Thursday, 20 June 2024

تم میرے نکاح میں ہو EPISODE NO 33

 #تم_میرے_نکاح_میں_ہو

#قسط_نمبر33(کنول اینڈ آفتاب روٹھنا منانا)


💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
کیا بدتمیزی ہے۔ ۔۔؟؟ چھوڑو میرا ہاتھ۔ وہ بھڑکی۔
کیوں ڈر لگنےلگا ہے مجھ سے۔ کہیں محبت تو نہیں ہوگٸ۔؟ کاظم کی بات پے ایک لمحے کو کے کے کا دل دھڑکا۔ لیکن اگلےہی لمحے وہ غصہ سے اپنی کلاٸ چھڑا گٸ۔
بہت خوش فہمی پالنے کی ضرورت نہیں۔ ہم صرف اچھے دوست تو ہوسکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ سمجھے تم۔ اچھے سے باور کرواتی وہ وہاں سے جانےلگی۔
ہم۔۔کچھ بھی ہوسکتےہیں۔ لیکن۔۔۔ دوست نہیں ہوسکتے ۔۔۔ کنول خان ۔۔ عرف کے کے۔۔۔!
بہت اسٹاٸل سےکہتا وہ وہیں بیٹھا سگریٹ سلگا گیا۔ جبکہ کے کے تو اسکے منہ سے اپنا اصل نام سن کے ہی دنگ رہ گٸ۔ اپنے جذبات پے قابو پاتی وہ کاظم کی جانب مڑی۔
تم۔۔۔تم۔۔۔میرا نام۔۔؟؟ کیسے۔۔۔؟؟ کے کے پسینےآنے لگے۔
میں تو تمہارے بارے میں تم سے بھی زیادہ جانتا ہوں۔
سگریٹ کا کش لیتے دھواں ہوا میں چھوڑتا ایک دکھتی نگاہ اس پے ڈالی۔
تو۔۔ اب تم۔۔مجھے بلیک میل کرنا چاہتے ہو؟ کے کے غصہ سے اسکی جانب بڑھی۔
نہیں۔۔۔ بلاکل نہیں۔۔۔ بلیک میل نہیں۔۔۔ شادی۔۔۔ شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے۔۔!اسکی آنکھوں مثس جھانکتے وہ اٹھا تھا۔ ایک پل کو کے کے کا دل بری طرح دھڑکا۔ اس ناسان کی آنکھوں میں کی تھا۔ وہ نہیں سمجھ پا
رہی تھی۔ لیکن اسکا مقصد آفتاب کو حاصل کرنا تھا۔ کنول سے آفتاب کو چھیننا تھا۔اسکا وجود۔۔۔ جو اسکے بچپن سے ہی فراموش کر دیا گیا ۔۔ اسکا بدلہ تو اس نے اپنی بہن سے بھی لینا تھا۔اور۔۔ وہ کیسے۔۔ کسی اور سے شادی کر سکتی تھی۔۔۔؟؟
تم۔۔۔دور رہو مجھ سے۔۔۔! ورنہ۔۔اچھا نہیں ہوگا۔۔۔اور۔۔ میرا پیچھا چھوڑ دو۔ انگلی اٹھا کے وارن کیا۔
اب سے ۔۔میں نہیں۔۔ تم ۔۔میرے پیچھے آٶ گی۔
پورے یقین سے کہتا وہ کے کے کو لرزا گیا
کے کے الٹے قدم وہاں سے پیچھے ہوتی بھاگی تھی۔۔ جبکہ کاظم لب بھینچے وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہ گیا۔
💨💨💨💨💨💨💨💨
شہیر انابیہ کو ہاسپٹل لےکے آیا تھا۔ اسکا بی پی خطرناک حد تک لو تھا۔ ڈاکٹرز اسکی ٹریٹمنٹ کر رہے تھے۔ جبکہ شہیر کی آنکھیں نم تھیں۔ وہ اپنی بیوی اور بچوں کی سلامتی کی دعا کر رہا تھا۔ آج وہ خود کو وہاں بہت اکیلا محسوس کر رہا تھا۔
تقریباً روز ہی خانم کا فون آتا۔ پر ایک بار بھی وہ رسیو نہ کرتا۔ اور وہ تو ماں تھیں۔ بیٹا تھا سگھا۔ روز ہی کال کر کے دل کو مطمین کر لیتی تھیں۔ بھلےوہ کال نہ اٹینڈ کرتا لیکن دل کو یہ تسلی ہوجاتی کہ اس نے اپنی ماں کا نام تو دیکھا ہوگا۔
