہ نے کہا

"آئس کریم کا فلیور بھی ؟" وہ اچنبھے سے بولا,  ساریہ نے جھلا کر اس کی طرف دیکھا,  اس نے ایک بار پھر کپ ساریہ کی طرف بڑھا دیا,  ساریہ نے بادل نخواستہ کپ اس کے ہاتھوں سے لے لیا

"ساریہ... " وہ اس کے برابر بیٹھتے ہوئے دھیرے سے بولا

"ایک بات پوچھوں ؟" ساریہ نے اثبات میں سر ہلا دیا

"مجھے کیوں نہیں بتایا ؟" ملاحم نے پوچھا 

"کیا ؟"

"سہام اور انشرہ کی شادی کا..."

"سہام نے صرف اس سے شادی کی تھی ملاحم... مجھے طلاق نہیں دی تھی" ساریہ حد سے زیادہ تلخ ہو چکی تھی

"اور اگر بالفرض دے بھی دیتا... تب بھی میں تمہیں کیوں بتاتی ؟... اور بتا کر کیا کہتی... ؟ کہ ملاحم سعد اب واپس آ جاؤ... اور آ کر اپنا لو مجھے, اب آ جاؤ کہ مجھ سے جس جس کی جو جو غرض منسوب تھی وہ پوری ہو گئی,  باپ اور تایا کا سر اونچا ہو گیا,  ماں اور تائی کا مان پورا ہو گیا,  انشرہ کے جانے سے سہام کی زندگی میں جو کمی آ گئی تھی وہ پوری ہو گئی..." وہ کہتی چلی گئی 

"ہاں تو کہہ دیتیں... یہ ہی سب کہنا تھا ساریہ,  بس اتنا ہی تو کہنا تھا کہ ملاحم سعد اب واپس آ جاؤ" اس کے نزدیک سب کتنا آسان تھا, ساریہ پھیکا سا مسکرا دی

"میں آج بھی اس کی بیوی ہوں ملاحم... اس کے دو بچوں کی ماں" ساریہ نے کہا

"تو پھر ہنستی کیوں نہیں ہو ساریہ مراد... مجھے ایک ماہ ہو چلا ہے واپس آۓ اور اس ایک ماہ میں بھول کر بھی تمہارے لبوں پر مسکراہٹ نہیں دیکھی,  اس کی بیوی ہو تو بیویوں والا سکھ کیوں نہیں ہے تمہارے چہرے پر... ؟ دو بچوں کی ماں ہو تو ماؤں والا غرور کہاں ہے تمہارا ؟ " وہ کہتا چلا گیا,  ساریہ خاموش تھی... بالکل خاموش

"یاد کرو ساریہ... کیا وعدہ لیا تھا میں نے تم سے... ؟ " اس نے پوچھا 

"رشتوں کو معتبر کرتے کرتے مجھے بھلے ہی بھلا دینا ساریہ مراد لیکن خود کو نہیں... کبھی بھی نہیں" ساریہ کو یاد تھا

"تو پھر... کہاں گیا وہ وعدہ ؟" ملاحم مسلسل اسے دیکھ رہا تھا,  ساریہ نے آئس کریم کا کپ بنچ پر رکھا اور کھڑی ہو گئی,  ملاحم نے دیکھا تو آئس پگھل کر پانی بن چکی تھی,  اس نے ایک چمچ بھی نہیں کھایا تھا

"رشتوں کو معتبر کرتے کرتے انہی میں کہیں ختم ہو گیا" 

........................

صبح تقریباً چھ بجے وقت تھا جب انشرہ کے کمرے کا دروازہ بجا,  وہ بیچاری رات بارہ بجے کی سوئی اتنی صبح کیسے اٹھ جاتی... اٹھتے اٹھتے بھی دس,  پندرہ منٹ لگ گئے 

دروازہ کھولا تو سامنے طاہرہ بیگم کھڑی تھیں

"کب سے دروازہ بجا رہی ہوں... بہری ہے کیا؟" وہ تڑخ کر بولیں

"کیا ہو گیا ؟" انشرہ کو نیند چڑھی پڑی تھی 

"چل میرے ساتھ... تیرے ابو آ رہے ہیں دبئی سے,  انہیں لینے جانا ہے" طاہرہ بیگم نے اس کا ہاتھ پکڑا

"ابو... اس وقت... انہوں نے تو آنا ہی نہیں تھا" انشرہ طاہرہ بیگم کے ساتھ ساتھ گھسیٹتی جا رہی تھی

"اب آ رہے ہیں تو کیا روک دوں... چل انہیں لیکر آئیں ائیر پورٹ سے" گاڑی دروازے پر تیار کھڑی تھی

"لیکن امی... اتنی ایمرجنسی میں... سب ٹھیک تو ہے" انشرہ کو طاہرہ بیگم کی بات قطعی ہضم نہیں ہو رہی تھی

"انشرہ... چپ کر جا" طاہرہ کو اس پر رات سے شدید غصہ تھا, وہ بادل نخواستہ چپ ہو گئی 

"امی... " کچھ دیر بعد اس نے دوبارہ انہیں پکارا

"کیا ہے اب ؟" وہ اسے پھاڑ کھانے کو دوڑیں

"امی پلیز... یہ آپ کا کوئی نیا ڈرامہ تو نہیں ہے نا... ؟" اس نے کہا

"انشرہ... میں تیری ماں ہوں سمجھی.... دشمن نہیں ہوں" وہ تاسف سے بولیں,  انشرہ بس انہیں دیکھ کر رہ گئی,  ائیر پورٹ آ گیا تھا,  گاڑی سے نیچے اترتے ہی طاہرہ بیگم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا,  اس کا موبائل بھی کمرے میں ہی پڑا رہ گیا تھا,  وہ اسے ساتھ لئے اندر چلی گئیں 

"امی وزیٹنگ ایریا تو پیچھے ہے... ابو یہاں سے گزریں گے" اس نے کہا لیکن طاہرہ بیگم اس کی سنی ان سنی کرتی چلی گئیں, کچھ ہی لمحوں بعد انشرہ کو ادراک ہو گیا کہ کچھ تو غلط تھا

"امی... " وہ ایک دم رک گئی 

"ابو نہیں آ رہے نا... ؟" وہ چیخی

"نہیں... تو دبئی جا رہی یے" طاہرہ بیگم نے زبردستی اسے سیکیورٹی سیکشن میں دھکیل دیا,  ہر جگہ وہ اس کا سایہ بنی ہوئی تھیں

"امی کوئی خدا کا خوف کریں,  کوئی ماں ایسا کرتی ہے بھلا,  آج میری بارات ہے,  امی آپ کو اپنے بھائیوں کی عزت کا بھی کوئی احساس نہیں ہے" انشرہ ان کے ہاتھ کی گرفت سے اپنی کلائی چھڑوا نہیں پا رہی تھی

"چپ کر جا... بھائیوں نے ساری عمر مجھے جتنی عزت دی ہے وہ بھی مجھے پتہ ہے" طاہرہ نے کہا 

"امی... " انشرہ رو پڑی

"میں اور سہام ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں پلیز... امی" اس کے آنسوؤں کا بھی کوئی اثر نہ تھا

فلائیٹ ٹیک آف کے لئے بالکل تیار تھی,  طاہرہ بیگم رات ہی اس کی ریزرویشن کروا چکی تھیں

"امی... " وہ مسلسل رو رہی تھی

"چلی جا... " طاہرہ بیگم پتھر ہو گئیں, ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے جہاز میں گھسا کر آتیں, فلائیٹ ٹیک آف کی آخری اناؤنسمنٹ ہوئی تھی,  طاہرہ بیگم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اندر جانے کا کہا تھا,  وہ مسلسل روتی ہوئی آگے بڑھ گئی,  جب تک جہاز اڑ نہیں گیا طاہرہ بیگم وہیں رکی رہیں,  جب نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شوہر کو کال ملائی

"وہ آ رہی ہے انشرہ کے ابو... وہ جہاز سے اترتے ہی ادھر ادھر بھاگنے کی کوشش کرے گی,  بس اسے قابو کر لینا,  کم از کم دو ماہ وہ واپس نہ آۓ,  چاہے لے جا کر گھر میں کہیں بند کر دیں,  دھیان رکھنا" وہ واپسی کے لئے مڑ گئیں,  وقفے وقفے سے شوہر کو کال کرتی رہیں, ایک دفعہ وہ صحیح سلامت دبئی اپنے باپ کے ہاتھوں تک پہنچ جاتی تو وہ جا کر بھائیوں کے سر پر بم پھوڑتیں 

تقریباً نو بجے انہیں ایاز صاحب کی کال آ گئی,  انہوں نے انشرہ کو ریسیو کر لیا تھا

"طاہرہ وہ مسلسل رو رہی ہے... " وہ آخر کو باپ تھے

"رونے دیں... خود ہی چپ کر جاۓ گی" طاہرہ بیگم پتھر ہو گئیں 

"اگر یہ تماشا نہ بھی ہوتا تو کیا تھا طاہرہ... بھائیوں سے اتنی ہی پرکاش تھی تو انشرہ کا رشتہ ہی نہ دیتیں,  اور اگر دے دیا تھا تو اپنا ظرف بڑا کر لیتیں " ایاز صاحب نے تاسف سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی تھی,  طاہرہ بیگم اسی وقت بھائیوں کے گھر آ گئیں,  وہاں ناشتے کا سیشن چل رہا تھا

سبھی خوش تھے... بہت خوش

"آئیں پھپھو... ناشتہ کر لیں" سب سے پہلے سہام کی نظر ان پر پڑی

"فرہاد,  تیرے سے ایک ضروری بات کرنی ہے" ان کا لحجہ سب کو چونکا گیا

"کہیں آپا... ؟" فرہاد صاحب کھڑے ہو گئے 

"الگ ہو کر میرے بات سن لے" طاہرہ بیگم نے کہا

"آپا اگر کوئی خیر کی خبر ہے تو اکیلے میں سن لیتا ہوں لیکن... اگر کوئی قیامت لانی ہے تو یہیں لے آئیں " وہ آخر کو سگے بھائی تھے ان کے,  طاہرہ بیگم نے ایک لمبا سانس بھرا

"پرسوں انشرہ کے ابو کی کال آئی تھی... انہوں نے انشرہ کا رشتہ دبئی اپنے ایک دوست کے بیٹے سے طے کر دیا ہے اور انشرہ آج صبح دبئی چلی گئی ہے" وہ قیامت لے ہی آئیں, فرہاد صاحب نے ایک دم آنکھیں بند کی تھیں

"کیا مطلب.... ایسے کیسے وہ دبئی چلی گئی پھپھو... رات تک تو بہت خوش تھی" سہام کو یقین نہیں آ رہا تھا 

"اچھا تو اب کیا باپ کا کہا ٹال دیتی... ؟ اور تجھ سے رشتہ ہی تو طے ہوا تھا اس کا,  کونسا نکاح ہو گیا تھا " طاہرہ نے کہا

"میں خود ایاز سے بات کرتا ہوں,  ایسے کیسے اس نے بارات سے تین دن پہلے رشتہ توڑ دیا" مراد صاحب ایک دم اٹھے

"کر لو بھئ... کرو" طاہرہ کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ گئیں,  مراد صاحب تب کے ایاز کو کالز کرنا شروع ہوۓ,  دن کے بارہ بج گئے لیکن انہوں نے کال ریسیو نہیں کی... واٹس ایپ آف لائن,  ایمو آف لائن

"بس کریں مراد... اتنا تو پتہ چل ہی گیا ہے کہ ملی بھگت ہے" فاطمہ نے ان کے کان میں سرگوشی کی تھی,  فرہاد صاحب ہاتھوں میں سر گراۓ ہوۓ تھے

"آپا یہ اچھا نہیں کیا آپ نے ؟" سمعیہ کی بس ہوئی تھی

"اے لو...میں نے کیا کیا ہے؟ انشرہ کے باپ کی مرضی,  اس کا خون ہے,  اس کی اولاد,  وہ جو چاہے فیصلہ لے" طاہرہ بیگم نے ہاتھ نچایا

"آپا... " فریاد صاحب ان کے قدموں میں آ کر بیٹھ گئے 

"کس چیز کا بدلہ  لے رہی ہیں آپ ہم سے ؟ سہام کی بارات ہے آج,  اکلوتا بیٹا ہے وہ میرا,  پورے شہر کو کارڈ بانٹے ہیں,  پورے محلے کو پتہ ہے,  سارے رشتے دار آۓ بیٹھے ہیں,  کچھ تو خیال کریں" فریاد صاحب کہتے چلے گئے,  طاہرہ بیگم کے روم روم میں سکون اترا تھا... ہاں یہ ہی تو چاہتی تھیں وہ... 