آج بھی انہوں نے اپنے معمول کے مطابق شہیر کو کال ملاٸ۔ ہاسپٹل کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ وہ جو مضبوط بنا کھڑا تھا۔ ماں کا فون آتا دیکھ اپنا ضبط کھونے لگا تھا۔ اس سے پہلے کے کال بند ہوتی وہ نجانے کس احساس کےتحت کال رسیو کر کے کان سے لگا گیا۔
>
دوسری طرف خانم کے دل کی دھڑکن ہی تھم سی گٸ۔ انہں یقین نہ آیا۔ کہ انکے بیٹے نے انکی کال رسیو کی؟
خا خااااانننننن؟؟ نم اور ڈرے لہجے میں پکارا۔ دوسری طرف وہ ضبط کے باوجود رو دیا ہ مضبوط مرد اس وقت بے بسی میں اپنی ماں کے سامنے رو دیا تھا۔
خان۔۔۔؟؟ میرے بچے۔۔۔؟ کیا ہوا۔۔۔؟؟ وہ بھی ساتھ ہی رو دیں تھیں۔ انہیں بن کہے ہی اپنے بٹے کی تکف کا احساس جاگا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا۔ گذرے لمحات آنکھوں میں پھر سے گھومنے لگے۔ لب بھینچے وہ کال کاٹ گیا۔
آنکھیں رگڑتا وہ واپس وہیں کھڑا اپنے اللہ سے دعا گو تھا۔ جبکہ دوسری طرف خانم۔بت بنیں آنسو بہاۓ جا رہی تھیں۔ فون ہاتھ میں تھامے وہ پاس لیٹے ارباز خان کے پاس آٸیں تھیں۔ جو بس ایک ٹک انہیں دیکھتے رہتےتھے۔
اللہ سے دعا کریں ارباز۔۔۔خان۔۔۔! ہمارے کیے گۓ گناہوں کی سزا۔۔۔اللہ ہمارے بیٹے کونہ دے۔ ۔۔۔۔!کہتے ہوۓ وہ بری طرح رو دیں تھیں۔ ارباز خان اپنی خانم کا منہ دیکھتے رہ گۓ۔ انکی زبان کو اللہ نے قفل لگا دیا تھا۔ و تو کچھ بول ہی نہیں سکتے تھے۔ صرف ایک زندہ لاش بن کے رہ گۓ تھے۔
اپنے کرموں کا حساب اکثر لوگوں کو اس دنیا میں ہی دینا پڑ جاتا ہے اپنی جوانی اور دولت کے نشے میں انسان انسانیت کے معیار سے گر کے فرعون تو بن۔جاتا ہے۔ لیکن اپنا مرنا بھول جاتا ہے۔ اور ایسی زندگی جو ارباز خان کی تھی۔ وہ موت سے بھی بدتر تھی۔
💎💎💎💎💎💎💎💎💎
اسلام آباد کی حدود میں گاڑی کے داخل ہوتے ہی آفتاب کی نظر ساتھ سوٸ کنول پے گٸ جو اسکے کندھے پے سر ٹکاٸے گہری نیند میں تھی۔
گاڑی اب خان حویلی کی حدود میں داخل ہوچکی تھی
جو کٸ ایکڑ پے پھیلی ہوٸ تھی۔ آفتاب جانتا تھا۔ اس کے آنے کی خبر بی خان حویلی کی بڑی بیگم تک پہنچ گٸ ہو گی۔ لیکن یہاں پرواہ کسے تھی؟
مین گیٹ سے گاڑی اندر ہو رہی تھی۔ گارڈز نے گیٹ اوپن کیا۔ اور گاڑی کے اردگرد کھڑے ہوگۓ۔
آفتاب نے سعدی کو انہیں وہاں سے ہٹانے کا کہا ۔ اور کنول کا سر اپنے کندھے سے ہٹاتا وہ اسکی کمر کے گرد بازو باندھ گیا ۔ وہ نیند میں تھوڑا سا کسماٸ۔ اس کی نیند سے بوجھل آنکھیں انکا لال اور خمار آلود انداز ۔ آفتاب کے دل کی ہارٹ بیٹی کو مس کر گیا ۔ تمام گارڈر ہٹ چکے تھے۔ آفتاب نیچے اترتا کنول کو اپنی گود مثس بھر چکا تھا۔کنول نے ادھ کھلی آنکھ سے اپنے جنونی کو دیکھا۔اور مطمن ہوتی اسکے گلے میں بانہیں ڈال اسکے سینے پے سر ٹکا گٸ اسکا یہ استحاق بھرا انداز ۔۔ آفتاب کو ہضم نہ ہوا۔