"آپا اگر میری کوئی بات بری لگی ہے تو میں معافی مانگتی ہوں آپ سے,  یوں نہ کریں,  مجھے پتہ ہے آپ نے انشرہ کو کہیں نہیں بھیجا,  پلیز آپا,  اسے بلائیں " سمعیہ رو پڑیں

"میں جا رہی ہوں فرہاد... میری زبان پہ تو اعتبار ہی نہیں ہے تم لوگوں کو" وہ ہاتھ جھاڑ کر چل دیں,  لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی,  سمعیہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا,  بارہ بج رہے تھے,  ہال کی بکنگ بارہ سے چار بجے کی تھی

"فرہاد... مہمان ہال جانا شروع ہو گئے ہوں گے" انہوں نے دھیرے سے کہا

"کیا کروں میں ؟" وہ ڈھے سے گئے,  سہام دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا ھا

"کس کس کو انکار کروں ؟ کس کس کو کہوں کہ واپس چلے جاؤ... کس کس کا سامنا کروں ؟" وہ ٹوٹتے جا رہے تھے,  سعدیہ نے انہیں تھام رکھا تھا,  سمعیہ دھیرے سے اٹھیں,  فاطمہ اور مراد کی طرف آئیں,  اپنا دوپٹہ پکڑا اور جھولی بنا کر فاطمہ کے آگے پھیلا دیا, مراد صاحب حق دق رہ گئے 

"فاطمہ... میری عزت,  میرے شوہر کی عزت... میرے جوان بیٹے کی عزت" وہ رو پڑیں تھیں,  فاطمہ ایک دم تڑپ گئیں,  سہام ابھی تک بت بنا کھڑا تھا

بس لمحہ لگا تھا,  فاطمہ نے خود سے سات,  آٹھ قدم پر کھڑی ساریہ کا بازو پکڑا اور سمعیہ کے آگے کر دیا

"آپ کی عزت... میری عزت" انہوں نے سمعیہ کو گلے سے لگایا لیا, ساریہ بس دم بخود کھڑی تھی

یہ کیا... یہ کیا ہوا ؟

تبھی اس کے ہاتھ میں پکڑا موبائل وائبریٹ ہوا,  اس نے دھیرے سے سکرین کی طرف دیکھا, ملاحم کا ٹیکسٹ تھا

"I'll be close to my heart in five minutes "

"(پانچ منٹ میں میں اپنے دل کے پاس ہوں گا)" 

...................

جاری ہے

قسم سے یار میں تمہارا Episode No 4

 قسم_سے_یارا_میں_تمہارا

عائشہ_ذوالفقار 

چوتھی قسط 


وہ اس دن گھر آیا تھا,  سبھی اسے دیکھ کر بہت خوش تھے

"ہاۓ اللہ... میرا سٹوڈنٹ سی ایس ایس آفیسر بن گیا" سعدیہ کی خوشی دیدنی تھی,  ملاحم بس مسکرا کر رہ گیا,  ساریہ اس کی آمد سے انجان نہیں تھی لیکن کمرے سے باہر نہیں نکلی, سعدیہ ہی چاۓ لیکر آئی 

"یہ تمہارا بیٹا ہے... " سمعیہ نے پوچھا,  وہ بچہ بالکل اس کے ساتھ چپک کر بیٹھا تھا 

"ہاں جی... " ملاحم نے کپ اٹھا لیا

"اور اس کی ماں.. ؟" انہوں نے پھر پوچھا 

"ماحن کی پیدائش پر اقراء کی ڈیتھ ہو گئی تھی آنٹی" وہ دھیرے سے بولا,  سمعیہ کو حقیقتاً دکھ ہوا

"تو دوسری شادی کر لیتے... اتنا چھوٹا بچہ تو پالنا ہی بہت مشکل ہوتا ہے " فاطمہ نے کہا

"بس آنٹی... دل نہیں مانا,  میں خود ہی ماحن کی ماں اور باپ دونوں بن گیا" وہ دھیرے سے ہنسا تھا, فاطمہ چپ کر گئیں 

"اب یہاں ڈیوٹی ہے ؟" سعدیہ نے پوچھا 

"جی... دس دن پہلے پوسٹنگ ہوئی ہے,  ابو کی ڈیتھ کے بعد گھر بالکل ہی بند ہو گیا  تھا, اسے صاف کروایا ہے,  فرنیچر سیٹ کروایا ہے,  بس اب امید تو ہے کہ دو,  تین سال یہیں رہوں گا" وہ کہتا چلا گیا,  ماہر اور منسا باہر لان میں کھیل رہے تھے,  سعدیہ ماحن کو بھی گود میں اٹھا کر ان کے پاس چھوڑ آئی 

"ساریہ کہاں ہے آنٹی ؟" اس نے چاۓ ختم کر کہ پوچھ ہی لیا

"اوپر اپنے کمرے میں ہے" فاطمہ نے کہا

"میں مل لوں اسے ؟" وہ ہچکچایا

"ہاں بیٹا... جاؤ" فاطمہ نے کہا,  وہ دھیرے سے سر ہلا کر اوپر آ گیا,  اس کے کمرے کا دروازہ کھلا ہی تھا,  ملاحم نے ہلکی سی دستک دی

"آجاؤ..." ساریہ کی آواز پر وہ اندر داخل ہوا,  وہ اسے دیکھ کر چونک گئی,  اٹھنے لگی تو اس نے روک دیا

"بیٹھی رہو " وہ خود کرسی کھینچ کر اس کے بیڈ کے پاس ہی بیٹھ گیا

"کیسی ہو ساریہ... ؟" 

"ٹھیک ہوں" وہ پوچھ نہ سکی کہ تم کیسے ہو

"یقین کرو مجھے زندگی میں کبھی اتنی خوشی محسوس نہیں ہوئی جتنی پرسوں تمہاری پکار سن کر ہوئی... میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا شہر مجھے واپسی کا اسقدر نایاب تحفہ دے گا" وہ کہتا چلا گیا,  ساریہ سر جھکاۓ بیٹھی رہی

"سہام سے ملاقات ہوئی تھی پرسوں...اس نے بتایا کہ انشرہ بھی اس کے ساتھ ہی ہوتی ہے" وہ چپ چاپ سر جھکاۓ انگلی سے بیڈ کی چادر کھرچتی رہی

"میں تو کافی حیران ہوا تھا سن کر... کب واپس آئی وہ دبئی سے ؟" اس نے پوچھا 

"دو ماہ بعد ہی آ گئی تھی ... " ساریہ کا حلق خشک ہوا تھا,  سر مزید جھک گیا

"کیا... ؟" ملاحم کا چہرہ دیکھنے لائق تھا

"لیکن اس کی امی نے تو اسے... " ساریہ نے اس کی بات کاٹ دی

"ملاحم وہ دونوں ہمیشہ سے ہر جگہ ساتھ رہے ہیں... سکول,  کالج,  ٹیوشن,  کیریئر, ہاسپٹل,  گھر, کمرہ...اور بستر... " ساریہ کی آنکھوں کے گوشے نم ہوۓ تھے, ملاحم حق دق اسے دیکھتا رہ گیا

ایک تو ویسے ان دنوں ساریہ کی ذہنی حالت انتہائی نازک تھی اوپر سے ملاحم کی آمد نے جیسے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا

"ساریہ..." ملاحم ہر چیز سے بے پرواہ ہو کر کرسی سے اٹھا اور ساریہ کی گود میں دھرے اس کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے قریب بیٹھ گیا, پوری کوشش کے باوجود وہ خود پر قابو نہیں رکھ پائی,  آنسو ٹوٹ کر گرے,  گالوں پر سے ہوتے ہوئے ملاحم کے ہاتھ کی پشت پر آ گرے,  وہ تڑپ گیا تھا 

اصل تحفہ تو یہ تھا... شہر واپسی کا

وہ محبت جسے وہ پانچ سال پہلے مسکراتے ہوئے الوداع کہہ کر گیا تھا آج اس کی واپسی پر آنسوؤں سے رو رہی تھی... اور شائد جب سے وہ گیا تھا تب سے رو رہی تھی 

"سہام نے انشرہ سے شادی کر لی تھی " ساریہ کے کپکپاتے ہوۓ لبوں سے نکلا,  ملاحم چند لمحے تو یونہی اس کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ دھرے بیٹھا رہا,  دکھ شاید سہام کی دوسری شادی کرنے کا نہیں تھا بلکہ... 

اس نے بہت نرمی سے اپنی انگلیوں کی پوروں سے ساریہ کا چہرہ اوپر اٹھایا,  وہ آنسوؤں سے تر تھا 

"اس نے انشرہ سے شادی کر لی... تمہارے ہوتے ہوئے... ؟" 

.........................

آخر کار انشرہ کی کوششیں رنگ لے آئیں,  دبئی میں بیٹھے اس کے والد نے تو کب کا گرین سگنل دے دیا تھا بس طاہرہ بیگم ہی نخرے کئے جا رہی تھیں, جس دن انہوں نے ہاں کی... سمعیہ, فاطمہ, فرہاد اور مراد اسی دن جا کر شادی کی تاریخ لے آۓ,  سمعیہ قطعی سہام اور انشرہ کی منگنی کے حق میں نہیں تھیں

"بھئی صاف بات ہے مجھے تو آپا کی زبان پر ذرا سا بھی اعتبار نہیں ہے,  منگنی بھی کوئی رشتہ ہوتا ہے بھلا... ان کا کیا بھروسہ کہ کل وزیر اعظم کا رشتہ آ جاۓ اور وہ فٹ سے منگنی توڑ دیں... میں تو ڈائریکٹ شادی کروں گی" وہ اٹل تھیں,  اس پر بھی طاہرہ بیگم اور سمعیہ میں ایک زور دار جنگ ہوئی

"اے لو... ایک ہی ایک میری بیٹی ہے اب میں اس کی بھی منگنی نہ کروں... ؟ میں تو دھوم دھام سے منگنی کروں گی اور پھر پورے ایک سال بعد شادی کروں گی" طاہرہ بیگم نے کہا

"میں تو آپ کو ایک دن کی مہلت نہ دوں آپا... آپ ایک سال کی بات کر رہی ہیں" سمعیہ نے کہا,  وہ تو تو میں میں ہوئی کہ الامان الحفیظ... فرہاد صاحب کو آتے ہی پڑی

طے یہ ہوا کہ فی الحال منگنی ہو جاۓ...اور اگلے ہی مہینے شادی... مقصد دونوں خواتین کو شانت کروانا تھا, منگنی کا فنکشن ظاہر ہے اکٹھا ہی تھا,  فرہاد صاحب نے ہال بک کروا لیا تھا,  منگنی سے ایک دن پہلے اسے ملاحم کی کال آئی 

"تم آؤ گے کل...؟" اس نے پوچھا, اسے گئے چار ماہ ہو گئے تھے,  شدت سے دل کر رہا تھا اسے دیکھنے کو

"یقین کرو اتنا ٹف شیڈول ہے... میری تو نیند بھی پوری نہیں ہو پاتی,  کبھی کبھی تو دل کرتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس آ جاؤں" ملاحم واقعی عاجز آیا پڑا تھا,  ساریہ چپ سی ہو گئی 

"ہے... کدھر گئیں ؟" وہ سمجھا شاید سگنلز کو کچھ ہوا ہے

"ملاحم... تم ایک دن کے لئے بھی نہیں آ سکتے ؟" اس کے لحجے میں شاید سب کچھ ہی سمو گیا تھا,  ملاحم کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی,  جس دن سے اس نے ساریہ کے سامنے اپنی محبت کا اقرار کیا تھا تب سے لیکر آج تک پہلی بار اسے ساریہ کے لحجے میں اتنی بے قراری محسوس ہوئی تھی

"کیسے آؤں ؟ میری جان وقت نہیں ہے" اس کے دل نے شدت سے اسے شرارت پر اکسایا حالانکہ اس کا بس چلتا تو اسی لمحے اڑ کر ساریہ کے روبرو ہو جاتا

"چلو ٹھیک ہے... " انتہائی مدھم سی آواز میں کہہ کر ساریہ نے کال کاٹ دی اور ملاحم سعد نامی وہ انتہائی باوفا عاشق اسی رات سب کچھ چھوڑ چھاڑ لاہور واپس آ گیا

 اگلے دن سہام کی منگنی تھی,  بڑی بے دلی سے ساریہ نے کپڑے بدلے تھے, بڑی بے توجہی سے تیار ہوئی تھی,  گیارہ بجے تک سب ہال پہنچ گئے, انشرہ نے گولڈن اور پرپل امتزاج کی میکسی پہنی ہوئی تھی... ساتھ گولڈن میک اپ اور جیولری,  سہام نے نیوی بلو تھری پیس پہن رکھا تھا... صحیح معنوں میں چاند ستارے کی جوڑی تھی, طاہرہ بیگم انشرہ کی بلائیں اتار اتار کر ہلکان ہو رہی تھیں,  فاطمہ اور سمعیہ انتہائی بے زاری سے ان کے ڈرامے دیکھ رہی تھیں,  سعدیہ کا ڈیرھ سال کا بیٹا تھا,  وہ اس کے پیچھے بھاگ بھاگ کر بے حال تھی,  ہادیہ اور حاشر کے فوٹو شوٹس اور سیلفی سیشینز عروج پر تھے,  وہ کچھ دیر تو انشرہ کے پاس بیٹھی رہی,  پھر سٹیج سے اتر آئی,  کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھی اور سر کرسی کی پشت سے لگا لیا,  اس کا رخ آدھا پونا سا سٹیج کی طرف اور تھوڑا تھوڑا بیرونی دروازے کی طرف تھا, انشرہ اور سہام ایک ساتھ بیٹھے تھے,  فوٹو گرافر دھڑا دھڑ تصویریں لے رہا تھا جب وہ ہال میں داخل ہوا,  انتہائی بے تابی سے ادھر ادھر نظریں گھماتا ہوا وہ اسے کھوج رہا تھا... کھوجتے کھوجتے ایک دم رکا