وہ اسے اٹھاۓ اندر داخل ہوا۔ جہاں سفیہ اپنی بڑی بیگم کے ساتھ اسکا ویلکم کرنےکےلیے موجود تھی۔ یہ اور بات تھی۔ کہ بل دونوں ہ کے ماتھے پےتھے۔
جانشین۔۔۔! یہ کون ہے؟ بارعب آواز میں پوچھتی وہ آفتاب کے چلتے قدم کو روک گٸیں۔
زرا سا رخ پلٹا۔ اور سنجیدہ نظروں سے دادی کو دیکھا ۔
میری بیوی ۔ میری شریکِ حیات۔ ! ایک لفظ پے زور دیتا کہتا وہ کنول کے دل کو بری طرح اپنی دسترس مں لے چکا تھا۔ آنکھیں بند کیے بھی وہ جانتی تھی۔ کہ شخص ہمیشہ اسکی حفاظت کرنے والا ہے۔
خان حویلی میں۔۔۔؟؟ خان حویلی کی بہو کون بنے گی؟ یہ ہم طے کریں گے۔۔۔ ! بڑی بیگم آج کچھ جاہ جلال میں ہی تھیں۔
انکی سخت آواز پے کنول کی آفتاب کی شرٹ پے گرفت سخت ہوٸ۔ جسے آفتاب نے بخوبی محسوس کیا۔
آپ سے کس نے کہا۔ کہ یہ خان حویلی کی بہو ہیں؟ انہی کے تیکھے انداز میں دوبدو جواب دیا۔
جانشین۔۔۔! ہم آپ کی دادی حضور ہیں۔ اور آپ کی شادی کا فیصلہ آپ کے بچپن میں ہی ہوچکا ہے۔ آپ کی بیوی اور اس خان حویلی کی بہو یہ۔۔۔ سفیہ خانم بنے گیں۔ جن کا نام بچپن سے ہی آپ کے نام کے ساتھ جڑ چکا ہے۔ اور افسوس ۔۔۔ کہ آپ کی والدہ نے آپ کو اس بارے میں لاعلم رکھا
بڑی بیگم افسردگی سے بولیں ۔آفتاب کی نظریں ان کے ساتھ کھڑی کرب کی مورت بنی سفیہ پے اٹھیں۔ وہ اس وقت اچھا خاصا جواب دے سکتا تھا لیکن کنول کےوہاں موجود ہونے پے وہ فی الحال کے لیے چپ ہی رہا۔ اور کنول کو لیے روم کی جانب بڑھ گیا۔
adb ullah
جبکہ کنول جب ہمہ تن گوش تھی۔ آفتاب کے جواب کو سننے کے لیے۔۔ اسکا ارادہ جاننے کے لیے ۔۔۔؟؟ اسے یوں چپ چاپ وہاں سے واک آٶٹ ہوتے دیکھ بری طرح دل دکھا۔
اسکا مطلب۔۔؟؟ اب وہ۔۔۔ سفیہ سے شادی کرے گا؟ اور یہی۔۔۔؟؟ یہی۔۔اسکی سزا ہوگی۔۔۔؟؟
آفتاب نے اسے بستر پے لٹایا اور بنا اسکی جانب ایک نظر دیکھے وہ واپس پلٹا۔
کنول کو اسکا یوں اگنور کرنا بری طرح چبھا۔
کے کے۔۔۔! میری۔۔ بہن ہے۔۔۔! جڑواں بہن۔آنسو صاف کرتے کنول نے اسے ساری سچاٸ بتانے کا فیصلہ کیا۔
آفتاب کے جاتے قدم ایک پل کو تھمے۔
تھوڑی دیر توقف کے بعد ہمت کرتی وہ اٹھی۔ اور آفتاب کے پاس آٸ۔
کومل ہے وہ۔۔۔! اور۔۔۔؟؟ ہم۔۔دونوں۔۔ خان ولا کی۔۔ بیٹیاں ہیں۔۔ وہ ۔۔بد بخت بیٹیاں۔۔ جہنیں۔۔ کبھی تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ ہمارے وجود کے چھتڑے اڑا کے رکھ دیے خان ولا میں رہنے والوں نے۔
کنول کے اندر درد بول رہا تھا۔ آفتاب یک ٹک اسے دیکھے گیا۔ بنا کسی تاثر کے۔
ہم نے۔۔ بدلہ لینا تھا۔۔۔ عباد خان سے۔۔۔! جس نے۔۔ ہماری ماں کو بے گھر کیا۔
ہم نے بدلہ لینا تھا۔۔۔ خانم سے۔۔ جس نے ہماری ماں کی کردار کشی کی تھی۔