وائیٹ کلر کی فیری فراک کے ساتھ نیٹ کا دوپٹہ کندھے پر ڈالے, لائیٹ سا میک اپ کئے,  لبوں پر پنک لپ اسٹک سجاۓ وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی,  لمبے سیاہ بال پشت پر سے ہوتے ہوئے نیچے لٹک رہے تھے, ایک ہاتھ سر کے نیچے ٹکایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں فون تھا, ملاحم کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی, ساریہ کا سوگوار سا حسن اس کے دل میں اترتا چلا گیا

وہ اس لمحے اتنی اداس تھی تو کیوں... ؟ صرف اس کے لئے 

دھیرے سے وہ اس پشت کی طرف سے اس کی جانب بڑھا اور انتہائی نرمی سے اپنا ایک ہاتھ اس کی آنکھوں پر رکھ دیا

لمحہ بھر کے لئے ساریہ کی سانس رکی تھی, دل کی دھڑکن ایک دم خطرناک حد تک بڑھ گئی,  بس چند پل... وہ ایک تڑپ کر اٹھی تھی,  وہ عین اس کی نظروں کے سامنے تھا

فان تھری پیس میں ملبوس اسے دیکھتا ہوا دھیمے دھیمے مسکراتا سیدھا اس کے دل میں اتر رہا تھا 

"تم مجھے یاد کر رہی تھیں نا... ؟" وہ اس کی طرف بڑھا,  نہ جانے کیوں ساریہ کی آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے,  حالانکہ اس لمحے اس کی انتہائی خوبصورت آنکھیں سورج کی چمک کو بھی مات دے رہی تھیں,  اس کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ بہار رتوں کے جھونکوں سے زیادہ پر لطف تھی اور اس کے گالوں پر پھیلتی سرخی گلابوں کی سرخیوں سے کہیں زیادہ سرخ تھی

"تم تو کہہ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے" اس نے نظریں چراتے ہوئے شکوہ کیا

"میرا وقت اگر تمہارے لئے نہیں تو پھر بھاڑ میں گیا ساریہ مراد... " وہ بولا,  ساریہ نے مسکراتے ہوئے نظریں جھکا لیں

"بتایا کیوں نہیں کہ آ گئے ہو ؟" وہ خوش تھی... بے انتہا خوش

"اگر بتا دیتا تو اس لمحے تمہارے چہرے پر اپنی محبت کہ یہ ہزار رنگ کیسے دیکھتا ؟" ملاحم نے کہا,  ساریہ جھینپ سی گئی,  سہام نے ملاحم کی طرف ہاتھ ہلا کر آواز دی تھی,  وہ ایک نظر ساریہ کو دیکھتا ہوا سٹیج کی طرف بڑھا

"سنو ملاحم... " ساریہ نے دھیرے سے پکارا,  وہ یکدم رک گیا

"I love you... "

..................................

ساریہ کو واپس آۓ ایک ماہ ہو چلا تھا,  اسے تقریبا سبھی نے سمجھایا,  ماں, باپ نے,  ساس,  سسر نے,  سعدیہ نے,  طاہرہ تو روز ہی اس کی برین واشنگ کر کہ جاتی تھیں,  انشرہ البتہ اس کے بعد نہیں آئی,  سہام نے شروع شروع میں بہت کوششیں کیں لیکن پھر جیسے اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیئے,  طاہرہ بیگم کی طرف رکنا انشرہ اور سہام دونوں کو بہت مہنگا پڑتا تھا, مجبور ہو کر انہوں نے ایک باورچن اور ایک ملازمہ کا بندوبست کیا,  سمعیہ کی انتہائی منت سماجت کر کہ سہام انہیں اپنے ساتھ لے گیا,  ظاہر ہے وہ ڈیڑھ سالہ بچی ملازمہ کے رحم و کرم پر نہیں ڈالی جا سکتی تھی, دس,  پندرہ دن بعد ہادیہ کے سمیسٹر ایگزامز ختم ہوۓ تو وہ بھی سمعیہ کے ساتھ چلی گئی,  یعنی جیسے تیسے زندگی گزر ہی رہی تھی,  پورا گھر حیران تھا کہ بڑی سے بڑی بات پر سمجھوتہ کر لینے والی ساریہ مراد کو آخر ہو کیا گیا تھا... وہ جو سوتن جیسا دکھ جھیل گئی تھی...وہ آخر شوہر کا غیر ذمہ دار کہہ دینا کیوں برداشت نہیں کر پا رہی تھی...؟ اس بار وہ واقعی چٹان بن گئی تھی, یونہی ایک مہینہ اور گزر گیا

اس دن بھی وہ اپنے کمرے میں تھی جب حاشر اسے بلانے آیا

"ساریہ آپی آپ کو ابو بلا رہے ہیں" وہ کھٹک گئی 

"کون کون ہے وہاں ؟" اس نے پوچھا 

"سہام بھائی آۓ ہوۓ ہیں" حاشر کہہ کر پلٹ گیا,  وہ ایک لمبی سانس بھر کر اٹھی,  مراد صاحب کے کمرے میں سعدیہ سمیت سبھی جمع تھے

"بیٹھو ساریہ... " مراد صاحب نے سعدیہ کے پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا,  وہ ایک نظر سہام کے پریشان سے چہرے پر ڈال کر چپ چاپ سعدیہ کے ساتھ بیٹھ گئی 

"ساریہ... دیکھو بیٹے یہ مت سمجھنا کہ ہم تم پر کوئی زور زبردستی کر رہے ہیں,  میاں بیوی میں جھگڑے ہو جاتے ہیں لیکن پھر صلح بھی ہو جاتی ہے,  یہ گھر تمہارا میکہ بھی ہے اور سسرال بھی... جب تک دل کرے یہاں رہو لیکن بیٹے... شوہر سے ناراض ہو کر نہیں,  اگر سہام نے تمہیں برا بھلا کہا ہے تو تمہاری اس درجہ ناراضگی جائز ہے,  اگر گالی دی ہے تو بے شک تم اس کی شکل بھی مت دیکھو,  اگر ہاتھ اٹھایا ہے تو اس کے منہ پر تھوک دینا حق ہے تمہارا لیکن... اگر صرف اس کے غیر ذمہ دار کہہ دینے کی وجہ سے تم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آ گئی ہو تو یہ غلط ہے بیٹا... وہ شوہر ہے تمہارا,  تمہارے بچوں کا باپ ہے, صبح سے شام تک ہسپتال میں خوار ہوتا ہے تو کس لئے ؟ اپنی بیوی اور بچوں کے لئے,  اگر کبھی غصے میں آ کر اس نے تمہیں غیر ذمہ دار کہہ بھی دیا تو... اگنور کر دو ساریہ,  یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے" مراد صاحب کہتے چلے گئے 

"آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بابا... پھر کیا ہوا جو سہام نے مجھے غیر ذمہ دار کہہ دیا,  شوہر تو بیویوں کو اس سے بھی زیادہ کہہ جاتے ہیں,  یہ کونسا اتنی بڑی بات ہے... ہے نا... اور یہ بھی کونسا اتنی بڑی بات تھی بابا کہ مجھے چار دن سے بخار تھا, اور یہ بھی اتنی بڑی بات نہیں تھی کہ گھر میں دو, دو ڈاکٹرز ہوتے ہوئے میرے پاس میڈیسن نہیں تھی کیونکہ وہ دونوں سارا دن میری خاطر ہسپتال میں ذلیل ہوتے ہیں تو شام کو گھر واپس آ کر مجھے چیک اپ کروانے کا وقت نہیں ہوتا ان کے پاس,  چار دن سے میں اس بخار کے ساتھ صبح پانچ بجے اٹھ کر رات کو گیارہ بجے سو رہی تھی وہ بڑی بات نہیں تھی بابا لیکن اگر ایک دن میں اپنی طبیعت خرابی کی وجہ سے صبح جلدی نہیں اٹھ سکی تو یہ بہت بڑی بات تھی..." وہ کہتی چلی گئی 

"زیادہ نہیں بابا... بس سہام سے اتنا پوچھ لیں کہ کیا انہیں پتہ تھا کہ مجھے چار دن سے بخار تھا ؟" ساریہ نے کہا,  مراد صاحب نے فوراً سہام کی طرف دیکھا

"چاچو اس نے بتایا ہی نہیں کہ... " سہام دھیرے سے بولا لیکن ساریہ نے اس کی بات کاٹ دی

"ہاں میں نے نہیں بتایا... میں کیوں بتاؤں کہ مجھے بخار ہے ؟ آپ میرے شوہر ہیں سہام,  آپ کو کیوں نہیں پتہ کہ میری بیوی چار دن سے بخار میں پھنک رہی ہے, انشرہ  آپ کو کتنی بار بول کر بتاتی ہے کہ اس کی طبیعت خراب ہے... اور جانتے ہیں میں نے کیوں نہیں بتایا ؟ کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ بتانے کا کوئی فائدہ نہیں, آپ گاڑی دروازے سے نکالتے ہوئے سرسری سا کہہ جائیں گے کہ لاؤنج کی دراز میں پینا ڈول پڑی ہے کھا لینا بس... پچھلے پانچ سالوں سے میں ہر بار وہاں سے پینا ڈول ہی اٹھا کر کھاتی ہوں... ایک دن کا بخار بگڑ کر ہفتوں پر محیط ہو جاتا ہے, کونسا یہ بڑی بات ہے کہ نہ جانے کتنی ہی بار میرا بخار بگڑ کر ٹائیفائیڈ بنا ہے, جب کہہ دوں کہ چیک اپ کروا لائیں تو میں یہ ہی سنتی ہوں کہ یار میں خود ڈاکٹر ہوں,  ہسپتال جانے کی کیا ضرورت ہے,  صبح میں خود میڈیسن لا دوں گا,  پانچ سالوں میں وہ صبح کتنی بار آئی ہے سہام... میں خود ہی ڈھیٹ بن کر ٹھیک ہو جاتی ہوں, چلیں مان لیا... آپ مصروف ہوتے ہیں لیکن بقول آپ کے میں تو سارا دن فارغ ہوتی ہوں...اس کے باوجومیں کسی پرائیوٹ کلینک پر چیک اپ کروانے نہیں جا سکتی کیونکہ تین تین بچے سنبھالنے ہوتے ہیں میں نے... آپ کے لئے یہ کہہ دینا بڑی بات نہیں تھی سہام کہ میں آپ دونوں کو ہسپتال بھیج کر سارا دن فارغ ہی ہوتی ہوں لیکن میرے لئے ہے... اس کمرے میں آپ کی ماں بھی بیٹھی ہیں... پوچھیں ان سے کہ تایا ابا کے دوکان پر جانے کے بعد وہ لمبی تان کر سو جایا کرتی تھیں... سعدیہ آپی,  آپ اور ہادیہ خود بخود ہی پل کر جوان ہو گیۓ ؟ پوچھیں سعدیہ آپی سے کہ حسن بھائی تو باہر ہوتے ہیں پھر پیچھے سے انہوں نے تو بہت مزے کئے ہوں گے,  ان کے دونوں بچے بھی بس اللہ نے ہی پال دئے... ہے نا" وہ کہتی چلی گئی, سہام چپ تھا

"بابا بڑی بات یہ تھی کہ اس روز پانچ سالوں میں ایک دن سہام کو ناشتہ نہیں ملا,  بڑی بات یہ تھی اس دن پانچ سالوں میں پہلی بار انشرہ کو ناشتہ بنانا پڑا... لیکن یہ بڑی بات نہیں تھی کہ پانچ سال ان دونوں میاں بیوی کے لئے ٹائم پر ناشتہ بنانے کے باوجود میں غیر ذمہ دار ہوں" وہ کہتی چلی گئی 

"اچھا آئی ایم سوری ساریہ,  مجھے غصہ آ گیا تھا,  دیر ہو رہی تھی,  مجھے واقعی نہیں پتہ تھا کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی,  آئیندہ ایسا نہیں ہو گا..." سہام نے کہا

"مجھے آئیندہ سے کوئی سروکار نہیں ہے سہام... ماضی میں جو کچھ ہو چکا میرے لیے وہی بہت ہے" ساریہ نے کہا

"ایسا کیا ہو گیا ماضی میں تمہارے ساتھ ؟" سہام کی آواز تیز ہو گئی 

"میرے ہوتے آپ نے انشرہ سے شادی کر لی تھی... " وہ شاید اپنی پوری زندگی میں اتنا اونچا بولی تھی,  ساتھ ہی گالوں پر آنسو لڑھک آۓ

"ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوۓ تھے میری اور آپ کی شادی کو اور آپ میرے اوپر سوتن لے آۓ تھے... سوتن بھی وہ جو آپ کی محبت تھی" وہ بولی,  سہام چپ رہ گیا

"آخر کیوں کوئی میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا... ؟سہام,  انشرہ اور مروہ... فیملی مکمل ہے,  میں اور میرے دو بچے ان کی فیملی میں کہیں فٹ نہیں ہوتے, سہام آپ خدا کی قسم اٹھا کر کہیں کہ آج آپ کو میری ضرورت ایک بیوی کی حیثیت سے ہے... کہیں ؟" وہ بولی,  سہام بول نہ سکا,  سبھی خاموش تھے

"کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کو صرف میری ضرورت ایک کئیر ٹیکر کی حیثیت سے ہے,  بیوی تو پہلے سے ہے آپ کے پاس... ہر طرح سے آپ کے معیار پر پورا اترتی ہے,  آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلتی ہے,  آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اچھی لگتی ہے,  قسم کھا کر کہیں کہ ان گزرے دو ماہ میں آپ کو ایک بار بھی میری کمی محسوس ہوئی ہے... ایک بیوی کی حیثیت سے ؟" اس نے پوچھا 

"ساریہ یار میری بات... " لیکن ساریہ نے اس کی بات کاٹ دی

"نہیں... میں نے پوری زندگی ہمیشہ دوسروں کی ہی سنی ہے سہام... لیکن اب نہیں, میں نے پانچ سال ایک ان چاہے وجود کے طور پر گزارے ہیں اب اور نہیں... میری کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو,  ہاں آپ کے گھر کو میری ضرورت ہے اور ایم سوری... میں اپنی باقی کی پوری زندگی ایک sophisticated maid کے طور پر نہیں گزار سکتی,  اگر بابا کو لگتا ہے کہ میں اور میرے دو بچے ان پر بوجھ ہیں تو اٹس اوکے,  I am M. Phil in English... میں اپنی آنے والی زندگی میں کچھ نہ کچھ تو ڈھنگ کا کر ہی لوں گی" وہ کہتی چلی گئی ,  فاطمہ کی آنکھیں بھر آئیں, مراد صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا

"مجھے اس گھر میں واپس نہیں جانا... That's it"

.........................

 جاری ہے...



قسم سے یار میں تمہارا Episode No 3

 قسم_سے_یارا میں تمہارا

عائشہ_ذوالفقار 

تیسری قسط 


اس دن طاہرہ بیگم انشرہ کو ساتھ لیکر آئی تھیں

"مشکل وقت میں گدھے کو بھی باپ بنا لیا کرتے ہیں کم عقل لڑکی, چل اس سے معافی مانگ... وہ تو نعمت ہے تیرے لئے انشرہ... دیکھ کیسے تتر بتر ہو گئے ہو تم لوگ اس کے بغیر,  ارے ملازمہ یا آیا تیری بچی کو ویسے تھوڑی نا سنبھالیں گی جیسے وہ سنبھال رہی ہے,  اچھی بھلی وہ سب کچھ کرے جا رہی تھی نہ جانے کیا کہہ دیا ہے تم دونوں نے اسے,  چل چل کہ اس سے معافی مانگ... " وہ اسے زبردستی کھینچ لائیں,  ساریہ ٹی وی لاؤنج میں تھی

"ساریہ بچے... یہ دیکھ میں اسے لے آئی,  یہ معافی مانگے گی تجھ سے " طاہرہ بیگم پھولی پھولی سانسوں سے بولیں

"پھپھو پلیز... مجھ سے کوئی معافی نہ مانگے" وہ اٹھنے لگی تھی جب انشرہ نے اسے روکا

"دیکھو ساریہ... قسم سے میں نے آج تک یہ ہی کوشش کی ہے کہ میری ذات سے تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچے, میں تمہارا احسان مانتی ہوں یار... مجھے پتہ ہے تم اپنے دو بچوں کے ساتھ مروہ کو کتنی مشکل سے مینیج کرتی ہو گی,  پلیز ساریہ... ایم سوری,  جانے انجانے میری جو بھی بات بری لگی ہے اس کے لئے سوری" انشرہ اتنی بری بھی نہیں تھی... یہ سچ تھا کہ گزرے سالوں میں اس کا اور ساریہ کا ایک بھی جھگڑا نہیں ہوا تھا لیکن... کچھ تو تھا جو ساریہ پتھر ہو گئی تھی

"انشرہ... پلیز, جب تم نے کچھ کہا ہے نہیں تو معافی کس چیز کی... ؟" وہ بولی

"اے ساریہ بس کر اب... چھور دے ضد" طاہرہ بیگم نے کہا

"پھپھو مجھے بس اتنا بتا دیں کہ اگر آج آپ کی بیٹی کی کوئی سوتن نہ ہوتی تو یہ اکیلی کیسے مینیج کرتی ؟" ساریہ تڑخ گئی, طاہرہ بیگم بول نہ سکیں

"چلو تم بتاؤ... ایک لمحے کے لئے فرض کرو کہ میں تم دونوں کے بیچ ہوں ہی نہیں...بس تم,  سہام اور مروہ,  پھر کیا کرتیں تم...؟ کسے اپنے ساتھ رکھتیں ؟ " ساریہ کہتی چلی گئ,  انشرہ فوراً سے بول نہ سکی,  سعدیہ اور فاطمہ دونوں چپ چاپ تماشہ دیکھ رہی تھیں

"انشرہ میں اگر پچھلے تین سالوں سے اپنی سوتن اور اس کی بچی کو مینیج کر رہی ہوں تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ میں بےوقوف ہوں... " وہ ذرا سا رکی

"خدا تم دونوں میاں بیوی کی زندگیاں آسان کرے... بس اتنا  کر سکتی ہوں میں تمہارے لئے " 

..............................

طاہرہ بیگم سے بات کرنا کونسا آسان تھا... سمعیہ اور فرہاد دونوں گئے... انشرہ گھر آئی ہوئی تھی

"آپا... ہم دونوں سہام کے لئے انشرہ کا ہاتھ مانگنے آۓ ہیں" فرہاد صاحب نے مدعا بیان کر دیا,  کچن میں چاۓ بناتی انشرہ کا دل زور سے اچھلا تھا... کھلکھلایا بھی تھا... خوش بھی ہوا تھا 

"ارے... اتنی جلدی کیا پڑی ہے تم دونوں کو... اس لڑکے کو کچھ بن تو جانے دو" طاہرہ بیگم نے کہا

"یہ آخری سال ہے اس کا آپا... بس اب ہاؤس جاب کرے گا,  ڈاکٹر تو بن گیا ہے ماشاءاللہ " فرہاد نے کہا

"کماتا تو نہیں ہے نا ابھی... ؟" طاہرہ نے کہا

"نوکریاں کونسا پلیٹ میں رکھ کر ملتی ہیں آپا...ادھر ادھر کوشش کرے گا,  ہاتھ پاؤں مارے گا تو مل جاۓ گی,  تب تک پرائیوٹ کلینک کر لے گا" فرہاد کہتے چلے گئے 

"اور بیوی کو کہاں سے کھلاۓ گا... ؟ اس کے خرچے کہاں سے پورے کرے گا ؟" سمعیہ کی بس ہو گئ 

"خد اکا خوف کریں آپا... آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے انشرہ کے منہ میں نوالہ تب جاۓ گا جب سہام کماۓ گا,  اللہ خیر رکھے جہاں سب کھا رہے ہیں,  انشرہ بھی کھاۓ گی,  جیسا سب پہن رہے ہیں یسا انشرہ بھی پہنے گی" سمعیہ نے کہا

"اچھا... میں انشرہ کے ابو سے بات کر کہ پھر بتاؤں گی" انہوں نے ناک پر سے مکھی اڑائی, وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر رہ گئے 

"گھر آتے ہی سہام ان کے پیچھے پڑ گیا

"کیا کہا پھپھو نے... ؟" 

"وہ محترمہ تو یوں کر رہی ہیں جیسے ان کی بیٹی یہاں آ کر بھوکی مر جاۓ گی...توبہ توبہ سگے بھائی کی زبان پر بھروسہ نہیں ہے اسے,  بندہ اس سے پوچھے کہ اب تک کہ سارے فیصلے بھی تم نے انشرہ کے ابو سے پوچھ کر ہی کئیے ہوں گے " سمعیہ ستی پڑی تھیں,  سہام چپ ہو گیا

وقت گواہ ہے کہ وہ دونوں میاں بیوی چھ بار طاہرہ بیگم کے گھر گئے,  سہام کی ہاؤس جاب شروع ہو کر ختم بھی ہو گئی...انشرہ بھی ہاؤس جاب کر کہ آ گئ لیکن بڑی بی نے ہاتھ نہ پکڑایا

ہر بار کوئی نا کوئی بہانہ... کوئی نہ کوئی اعتراض

سہام بھی ضد ڈال کر بیٹھ گیا

"سہام... ایسے دال نہیں گلے گی,  انشرہ کو قائل کر,  اسے کہہ کہ اپنی اماں کو مناۓ,  اسی کی سنیں گی وہ" سعدیہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی

لیکن انشرہ تو پہلے سے قائل تھی... کیا کمی تھی بلا سہام میں... ؟ بالکل پرفیکٹ تھا,  چلو ان دونوں کے بیچ کوئی دھواں دھار محبت نہ سہی لیکن پسندیدگی تو تھی,  ویسے بھی اس گھر میں انشرہ سب کی فیورٹ تھی

انشرہ نے ٹھان ہی لی

"امی... مجھے سہام سے شادی کرنی ہے" 

................................

وہ اس دن دونوں بچوں کے کپڑے خریدنے مارکیٹ آئی تھی, فاطمہ بھی ساتھ تھیں,  مال میں داخل ہوتے ہی فاطمہ تو گروسری سیکشن کی طرف چلی گئیں اور وہ بوتیک کی طرف آ گئی,  اچانک مال کے دروازے پر شور سا مچا,  گارڈز میں کھلبلی سی مچ گئی 

"کیا ہوا بھائی ؟" وہ پریشان سی ہو کر باہر نکلی تھی

"کچھ نہیں باجی... اے سی صاحب وزٹ پر ہیں " دوکاندار نے کہا اور ساتھ ہی اس نے ایک بلیک گاڑی مال کے دروازے پر رکتے دیکھی,  فرنٹ سیٹ سے گارڈ نیچے اترا اور بیک ڈور کھولا, اے سی صاحب نفس نفیس تشریف لاۓ تھے,  ساریہ ایک لمحے کے لئے جامد رہ گئی,  وہ لوگوں کے بیچ سے راستہ بناتا ہوا اندر داخل ہوا,  داہنے ہاتھ میں اس نے ایک تین سالہ بچے کی انگلی تھام رکھی تھی,  ادھر ادھر نظریں دوڑاتا ہوا وہ اس کے قریب سے گزرا

"آواز دو... " دل نے کہا

"آواز نہ دینا... پانچ سال بیت گئے ہیں... اسے تم یاد بھی نہیں ہو گی"  دماغ نے کہا

"ساریہ... آواز دو" دل مچلے جا رہا تھا 

"مت دینا... وہ سنے گا ہی نہیں "

"جلدی... آواز دو" دل جیسے سینے سے باہر آنے لگا تھا, وہ اس کے پاس سے گزر کر دو قدم آگے بڑھا

"ملاحم سعد... " اس نے آواز دی تھی اور... وہ بالکل پانچ سال پہلے کی طرح ایک دم رک گیا

پلٹنے میں چند ثانئے لگے,  آنکھوں میں وہ چمک ابھری کہ سورج حیران... لبوں پر وہ مسکان پھیلی کہ غنچے حیران,  چہرہ جیسے قوس قزح ہو گیا

"ساریہ... " 

..............................