ہم نے بدلہ لینا تھا۔۔ ارباز خان سے۔۔۔جس نے ہماری ماں کو میری آنکھو ں کے سامنے۔۔۔ جانوروں کی طرح نوچ ڈالا تھا۔ اور۔۔۔ میری ماں۔۔۔ کنول کی ہچکی بندھ گٸ۔ آفتاب نے اسے بولنے دیا۔
میری ماں۔۔ اپنے دامن میں داغ ۔۔ لے کے نہ جی سکی۔۔۔اور خود کو ۔۔ آگ لگا کے ختم کر ڈالا۔
روتے ہوۓ اسکا سانس رکنے لگا تھا۔ اتنا درد تھا اسکے اندر۔ کہ آفتاب جو اسے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا۔ سکی حالت کے پیشِ نظر چپ ہی رہا۔ آگے بڑھ کے پانی کا گلاس اسے تھمایا۔لیکن اسکے نہ تھامنے پے اسکی کمر کے گرد بازو حاٸل کرتا اسکے لبوں سے پانی کا گلاس لگا گیا۔
>
کنول نے ایک شکوہ کناں نظر اس پے ڈالی ۔ اور پانی کے دو گھونٹ پی کے چھوڑ دیا ۔
آفتاب نےدوبارہ سے بستر پے بٹھایا۔ خود سیدھا کھڑا ہوتا ایک گہرا سانس بھرتا باہر نکل گیا ۔
کنول بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹیک لگاتی نیم دراز ہوٸ۔ ایک بوجھ تھا دل پے۔ جو آج سرکا تھا۔ لیکن۔۔ ایک ڈر تھا جو آج بھی قاٸم تھا۔ آفتاب کو کھونے کا ڈر۔ جو اسکے دل میں کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔
💘💘💘💘💘💘
دی جے سے فون پے بات ہوٸ تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ سفر نہیں کر سکتیں۔ تو ان کی طرف سے اجازت ہے رخصتی کی۔ رضیہ خاتون نے شوہر کو اطلاع بپم پہنچاٸ۔ وہ سوچ میں پڑ گۓ۔
جانتا ہوں۔۔! ناراض ہیں وہ ہم سب سے۔۔۔! افسردگی سےگویا ہوۓ۔
ناراض نہیں ہیں۔ انکی طبعیت واقعی نہیں ٹھیک۔ وہ سفر نہیں کر سکتیں۔ رضیہ خاتون نےماں کی ساٸیڈ لی۔ تو گیاض صاحب چپ ہوگۓ۔
سب تیاریاں مکمل ہیں۔ ۔۔؟؟ انہوں نے اٹھتے سرسری انداز میں پوچھا۔ اور دونوں باتیں کرتے باہر نکلے۔ کہ اتنے میں سبرینہ عابی کی دوست جو اسکے ساتھ پارلر گٸ تھی۔ ہڑبڑاتی ہوٸ اندر داخل ہوٸ۔
کیا ہوا؟ سبی ؟ اتنا ہڑبڑا کیوں رہی ہو؟
آنٹی۔۔۔!وہ۔۔۔ عابی۔۔۔؟؟ ڈر کے مارے اسکے الفاظ نہ ادا ہو پارہے تھے۔ جبکہ باہر سے اندر آتے شامی نے سن لیے تھے۔
کیا ہوا عابی کو؟ کہاں ہے وہ؟ جارحانہ انداز میں وہ سبرینہ کے مدقابل جا کھڑا ہوا۔
اسے۔۔۔ اسے کوٸ۔۔۔ اغوا کر کے۔۔ لے گیا۔۔۔ بندوق کی نوک پے۔۔۔! ہم ۔۔۔پارلر میں ۔۔کچھ۔۔۔ کر نہیں پاۓ۔۔۔! سبی رونے لگی۔ شامی نے غصہ سے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ اور ماں کی طرف دیکھا۔
اگر۔۔۔ عابی کو ۔۔ایک کھروچ بھی آٸ۔۔۔ تو۔۔آٸ سویٸر۔۔۔ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ غصہ سے سبی کو دیکھتا وہ باہر نکلتا چلا گیا۔
❤❤❤❤❤❤
اب کیسی ہے؟ میری واٸف؟ ڈاکٹر سے وہ پوچھتا ہوا بے چینی سے آگے بڑھا۔
شی از اوکے ناٶ۔۔ ینگ مین۔۔۔! ڈاکٹر نے شہیر کو تسلی دی۔ تو اس نے تشکر سے آنکھیں موند لیں۔ اور۔۔۔ بچے۔۔۔؟؟ دھڑکتے دل سے سوال کیا۔
yes they are sound and save.