وہ چھت پر تھی,  کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ آسمان پر قبضہ کرتے ہوئے گہرے سیاہ بادل دیکھ رہی تھی,  گھٹائیں چڑھتی آ رہی تھیں,  ہواؤں کے جھونکے جھکڑ بنتے جا رہے تھے

"ساریہ... نیچے آ جا" فاطمہ نے آواز لگائی,  ملاحم سہام سے ملنے آیا تھا,  واپسی کے لئے جانے لگا تو اس کا پوچھ لیا,  بی ایس ختم ہونے کے بعد ملاقاتیں شاذو نادر ہی ہوتی تھیں

"ساریہ کہاں ہے آنٹی ؟"

"اوپر ہے... دس دفعہ کہہ چکی ہوں کہ نیچے آ جا" فاطمہ چیزیں سمیٹ رہی تھیں 

"میں مل لوں اس سے... ؟" 

"ہاں ہاں... اسے نیچے ہی لے آنا" فاطمہ نے کہا,  سر ہلاتا ہوا وہ سیڑھیاں چڑھ گیا,  ہ دنیا و مافیہا سے بے خبر کرسی کی پشت پر سر رکھے,  ٹانگیں سامنے میز پر دھرے,  آنکھیں بند کئے ہوٍۓ تھی,  ملاحم نے دھیرے سے دیوار سے ٹیک لگائی 

اسے یوں دیکھنا ہی کتنا خوبصورت تھا,  وہ اسے گھنٹوں یونہی کھڑے ہوۓ دیکھ سکتا تھا... پہروں یونہی ایستادہ رہ سکتا تھا 

چپ چاپ دیوار کے ساتھ کھڑا وہ اسے دیکھتا رہا... بوندیں گری تھیں,  اس نے ایک دم آنکھیں کھولیں, اسے سامنے دیکھ کر چونکی اور ایک دم کھڑی ہو گئی 

"تم کب آۓ ؟" اس نے ادھر ادھر لہراتا ہوا دوپٹہ قابو کیا تھا

"تم نے آنکھیں کیوں کھولیں ؟" کمال کا جواب تھا,  ساریہ جھینپ گئی

"میں کل اسلام آباد جا رہا ہوں... تم سے ملنے آیا تھا " ملاحم نے کہا, اس نے سی ایس ایس کی تیاری شروع کر دی تھی, ساریہ نے سر جھکا لیا

"تم میرے ساتھ کیوں نہیں چلتیں... دونوں مل کر سی ایس ایس کرتے ہیں" ملاحم نے کہا

"ملاحم... میں تمہارے کہنے پر آنکھیں بند کر کہ کسی آتش فشاں میں کود سکتی ہوں لیکن پلیز... میں سی ایس ایس نہیں کر سکتی,  تمہارے کہنے پر بھی نہیں" ساریہ کے انداز پر وہ بے ساختہ مسکرا دیا

"چلو تم PPSC دے لینا... تمہاری پرسنیلٹی کو ایک انگریزی معلم بننا بہت سوٹ کرے گا" وہ ہنس دیا تھا,  ساریہ نے بھی مسکراتے ہوئے سر جھکا لیا,  اس نے ایم فل میں داخلہ لے لیا تھا 

"ساریہ... میں سوچ رہا تھا کہ جانے سے پہلے اگر ہم دونوں کی انگیجمنٹ ہو جاتی تو... " وہ ذر سا رکا,  ساریہ ہلکا سا سرخ ہوئی تھی

"اتنی جلدی کیا ہے " وہ بولی

"یار مجھے سہام کی طرف سے شک رہتا ہے,  وہ تمہارا کزن ہے,  ڈاکٹر ہے,  ڈیشنگ بھی ہے... تمہارے ابو کہیں تمہیں اس کے حوالے نہ کر دیں" اس لمحے ملاحم کے لحجے میں واقعی ایک انسیکیور عاشق بول رہا تھا, ساریہ کھلکھلا کر ہنس پڑی

"اچھا... تو ملاحم سعد کو رقابت محسوس ہو رہی ہے" وہ بولی

"نہیں یار... بس اندیشہ ہے" وہ جھینپ گیا

"تمہارے اس اندیشے کی میں ضمانت دیتی ہوں, سہام میری طرف نہیں آۓ گا,  اس کی نظریں کہیں اور ہی ہیں" وہ بولی,  ملاحم پہلے تو ٹھٹھکا,  پھر سمجھ گیا اور دھیرے سے سر ہلاتے ہوئے مسکرا دیا

"چکر لگایا کرو گے ؟" ساریہ نے کچھ دیر بعد پوچھا 

"میرا دل رہتا ہے یہاں... کیسے نہیں آؤں گا " وہ دو قدم اس کی طرف آیا تھا , ساریہ کے بال دوپٹے سے نکل کر ادھر ادھر لہرانے لگے تھے... بوندیں تواتر سے گرنے لگی تھیں,  وہ اس کے صبیح چہرے پر گرتی بوندیں دیکھتا رہ گیا

ایک پھُٰول تھا... گلابی پھول

اور اس پر قطرے تھے... شفاف قطرے

بے خود ہو کر وہ اس کی طرف بڑھا,  ساریہ کے لب کپکپاۓ تھے,  بے اختیار وہ پیچھے دیوار سے لگ گئی,  ملاحم نے وہ فاصلہ دو قدموں میں ختم کیا تھا 

وہ گلابی پھول عین اس کی نظروں کے سامنے تھا,  اس کی انگلیوں کی دسترس میں تھا

دھیرے سے اپنی انگلی سے اس نے ساریہ کے چہرے پر اڑتی لٹ کو اس کے کان کے پیچھے اڑسا تھا,  ساریہ کے گال سرخ ہوۓ تھے

گلابی پھول سرخ پڑتا جا رہا تھا,  ملاحم کی انگلی نے اس کے کان کی لو سے گال تک کا سفر طے کی تھا,  پھر ساریہ کی ٹھوری تک پہنچی تھی, ساریہ کا چہرہ جھکتا جا رہا تھا,  ملاحم نے اپنا دوسرا ہاتھ دیوار پر ٹکایا,  دھیرے سے اس کے چہرے پر جھکا

بوچھاڑ تیز ہوئی تھی,  ہوا کا جھونکا آیا تھا

ملاحم کی انگلی نے اس کا چہرہ اوپر اٹھا یا تھا 

سرخ گلاب... بوندوں سے دھلا,  نکھرا سا, سہما سا... شرمایا سا...گھبرایا سا

"I love you... my heart..."

................................

وہ دونوں بچے سلا چکی تھی جب سعدیہ اس کے کمرے میں آئی 

"میری بھی سننی ہے یا نہیں... ؟" اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا 

"آپ کی کب نہیں سنی سعدیہ آپی " وہ بیڈ سے اتر آئی

"آؤ باہر چلتے ہیں" سعدیہ اسے لیکر باہر لان میں آ گئی,  ساریہ کرسی پر بیٹھ گئی

ساریہ میں تمہارے ساتھ ہوں... گزرے ہر پل میں بھی تھی... اور آنے والے ہر ایک لمحے میں بھی ہوں, تم مجھے اتنی ہی عزیز ہو جتنی ہادیہ... شاید اس سے بھی زیادہ,  وہ میری اتنی نہیں سنتی جتنی تم سنتی ہو... نہ میں یہ پوچھوں گی کہ کیا ہوا... ؟ اور نہ یہ کہ کیسے ہوا... ؟ بس یہ کہ اب کیا کرو گی؟" سعدیہ نے کہا

"آپ یہ سوال مجھ سے بہت جلدی نہیں پوچھ رہیں سعدیہ آپی... ؟" ساریہ نے کہا

"پندرہ دن ہو گئے ہیں... " 

"میں اپنے پانچ سالوں کا زیاں صرف پندرہ دنوں میں کیسے بھول جاؤں ؟" وہ بولی

"کونسا زیاں ؟" سعدیہ نے پوچھا 

"میری زندگی کا,  میرے دل کا,  میری خوشیوں کا,  میرے جذبات کا,  میرے صبر کا اور... شاید میری محبت کا" اخیر میں اس کا لحجہ دھیما ہو گیا

"تمہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ملا... ؟" اس نے نفی میں سر ہلا دیا

"مجھے بس ایک شوہر ملا... تقریباً دو ماہ کے لئے بس,  وہ دو ماہ کافی خوشنما ہیں لیکن اتنے بھی نہیں کہ ان کے صدقے پورے پانچ سال بھول جاؤں" ساریہ نے کہا

"تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ساریہ مراد اس بار اپنا وہ ظرف اونچا نہیں کرے گی جو وہ ہر بار سر جھکا کر کرتی رہی ہے ؟" سعدیہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے پوچھا تھا 

"نہیں... اس بار نہیں"

..............................

جاری ہے



قسم سے یار میں تمہارا Episode No 2

 قسم_سے_یارا_میں_تمہارا 

عائشہ_ذوالفقار 

دوسری قسط 


سہام کا ایڈمیشن لاہور ہی ہوا تھا,  انشرہ ملتان چلی گئی , ساریہ نے ملاحم کے ساتھ ہی پنجاب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا تھا

ملاحم نے اسے یونیورسٹی کے گیٹ پر دیکھا

"ساریہ... " وہ بس مسکراۓ جا رہا تھا... ایویں,  بلاوجہ 

"تم بھی بی ایس انگلش ہی کر لیتیں... ؟" اس نے ساتھ چلتے ہوئے کہا

"میرا ایکسینٹ تمہارے جیسا نہیں ہے" 

"میری کلاس کے اسی سٹوڈنٹس میں سے کسی کا بھی ایکسینٹ میرے جیسا نہیں ہے"

"مجھے انگلش اچھی بھی نہیں لگتی نا... "

"میں ساتھ ہوں گا تب بھی اچھی نہیں لگی گی... ؟" وہ یونہی بڑے مبہم سے انداز میں اظہار کر جاتا تھا,  ساریہ خاموش رہ گئی 

ایک ہفتے بعد وہ اس کی کلاس میں تھی

"تھینک یو ساریہ مراد... " وہ خوش تھا...  بے پناہ خوش

"اب اگر میں فیل ہو گئی تو... ؟" وہ بس اس کے چہرے سے نظریں چرا گئی 

"...تو پھر ملاحم سعد کے ہونے کا تو جواز ہی ختم ہو گیا نا ... " 

.............................

اسے گھر آۓ دو دن ہو گئے تھے,  اس دوران کسی بھی گھر والے نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی,  سمعیہ اور فاطمہ کی اچھی خاصی منت سماجت کر کہ سہام دونوں بچے وہیں چھوڑ گیا تھا,  کئی بار اس نے ساریہ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود... وہ اس کی طرف دیکھ ہی نہیں رہی تھی,  وہ بیچارہ دو دن سے چھٹی پر تھا,  تیسرے دن مجبوراً ہاسپٹل چلا گیا, انشرہ مستقل اپنی امی کی طرف تھی,  ظاہر ہے ڈیڑھ سالہ بچی کو وہ اب ہسپتال ساتھ تو نہیں لیکر جا سکتی تھی,  طاہرہ بیگم سے بھی بس دو دن ہی گزرے,  تیسرے دن وہ اسے اٹھاۓ بھائیوں کے گھر آ گئیں 

"اے ساریہ...ادھر آ میرا بچہ,  پکڑ اسے,  میرے تو ہوش گم کر دیئے ہیں اس بچی نے" انہیں ساریہ کچن کے دروازے میں کھڑی نظر آئی تھی,  وہ چپ چاپ کان لپیٹ کر ادھر ادھر ہو گئی,  سعدیہ نے آگے بڑھ کر اسے پکڑا

"اے فاطمہ ہوا کیا ہے اسے... ؟ کیوں شوہر سے لڑ کر آ گئی ہے ؟" ان کا سانس پھولا ہوا تھا 

"خدا جانے پھپھو اب شوہر سے لڑی ہے یا سوتن سے... " سعدیہ کی زبان تو ویسے بھی ذرا ترش اور ترچھی ہی تھی

"لو... انشرہ بھلا کیوں لڑے گی اس سے...سارا دن تو بیچاری ہسپتال میں ذلیل ہوتی ہے,  اسی نے کچھ کہا ہو گا,  ذرا بلا تو اسے... میں پوچھوں" وہ وہیں بیٹھ گئیں 

"رہنے دیں طاہرہ آپا... وہ تو ہمیں بھی کچھ نہیں بتا رہی" سمعیہ نے کہا

"یہ کوئی طریقہ تو نہ ہوا,  کسی چیز کی کوئی کمی ہے کیا اسے... ؟ ماشاءاللہ ڈاکٹر ہے اس کا شوہر,  خدا نے بیٹا بھی دیا,  بیٹی سے بھی نوازا,  پورے گھر کی ملکہ ہے... عیش کرتی ہے" طاہرہ بیگم شروع ہو چکی تھیں,  سمعیہ نے بالکل ہی کان لپیٹ لئے, کچھ دیر بعد وہ مروہ کو وہیں چھوڑ کر واپس چلی گئیں,  سمعیہ کے لئے تو وہ اتنی ہی قابل محبت تھی جتنے ماہر اور منسا... انہوں نے بھی دوبارہ اسے طاہرہ کی طرف نہیں بھیجا,  رات آٹھ بجے انشرہ ڈیوٹی سے واپس آئی تو ملازمہ کو بھیج کر مروہ کو واپس بلا لیا,  وہ ڈیڑھ سالہ بچی بھی پورا دن ماں کے لمس کو ترس جاتی تھی, سہام رات کو بھی نہ آیا,  اس کی ڈبل شفٹ تھی

رات کے کھانے کے بعد مراد نے ساریہ کو اپنے کمرے میں بلایا,  فرہاد اور سمعیہ بھی وہیں تھے

"یہاں بیٹھو ساریہ بیٹے... " انہوں نے اپنے برابر جگہ بنائی,  وہ چپ چاپ بیٹھ گئی 

"کیا ہوا ہے بیٹے... ؟" انہوں نے پوچھا 

"سہام سے جھگڑا ہوا ہے ؟"

"نہیں"

"انشرہ سے کوئی تو تو میں میں ہو گئی"

"نہیں"

"بچوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ بنا ہے؟"

"نہیں "

مراد صاحب پوچھتے چلے گئے,  وہ نہیں نہیں کہتی چلی گئی 

"پھر اس طرح تن تنہا کیوں چلی آئیں ؟" وہ تھک کر بولے

"سہام نے مجھے غیر ذمہ دار کہا... " 

....................................

سعدیہ کی ڈیٹ فکس ہو گئی تھی,  گھر میں شادی کےہنگامے جاگ اٹھے,  انشرہ تین چھٹیاں لیکر آئی,  سہام مہندی والے دن بھی کلاسز لیکر آیا, دھیرے دھیرے سبھی ہال کے لئے نکل گئے, حسب عادت ساریہ محترمہ ہر ایک کی مدد کرنے میں خود کو بھلا ۓ ہوۓ تھیں,  سب کے کپڑے استری کئے,  جوتے پالش کئے,  پرفیوم,  کنگھا,  جرابیں, واسکٹس... ہادیہ میڈم تو اپنے کمرے اٹھا کر دلہن کے ساتھ پارلر چلی گئیں, بالکل آخر میں رہ جانے والے چند ایک لوگوں میں وہ سب سے آخری تھی,  گھر سے ہال تک کا آخری چکر تھا,  مراد صاحب گاڑی لیکر آۓ تھے, ملاحم ان کے پیچھے ہی اندر داخل ہوا تھا 

"چلو بھئی جلدی کرو... کون کون رہ گیا یے" مراد صاحب نے آواز لگائی 

"ساریہ اوپر ہے.... " فاطمہ نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے کہا

"ساریہ... " انہوں نے اسے آواز دی تھی 

"بس آ گئی ابو... " وہ دو,دو سیڑھیاں ایک ساتھ پھلانگ رہی تھی جب ملاحم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا

سیاہ بال ادھر ادھر لہرا رہے تھے,  کلائیوں میں چوڑیاں کھنک رہی تھیں, دونوں ہاتھوں سے اپنا گولڈن گھیر دار شرارہ ذرا سا اوپر کیے وہ نیچے اتری تھی

ملاحم کی دنیا درہم برہم ہوئی تھی 

نجانے وہ واقعی اسقدر حسین تھی کہ اس سمے نے اسے اتنا حسین بنا دیا تھا

"چلیں ابو... " وہ پھولی سانسوں کی ساتھ اس کے پاس آ کھڑی ہوئی 

"جلدی چلو... " مراد صاحب باہر نکلے,  باقی سب ان کے پیچھے 

"میرے ساتھ جانا... پلیز" وہ خوشبوؤں کا ایک جھونکا بن کر اس کے قریب سے گزری تو ملاحم نے دھیرے سے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تھی

اس چاند چہرے پر ایک دم شفق کی سرخیاں پھیلی تھیں,  وہ نا محسوس سے انداز سے سب سے پیچھے رہ گئی,  گاڑی بھر گئی,  وہ رہ گئی 

"انکل اگر آپ برا محسوس نہ کریں تو ساریہ کو میں لے آتا ہوں" وہ بڑے سبھاؤ سے بولا

"موٹر سائیکل پر کیسے لاؤ گے ؟" مراد صاحب ہچکچاۓ

"نہیں نہیں انکل... میں کسی دوست سے کہہ دیتا ہوں,  گاڑی دے جاۓ گا, ہم بس آپ کے پیچھے پیچھے ہی آ رہے ہیں" ملاحم نے کہا

"چلو ٹھیک ہے" مراد صاحب مطمئن ہو کر گاڑی نکال لے گئے,  ملاحم نے اسی وقت کسی کو کال کر کہ گاڑی لانے کا کہا تھا, ساریہ نے نظر بھر کر اسے دیکھا,  گرے تھری پیس میں ملبوس وہ وجاہت کا شاہکار ہی لگ رہا تھا, ملاحم نے کال ڈس کنیکٹ کرتے ہوئے اسے دیکھا,  ساریہ اسے ہی دیکھ رہی تھی,  ملاحم دھیرے سے مسکرایا

وہ سرخ ہو کر نظریں چرا کر دروازے سے پیچھے کو ہٹ گئی, ملاحم نے سیل جیب میں ڈالتے ہوئے اس کی پشت کو دیکھا,  وہ دو قدم چل کر لان میں پڑی کرسی پر بیٹھ گئی,  ملاحم اس کے قریب ترین درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا

"تھینک یو ساریہ... " وہ دھیرے سے بولا

"کس بات کے لئے ؟" وہ بولی

"تم میری ہر بات مان لیتی ہو" وہ مسکرایا,  ساریہ نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے سر جھکا لیا

"ساریہ مراد... آج بہت خوبصورت لگ رہی ہے" وہ آہستگی سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا,  کرسی گھسیٹی اور عین اس کے سامنے آ بیٹھا, ساریہ کے گھٹنے اس کے گھٹنوں کو چھو رہے تھے,  ملاحم نے بڑے حق سے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا

ساریہ جھجھک گئی,  وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا,  چند لمحوں بعد اس نے اپنا مہندی سے سجا ملائم سا ہاتھ اس کی چوڑی ہتھیلی پر رکھ دیا,  ملاحم کی چاروں انگلیاں اسے مقید کر گئیں 

"ساریہ... " وہ اس کے چہرے کو حفظ کر رہا تھا,  ساریہ نے بمشکل نظریں اٹھا کر اسے دیکھا

"آج سے... ابھی سے... ملاحم سعد صرف تمہارا ہے,  ہمیشہ تمہارا ہی رہے گا,  ہمیشہ تم سے ہی محبت کرے گا, میں کوئی شاعر نہیں ہوں ساریہ... مجھے حرف جوڑنے نہیں آتے,  میں کوئی موسیقار بھی نہیں ہوں... سو تمہارے لئے دھنیں تخلیق نہیں کر سکتا,  میں کوئی مصور بھی نہیں ہوں... ورنہ تمہیں رنگ رنگ بکھیر دیتا,  میں ایک انتہائی نکما سا انسان ہوں... میں بس محبت کر سکتا ہوں,  اور ہمیشہ کرتا رہوں گا" 

..........................

سہام اور انشرہ کی زندگی بے حد مشکل ہو گئی تھی,  ان کے آبائی گھر سے ہسپتال کا راستہ تقریباً آدھے گھنٹے کا تھا جو صبح صبح ٹریفک رش کی وجہ سے گھنٹے پر محیط ہو جاتا تھا, اسی مصیبت کی وجہ سے سہام نے ہسپتال کے بالکل قریب گھر لیا تھا,  اب جب سے ساریہ واپس آئی تھی,  ان دونوں کی سفر نے ہی مت مار رکھی تھی,  ظاہر ہے وہ اور انشرہ کسی تیسرے بندے کے بنا الگ نہیں رہ سکتے تھے... مروہ کو کون دیکھتا... ؟ کھانا کون پکاتا... ؟ 

سہام نے ایک ایک کی منت کر لی کہ جب تک ساریہ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تب تک کوئی ان دونوں کے ساتھ چل کر رہے,  طاہرہ کی تو صاف "ناں" تھی,  سعدیہ کے اپنے دو بچے تھے,  اس کا شوہر انگلینڈ ہوتا تھا,  سال بعد آتا تھا تو سسرال جاتی تھی,فاطمہ جاتیں تو پچھلوں کو کون دیکھتا... سمعیہ ویسے بلڈ پریشر کی مریض تھیں... ہادیہ کی یونیورسٹی...ایک ہفتے میں ہی سہام کے چھکے چھوٹ گئے,  اس رات وہ نائیٹ شفٹ کر کہ صبح آٹھ بجے فارغ ہوا,  پورے دو گھنٹے بعد گھر پہنچا... اور بنا اوور آل اتارے ساریہ کے کمرے میں جا گھسا,  وہ منسا کو گود میں لئے فیڈر پلا رہی تھی

"اگر تم چاہتی ہو نا کہ میں سب کے سامنے تمہارے پاؤں پکڑ کر تم سے معافی مانگوں... تو خدا کی قسم میں یہ بھی کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن پلیز ساریہ,  مجھ پر رحم کرو,  قیامت تو جب آنی ہے سو آنی ہے میرے لئے یہ گزرا ایک ہفتہ ہی قیامت تھا,  خدا کے لئے... بس کر دو,  یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ,  معاف کر دو, تمہیں میرا غیر ذمہ دار کہنا برا لگا نا... اس کے لئے ہزار دفعہ سوری,  آئیندہ نہیں کہوں گا,  کچھ بھی نہیں کہوں گا" وہ ہاتھ جوڑے کہتا چلا گیا,  ایک لمحے کو ساریہ کے دل پر ہاتھ پڑا

"سہام ہاتھ نہ جوڑیں... پلیز" وہ منہ پھیر گئی 

"ساریہ... میری جان چلو گھر چلیں" سہام نے اس کے قریب آ کر اس کا بازو پکڑا

"میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر... یہ ایک ہفتہ جو تمہارے بغیر گزرا... یہ میں ہی جانتا ہوں کہ کیسے گزرا... ؟ مجھے تمہاری ضرورت ہے ساریہ پلیز... " وہ کہے جا رہا تھا,  ساریہ نے دھیرے سے اپنا بازو چھڑوایا 

"آپ کو میری ضرورت کیوں ہے سہام... ؟" اس نے پوچھا 

"کیونکہ میں اور انشرہ اکیلے مینیج نہیں کر..." ساریہ نے اس کی بات کاٹ دی,  سعدیہ اور فاطمہ کھلے دروازے میں کھڑی تھیں

"آپ اور انشرہ... سہام آپ اور انشرہ... بس,  بات ختم... آپ کو ساریہ نامی ایک بیوی کی ضرورت نہیں ہے سہام... آپ کو ساریہ نامی ایک خدمت گار کی ضرورت ہے بس...آپ دونوں کماتے ہیں,  اچھی سی اجرت پر ایک ملازمہ رکھ لیں... مجھ سے شرط لگا لیں اگر اس کے بعد آپ کو ساریہ مراد کا نام بھی یاد رہ جاۓ تو... " 

..............................

وہ پانی پینے اٹھی تھی,  رات کے گیارہ بج رہے تھے,  پانی کی بوتل خالی... سر جھٹک کر وہ باہر نکلی,  سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی تو سمعیہ کے کمرے کی لائیٹ جل رہی تھی, اس کی چھٹی حس جاگ گئی,  وہ دھیرے سے دروازے سے آن لگی,  سمعیہ اور فرہاد کے علاوہ سہام بھی اندر ہی تھا

"سہام یہ تیرا چوتھا سال ہے, اگلے سال تو فارغ ہو جاۓ گا, اسی سال ساریہ کا بھی بی ایس مکمل ہو جاۓ گا,  ہم دونوں سوچ رہے تھے کہ ساریہ کا بی ایس ہوتے ہی اگر تیری اور ساریہ منگنی... " اندر بیٹھے سہام اور باہر کھڑی ساریہ پر ایک ساتھ بجلی کڑکی تھی

"ابو... کیا مطلب... ؟" وہ اچھل پڑا, فرہاد صاحب ایک دم خاموش ہو گئے 

"ابو ساریہ بہت اچھی لڑکی ہے لیکن مجھے اس سے شادی نہیں کرنی,  میں نے اس کے بارے میں اس نہج پر کبھی نہیں سوچا,  مجھے اپنے پروفیشن کی ہی کسی لڑکی سے شادی کرنی ہے جو کل کو میرے ساتھ میرے برابر میں کھڑی ہو" سہام کہتا چلا گیا, سمعیہ نے فرہاد کی طرف دیکھا 

"اول تو ابھی رک جائیں...ایم بی بی ایس مکمل ہو لینے دیں,  اگر نہیں تو پھپھو سے بات کر لیں,  مجھے انشرہ سے شادی کرنی ہے" اس نے فیصلہ سنا دیا,  باہر کھڑی ساریہ کی جان میں جان آئی تھی

"اب طاہرہ سے کون بات کرے گا... ؟" سمعیہ کے طوطے اڑ گئے تھے... فرہاد صاحب کے چھکے چھوٹ گئے تھے 

"آپ اور ابو... " 

............................

وہ کلاسز لیکر نکلی تو شام کے ساۓ گہرے ہو رہے تھے, تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہ مین گیٹ کی طرف بڑھنے لگی, اسے حاشر لینے آتا تھا

"یونیورسٹی گارڈن تک چلو گی... ؟" ملاحم کی آواز پر وہ پلٹی

"دیر ہو رہی ہے ؟" اس نے کہا

"میں چھوڑ آؤں گا" ساریہ ہچکچا گئی 

"بائیک پر نہیں بیٹھنا تو گاڑی میں چھوڑ آؤں گا" وہ اس کی ہر ہچکچاہٹ سمجھ لیتا تھا,  ساریہ نے کال کر کہ حاشر کو منع کر دیا

"چلو... " وہ بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے بولی,  ملاحم کی آنکھوں کی جگ مگ ہی نرالی تھی,  پندرہ,  بیس منٹ وہ اسے اپنے پہلو میں لئے چلتا رہا, شام کے ساۓ گہرے ہو رہے تھے,  آسمان پر لالیاں بکھر رہی تھیں,  وہ دنوں دو طرفہ درختوں کی قطاروں کے درمیان بنی روش پر چل رہے تھے,  ہوا کا جھونکا آتا تو پتے دور تک بکھر جاتے,  چڑیوں کی چوں چوں کسی بیک گراؤنڈ میوزک کا کام دے رہی تھی

"ملاحم... رات ہونے والی ہے" وہ چلتے چلتے رک گئی,  ملاحم پلٹا 

"چلو گھر چلیں... " وہ بولی, ملاحم دھیرے سے مسکرایا

"کاش کہ تمہارے ساتھ گزارے ہوٍۓ لمحے واپس لانے کا کوئی منتر ہوتا..." ساریہ نے سر جھکا لیا,  ملاحم نے اپنی جیکیٹ کی جیب سے ایک گلاب کا پھول نکالا اور دو قدم اس کے قریب ہو کر اس کی طرف بڑھا دیا

"سالگرہ مبارک ہو... ساریہ مراد" وہ مسکرا رہا تھا

ساریہ نے بڑے جذب سے مسکراتے ہوئے گلاب پکڑ لیا

"تھینک یو... " 

"چلو تمہیں چھوڑ آؤں " وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر بولا جسے ساریہ نے ایک ہلکی سی جھجک کے بعد تھام لیا

"ملاحم... ایک بات پوچھوں ؟" 

"پوچھو... "

"انشرہ مجھ سے زیادہ حسین ہے,  ہماری کلاس میں بہت ساری لڑکیاں مجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں,  تمہارے سوشل سرکل میں کئی لڑکیاں محھ سے زیادہ کانفیڈینٹ اور شارپ ہوں گی لیکن... تمہیں مجھ سے ہی محبت کیوں ہوئی ؟" اس نے پوچھا,  ملاحم ہنس دیا

"میں بس اتنا پوچھوں گا کہ سہام مجھ سے زیادہ ہینڈسم اور ڈیشنگ ہے, ڈاکٹر ہے,  تمہارا کزن ہے پھر تمہیں مجھ سے ہی محبت کیوں ہوئی ؟" ملاحم نے کہا

"میں نے کب کہا کہ میں تم سے محبت.... " ساریہ ایک دم بولتے بولتے رکی,  ملاحم اپنی انتہائی روشن آنکھوں سے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا 

"نہیں کرتی ہو... ؟" اس نے پوچھا,  یونیورسٹی گیٹ آ گیا تھا,  گاڑی گیٹ کے باہر کھڑی تھی

"بولو ساریہ... تم مجھ سے محبت نہیں کرتیں ؟" وہ مجسم سوال بنا کھڑا تھا

"صرف آج نہیں... صرف ابھی نہیں...میں ساری عمر تم سے محبت کروں گی ملاحم... "

........................

جاری ہے


قسم سے یار میں تمہارا Episode No 1

 قسم_سے_یارا_میں_تمہارا

عائشہ_ذوالفقار 

پہلی قسط 


دروازہ بڑی زور سے دھڑکا تھا,  اس نے بمشکل اپنی نیند بھری آنکھیں کھولیں,  بخار کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آنکھوں کے پپوٹے بھی دکھ رہے تھے, پوری کوشش کے باوجود وہ ایک دم اٹھ نہ سکی,  اس کے پہلو میں دائیں طرف لیٹی تین سالہ منسا مسلسل رو رہی تھی, بائیں طرف لیٹا چار سالہ ماہر بھی اٹھ گیا تھا اور مسلسل ریں ریں کر رہا تھا

دروازہ پھر سے دھڑ دھڑایا گیا تھا 

"ساریہ... دروازہ کھولو,  باہر نکلو" سہام کی غصے سے چنگھاڑتی ہوئی آواز نے اس کے حواس جھنجھوڑے تھے,  وہ ایک دم کمبل ہٹاتے ہوئے بستر سے اتری, مسلسل روتی ہوئی منسا کو گود میں اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھی,  پورا بدن بخار میں پھنک رہا تھا,  دو,  تین قدم اٹھاتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا,  دھڑام سے فرش پر گری,  قالین کی وجہ سے تھوڑی بچت ہو گئ تھی, منسا کا باجا اور اونچا ہو گیا,  بمشکل اس نے دروازہ کھولا

"ساریہ یہ کوئی ٹائم ہے اٹھنے کا,  پتہ بھی ہے تمہیں کہ میں نے آٹھ بجے ہاسپٹل پہنچنا ہوتا ہے,  نہ کپڑے استری کئے ہوئے ہیں,  نہ ناشتا بنایا ہے... " سہام ایک دم اس پر برس پڑا,  ساریہ نے دھیرے سے اپنی آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا تھا, ماہر بھی ریں ریں کرتا ہوا اس کی ٹانگوں سے آ کر چپک گیا تھا

"ساریہ یار پکڑو اسے... پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے اسے,  اس کا پیمپر بھی چینج کروا دینا اور فیڈر بھی دے دینا,  کمرہ بھی سمیٹ دینا پلیز... " انشرہ نے انتہائی کوفت سے بلکتی ہوئی مروہ کو اس کی گود میں چڑھا دیا

"میرے اوور آل دھونے والے ہیں ساریہ,  اور کپڑے بھی,  وہ دھو دینا...اور میرے ڈاکیومنٹس والا کیبن بھی صاف کر دینا, اسے کھولوں تو ایک دم الٹی کر دیتا ہے,  دس دن ہو گئے ہیں تمہیں کہتے ہوئے " سہام نے اس کی طرف دیکھے بغیر ایک نیا حکم صادر کیا تھا

"بلکہ مشین ہی لگا لینا ساریہ... بچوں کے بھی گندے کپڑوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے,  کچن بھی دیکھ لینا,  رات کے برتن بھی یونہی پڑے ہیں,  پانی بھی آنے والا ہو گا,  مروہ کو نہلانا بھی ہے آج... شام میں اسے انجکشن لگوانے جانا ہے" انشرہ جلدی جلدی اوور آل پہن رہی تھی

"جلدی اٹھا کرو ساریہ... تمہیں پتہ بھی ہے کہ ہم دونوں نے ڈیوٹی پہ جانا ہوتا ہے,  صبح ذرا جلدی اٹھ کہ کام نمٹا لیا کرو اس کے بعد پورا دن سونا ہی ہوتا ہے تم نے, تھوڑی سی ذمہ داری پکڑ لو یار... دو بچوں کی ماں بن گئی ہو, انشرہ کا تو تمہیں پتہ ہی ہے سارا دن ہسپتال ہوتی ہے,  مروہ بھی تمہاری ذمہ داری ہی ہے,  دیکھو ذرا ایک نظر... پورا گھر کوڑے کا ڈھیر بنایا ہوا ہے تم نے,  خدا جانے تم سارا دن کرتی کیا رہتی ہو ؟ " سہام اس کی ساری اگلی پچھلی اکارت کر رہا تھا, ساریہ نے ایک نظر اسے دیکھا

یعنی وہ شادی کے پانچ سال بعد بھی غیر ذمہ دار ہی تھی...صبح سے لیکر شام تک اس کے تین بچے,  اس کا گھر,  اس کا کھانا پینا,  پہننا اوڑھنا,  نہانا دھونا... سب کچھ کرنے کے باوجود وہ غیر ذمہ دار تھی

وہ دونوں ہاسپٹل جانے کے لیے بالکل تیار تھے,  سہام نے گاڑی کی چابی اٹھائی تھی

"چلو جلدی... " وہ انشرہ کو اشارہ کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا

ساریہ کو لگا جیسے ابھی پورا گھر اس کے سر پر آ گرے گا,  مسلسل روتے ہوئے تین بچے, گندا مندا کچن, ہر طرف پھیلاوا, میلے کپڑوں کا ڈھیر...اور پچھلے چار دنوں سے شدید دکھتا ہوا بدن

اس کی ایک دم بس ہوئی تھی... پچھلے پانچ سالوں کا ایک ایک دن اس پر قہقہے لگا رہا تھا 

"سہام... " پوری ہمت جمع کر کہ اس نے سہام کو آواز دی تھی,  وہ ایک دم رکا, انشرہ بھی رک گئی تھی, وہ دو قدم آگے بڑھی,  ڈیڑھ سالہ مروہ کو انشرہ کی گود میں دیا,  منسا کو سہام کی گود میں چڑھایا اور ماہر کو بازو سے پکڑ کر اس کی جانب دھکیل دیا

"میں امی کے گھر جا رہی ہوں... آپ یہاں کسی ذمہ دار کو لے آئیں"دوپٹہ سر پر اوڑھ کر اس نے پاؤں میں سلپرز ڈالتے ہوئے دھیرے سے کہا اور باہر نکل گئی, سہام اور انشرہ حیران پریشان کھڑے رہ گئے تھے

"ساریہ... رکو تو... کیا ہوا ؟" ایک دم ہوش آنے پر وہ دروازے کی طرف بھاگا لیکن ساریہ سنی ان سنی کرتے ہوئے باہر نکلتی چلی گئی,  انشرہ نے ایک نظر اپنی گود میں پڑی مروہ کو دیکھا... پھر سارے گھر کو اور پھر گھڑی کو... جو پورے آٹھ بجا رہی تھی

"یااللہ..." اب کے اسے لگا جیسے پورا گھر اس کے سر پر آ گرے گا

.........................................

"لاؤ بک دو,  ٹیسٹ لکھواؤں" سعدیہ اپنے لئے کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ گئی,  ساریہ نے جلدی سے بائیو کی کتاب اس کی طرف بڑھا دی

"بس کرو اب رٹا لگانا" سعدیہ نے مسلسل رٹا لگاتے سہام کو ٹوکا

"بس دو منٹ... " وہ بولا

"ہو گئے دو منٹ... بند کرو اسے" سعدیہ نے اس کے ہاتھوں سے کتاب چھین لی,  وہ بس تلملا کر رہ گیا,  سعدیہ نے اسے گھورتے ہوۓ ٹیسٹ لکھوایا دیا

"میں آدھے گھنٹے بعد چیک کر لوں گی... خبردار جو ایک دوسرے کی طرف دیکھا بھی تو... " اس کی یہ وارننگ سراسر سہام کے لیے تھی, ساریہ اور انشرہ دونوں سر جھکاتے ہوۓ ادھر ادھر ہو کر بیٹھ گئیں 

"تم اپنی کرسی اس کونے میں لے جاؤ... شاباش" سعدیہ نے کہا

"کیوں... ؟" وہ بلبلا کر بولا

"کیوں کا کیا مطلب... چلو" سعدیہ نے اسے گھرکا

"وہاں لائیٹ کم ہے... " پہلا بہانہ

"کھڑکی کھول لو... " 

"ہوا آتی ہے اور مجھے سردی لگتی ہے" دوسرا بہانہ 

"واش روم کی لائیٹ جلا لو"

"افوہ... اسقدر بدبو آتی ہے وہاں سے" تیسرا بہانہ

"سہام... شٹ اپ" سعدیہ کی بس ہو گئ,  وہ منہ بناتا ہوا کونے میں جا کر بیٹھ گیا,  دوسرے سوال پر ہی اس کی بے چینی شروع ہو گئی تھی

یہ کیسا سوال ہے ؟ یہ تو کتاب میں ہے ہی نہیں... یہ تو سلیبس میں تھا ہی نہیں... یہ پتہ نہیں کہاں سے دے دیا,  یہ والا تو لمبا ہی بہت ہے,  توبہ اتنا مشکل ٹیسٹ... پھر جب دال نہ گلی تو چیٹنگ... 

"ساری... اے ساری,  یہ کہاں سے آیا ہے ؟" وہ مسلسل سرگوشیاں کر رہا تھا 

"سعدیہ آپی... سہام مسلسل چیٹنگ کر رہا ہے" حالانکہ اس نے انشرہ سے کچھ بھی نہیں پوچھا تھا لیکن انشرہ جانتی تھی کہ ساریہ اسے الف سے لیکر ے تک سارا ٹیسٹ بتا دے گی

"سہام... باہر آ جاؤ میرے پاس" سعدیہ نے اسے آواز دی تھی 

"چڑیل... تم سے پوچھا تھا بھلا... " سہام تن فن کرتا باہر نکل گیا تھا...انشرہ اور وہ تو ازلی دشمنوں کی طرح تھے

وہ تینوں آپس میں کزنز تھے,  انشرہ اکلوتی تھی,  اس کے ابو دبئی میں کام کرتے تھے,  اس کی امی سہام اور ساریہ کی پھپھو تھیں,  کئی کنال پر پھیلا ان کا انتہائی شاندار بنگلہ نما گھر تھا,  شاندار سی گاڑی تھی... اور کئی ایکڑ کی زرعی اراضی بھی تھی

ان کے بنگلے کے بالکل ساتھ ان کے دونوں  بھائیوں کا مشترکہ گھر تھا, سہام کی بابا بڑے تھے,  ان کا پورشن نیچے تھا,  سب سے بڑی سعدیہ,  اس سے چھوٹا سہام اور سب سے چھوٹی ہادیہ...ان دونوں بھائیوں کا کپڑے کا کاروبار تھا,  سعدیہ نے بائیو میں ایم ایس سی کی ہوئی تھی,  اوپر والا پورشن ساریہ کے بابا کا تھا... اس سے چھوٹا حاشر تھا,  ساریہ,  سہام اور انشرہ تینوں نویں میں تھے... اور سعدیہ کے پاس ٹیوشن پڑھتے تھے, تائی امی اور چچی دونوں آپس میں بہنیں تھیں سو روایتی جیٹھانی اور دیورانی والے سیاپے ختم تھے

............................................

صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا, کچن میں گہما گہمی اپنے عروج پر تھی,  تائی امی مسلسل ایک کے بعد دوسرا پراٹھا توے سے اتار رہی تھیں اور چچی بھاگ بھاگ کر کچن کے بالکل ساتھ رکھی ڈائیننگ ٹیبل پر رکھتی جا رہی تھیں, تایا ابا اور چچا دونوں دوکان پر جانے کے لئے تیار تھے, حاشر نے کالج جانا تھا,  ہادیہ کی وین دروازے پر کھڑی تھی,  سعدیہ کے دونوں بچے سکول جانے کے لئے تیار تھے,  وہ ان کے پیچھے بھاگ بھاگ کر پاگل ہوئی پڑی تھی

"فاطمہ چاۓ بھی لے آؤ" تایا ابا نے آواز لگائی 

"امی میرا پراٹھا بھی بنا دیں... مولی والا" حاشر کچن کے دروازے میں ایستادہ تھا

"ایک طرف ہٹو... میں اپنے بچوں کے لنچ باکس تیار کروں,  سارا دن بھوکے پیاسے کیسے پڑھیں گے " سعدیہ اسے ایک طرف کرتی ہوئی کچن میں آگئی

"ہاں ہاں...آپ کے بچے تو خیر سے سی ایس ایس کی تیاری کر رہے ہی نا سعدیہ آپی,  صبح سے شام تک مسلسل کتابیں چھانتے ہیں, ایک میں ہوں جو پچھلے دس گھنٹوں سے مولی والے پراٹھے کی فریاد کرے جا رہا ہوں" حاشر نے کہا

"امی پلیز... پہلے اس بھکڑ کو مولی والا پراٹھا بنا دیں تاکہ یہ جاۓ یہاں سے" سعدیہ نے اسے گھورا

"تائی امی میرا آملیٹ... " ہادیہ کندھے پر بیگ ڈالے دھڑ دھڑ کرتی سیڑھیاں اتری تھی

"اوہ... چلو میرے پیچھے لائن میں لگو" حاشر نے اسے بازو سے پکڑ کر کچن میں جانے سے روکا تھا

"مجھے دیر ہو رہی ہے" وہ چیخی, وین والے نے ہارن بجایا تھا

تبھی بیرونی دروازہ کھلا,  سب نے ایک دم دروازے کی طرف دیکھا... ساریہ اندر داخل ہوئی تھی...اکیلی

"ساریہ... میرا بچہ اس وقت... خیر تو ہے نا" فاطمہ ہر شے چھوڑ چھاڑ اس کی طرف بڑھیں تھیں,  تائی امی بھی کچن سے باہر نکل آئیں, ساریہ دو قدم آگے کو آئی تھی

ستا ہوا چہرہ... سر سے ڈھلکتا ہوا دوپٹہ,  انتہائی پر شکن کپڑے,  پیروں میں عام سے سلپرز

"ساریہ کیا ہوا بیٹا... ؟" مراد صاحب ایک دم اس کے قریب آۓ 

"ابو... " سرگوشی کے سے انداز میں ساریہ کے لبوں سے نکلا,  ساتھ ہی پچھلے کئی دنوں کا غبار آنکھوں کے راستے بہہ نکلا اور اس سے پہلے کہ وہ ان کی آغوش میں جاتی,  زور دار چکر آیا اور وہ دھڑام سے وہیں فرش پر گر گئی 

"ساریہ... " فاطمہ اور مراد کے کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا, مراد صاحب نے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا... وہ بخار میں پھنک رہی تھی

.......................

"سعدیہ آپی... ملاحم پوچھ رہا تھا کہ وہ کل سے آ جاۓ" سہام نے وہی رٹ شروع کی تھی

"کیوں ؟ " سعدیہ نے اسے گھورا

"وہ کہہ رہا تھا کہ اس کی بائیو کافی ویک ہے... وہ الگ سے بائیو کی ٹیوشن پڑھنا چاہتا ہے" ملاحم اس کا سکول فرینڈ تھا

"دیکھو سہام... ابو کی طرف سے اجازت نہیں ہے" سعدیہ نے کہا

"ان سے میں بات کر لوں گا,  آپ اپنا بتائیں " سہام نے کہا

"تم پہلے ابو سے تو بات کرو" سعدیہ نے جان چھڑوانی چاہی,  لیکن فرہاد صاحب کو منانا تو سہام کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا,  وہ آخر کو ان کا اکلوتا بیٹا تھا, انہیں ماننا ہی پڑا

اگلے ہی دن سے ملاحم ان کی کلاس کا چوتھا سٹوڈنٹ بن گیا تھا,  دھیرے دھیرے ان چاروں کی چوکور بن گئی,  انشرہ اور سہام کا مزاج ایک جیسا تھا...طوفانی,  غصیل... اور تند

ان دونوں کی بس کچھ ہی دیر بنتی تھی,  اس کے بعد ٹھشون فشوں... لیکن بگڑتی بھی بس کچھ ہی دیر تھی, اگلے ہی پل ایک ہو جاتے تھے,  ساریہ بہت زیادہ دھیمے مزاج کی تھی,  بالکل اپنے ابا جیسی... چھاؤں جیسی

دھیرے دھیرے وقت سرکا... وہ چاروں سیکینڈ ایئر تک پہنچ گئے, سہام اور انشرہ دونوں بہت ذہین تھے,  ساریہ کبھی کبھار مات کھا جاتی تھی,  ملاحم کبھی اوپر... کبھی نیچے

سہام, انشرہ اور ملاحم تینوں نے اینٹری ٹیسٹ دیا تھا

صرف سہام اور انشرہ کا میڈیکل میں ایڈمیشن ہوا ...ملاحم دو,  تین دن ان گھر والوں کا سامنا ہی نہیں کر سکا,  بڑی مشکل سے سہام اسے کھینچ تان کر لیکر آیا

"پھر کیا ہوا... کچھ اور کر لینا" سبھی نے حوصلہ دیا لیکن... اس سرما کی دھوپ جیسی لڑکی کا دیا حوصلہ سب سے انمول تھا

وہ سردیوں کی ایک شام تھی,  سہام اسے اوپر لے آیا تھا,  ساریہ چاۓ لیکر آئی تھی,  سہام کا موبائل بجا اور وہ اسے کان سے لگا کر نیچے اتر گیا,  ملاحم سر جھکاۓ بیٹھا تھا, وہ ٹیرس کی ریلنگ کے قریب ہی بیٹھے تھے,  نیلے آسمان پر سفید بادل ٹکروں کی شکل میں تیر رہے تھے,  ہواؤں کے جھونکے جیسے چھپن چھپائی کھیل رہے تھے,  سورج بڑی جاذبیت سے وہ سارا منظر دیکھتے ہوۓ غروب ہو رہا تھا 

"یہ لو... " ساریہ نے کپ اس کی طرف بڑھایا, اس نے چپ چاپ پکڑ لیا

"تم پتہ کیا کرو ملاحم... ؟" وہ کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی,  ملاحم ہمہ تن گوش تھا

"تمہارا انگلش کا ایکسینٹ بہت اچھا ہے,  تم بی ایس انگلش کر لو,  پھر سی ایس ایس کر لینا" ملاحم ایک دم ہنس پڑا 

"سی ایس ایس کرنا کیا اتنا ہی آسان ہے جتنا تم نے کہہ دیا" وہ بولا 

"جب کرو گے تو آسان ہو جاۓ گا نا... " وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی,  ملاحم نے نظر بھر کر اسے دیکھا,  وہ اڑتے ہوئے بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑس رہی تھی

"تم کیا کرو گی ؟" اس نے پوچھا 

"کیا کروں ؟" ساریہ نے اپنا چہرہ اہنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں رکھا,  ملاحم کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر دھیرے سے بولا

"میرا انتظار... " 

....................................

اسے دو گھنٹوں بعد ہوش آیا تھا,  پچھلے ایک ہفتے سے اسے بخار تھا جو بگڑ کہ ٹائفاییڈ بن چکا تھا,  ہسپتال والوں نے اسے داخل کر لیا تھا,  فرہاد صاحب نے ہسپتال پہنچتے ہی سہام کو کال کی تھی

"کیا کہا ہے تم نے ساریہ کو... ؟" وہ فون پر ہی اس پر برس پڑے 

"ابو میں... میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا" وہ بوکھلا گیا

"کہاں ہو ؟" 

"گھر ہوں... چھٹی کی ہے آج" اس کی آواز سے لگ رہا تھا کہ وہ کتنا بیزار تھا

"وہ بچی ہسپتال کے بیڈ تک پہنچ گئی ہے سہام اور تم کہہ رہے ہو تم نے کچھ نہیں کہا" فرہاد صاحب نے کہا

"ساریہ ہسپتال میں ہے... " سہام کو یہ بھی نہیں پتہ تھا,  انہوں نے تاسف سے کال کاٹ دی,  دوپہر کے قریب سمعیہ کو سہام کی کال آئی 

"امی... ساریہ گھر آ گئی ؟" ہسپتال جانے کی ایک تو اس کی ہمت نہیں پڑی,  دوسرے بچے اسے ہلنے بھی نہیں دے رہے تھے

"نہیں... شام کو ڈسچارج ہو گی" سمعیہ نے کہا

"بچے آپ کے پاس چھوڑ دوں ؟" اس کی بس ہو گئ تھی

"سہام تو نے آخر کیا کیا ہے ؟" وہ بولیں 

"امی میں نے کچھ نہیں کیا... " وہ جھلا گیا,  دوپہر تک انشرہ کی بس ہو گئ 

"سہام خدا کا واسطہ... میں پاگل ہو جاؤں گی پلیز یا تو مجھے امی کی طرف جانے دو یا ان دونوں کو ماموں لوگوں کی طرف چھوڑ آؤ" وہ رونے والی ہو گئی تھی

بچے سنبھالنا کہاں آسان ہوتا ہے... اب ایک رو پڑا,  اب دوسرا,  اب ایک کو پوٹی آ گئی,  اب دوسرے نے سو سو کر لیا,  اب تیسرے نے دودھ نکال دیا,  اب پہلے کو بھوک لگ گئی,  اب دوسرے کو نیند آ گئی, اب تیسرے نے پیمپر بھر دیا,  اب پہلا سو کر اٹھ گیا,  اس نے رو کر دوسرے کو بھی جگا دیا... اف توبہ

دن کے دو بج رہے تھے جب سہام منسا اور ماہر کو سعدیہ کے پاس چھوڑ کر ہسپتال پہنچا,  انشرہ اپنی امی کی طرف چلی گئی تھی,  ساریہ کو ہوش آ گیا تھا,  سہام کی شکل دیکھتے ہی اس نے آنکھیں بند کر لیں, شام تک وہ ڈسچارج ہو گئی تھی, سہام اس سے کوئی بھی بات کرنے کی ہمت نہ کر سکا

رات کے کھانے کے بعد اس کی پیشی ہو گئی,  فرہاد صاحب کے کمرے میں... فرہاد,  سمعیہ,  فاطمہ اور مراد 

"پانچ سال ہو گئے ہیں تمہاری اور ساریہ کی شادی کو... ان پانچ سالوں میں روٹھ کر میکے آنا تو درکنار... اس نے کبھی کال پر بھی اپنا کوئی دکھڑا نہیں رویا,  کبھی تمہاری کوئی شکایت نہیں کی,  تین سالوں سے وہ انشرہ کے ساتھ رہ رہی ہے لیکن کبھی اس کے خلاف بھی کچھ نہیں کہا,  کبھی آج تک وہ ناراض ہو کر یہاں نہیں آئی... پھر اب ایسا کیا ہو گیا کہ وہ دونوں بچے چھوڑ کر تن تنہا یہاں چلی آئی... وہ بھی ایک سو تین بخار کے ساتھ ؟" فرہاد صاحب کہتے چلے گئے 

"ابو... قسم سے مجھے نہیں پتہ کہ اسے کیا ہوا ہے,  مجھے نہیں پتہ کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی,  اس نے بتایا ہی نہیں کہ اسے بخار تھا,  آج صبح وہ دیر سے اٹھی,  مجھے تھوڑا سا غصہ آ گیا بس... لیکن خد ا کی قسم میں نے اسے ہاتھ تک نہیں لگایا,  بس اتنا کہا کہ جلدی اٹھ جایا کرو, وہ ایک دم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آ گئی " سہام نے کہا,  اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ سچ کہہ رہا ہے,  فرہاد صاحب کو بھی اپنے خون پر اتنا مان تو تھا کہ اس نے ساریہ پہ ہاتھ نہیں اٹھایا ہو گا... گالی نہیں دی ہو گی

"آپ اسی سے پوچھ لیں... کہ کیا ہوا ہے؟" 

...............................

 جاری ہے....

Next episode will post on your response.