ڈاکٹر نے مسکراتے اس کی حالت دیکھتے اسے بتایا تو وہ بھی روتا ہوا مسکرا دیا۔ ڈاکٹراسے مزید ہدایات دیتا جا چکا تھا۔ وہ آٸ سی یو میں آیا۔ جہاں اب وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی۔
آگے بڑھتے دھیرے سے انابیہ کا ہاتھ تھاما اسکے پاس بیٹھتا وہ اسکا ہاتھ اپنی آنکھوں پے لگا گیا۔
تم نےتو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔۔۔ انا۔۔۔۔!
شہیر کے الفاظ پے اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔
آپ۔۔۔۔نے مجھ سے۔۔ جھوٹ بولا۔
ناراضی بھرےلہجےمیں شہیر سے شکوہ کیا۔
کیسا جھوٹ؟ وہ حیران ہوا۔
ہمارے۔۔۔۔جڑواں۔۔۔۔؟؟ بچے۔۔؟؟؟ انابیہ کی آنکھوں مثس آنسو بہہ نکلے۔
شییییی۔۔۔۔۔! جھوٹ نہیں بولا۔ اسکے لبوں پے انگلی رکھ کے اسے چپ کراتا وہ اسکے ماتھے پے بوسہ دے گیا۔
بس۔۔۔ چھپایا تھا۔ دھیمی آواز أنابیہ بمشکل ہی سن پاٸ۔
ایک ہی بات ہے۔۔ منہ پھیرا۔
آپ کو مجھے بتانا چاہیے تھا۔ یہ جاننا میرا حق تھا۔ ناراضی ابھی بھی قاٸم تھی۔
ایم سوری میری جان۔۔۔! محبت سے اسکے ہاتھ تھامتے وہ اسکیناراضی دور کر گیا۔ اسے بیٹھنے یں مدد کتا وہ اسکے اور قریب ہوگیا۔
شہیر۔۔۔۔! ہمارے۔۔۔ دو دو۔۔بچے۔۔۔؟؟ وہ اب کی بار خوشی سے چہکی تھی۔ اسے اس بات سے کتنی خوشی ہوٸ تھی۔ وہ بیان نہیں کر پا رہی تھی۔
ہممم۔۔۔۔ ماشاءاللہ سے۔۔۔۔! شہیر نے اسکے کندھے کے گرد بازو حاٸل کرتے اسے اپنے حلقے میں لیا۔
بے اختیار انا آنکھیں موندے اپنے پیٹ پے ہاتھ رکھ گٸ۔ ماں بننے کی خوشی اسکے اندر ایک الگ ہی احساس جگا رہی تھی۔
خوش ہو۔۔۔؟ دھیرے سے اسے مخاطب کیا۔
ہممممم۔۔۔۔بہت زیادہ۔۔۔۔! شہیر کے سینے سے لگی وہ مسکراٸ تھی۔ شہیر نے اسکے ماتھے پے پیار بھا بوسہ دیا۔ وہ ابھی بھی اسکی کنڈیشن کولے کے پریشان تھا۔ اور آگے کالاٸحہ عمل سوچ رہا تھا۔ وہ آفس سے آف کرنے کا سوچتے اپنا زیادہ وقت انا کےساتھ بیتانا چاہتا تھا۔وہ آگے اسے اب اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ اور ایک کل وقت ملازمہ بھی وہ اسکے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔ البتی سب سے مشکل کام تھا یہ۔۔۔! لیکن اسے اس پراٸے ملک میں یہ کام کرنا تھا۔ آج اسے اپنوں کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ اپنا ملک یاد آرہا تھا۔ جہاں سب کچھ تھا۔ لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔کہ اڑ کے پاکستان پہنچ جاۓ اپنے وطن۔۔ اپنی مٹی کے پاس۔ کیونکہ انا کی جو کنڈیشن تھی۔ اس میں وہ سفر کر ہی نہیں سکتی تھی۔ اسلیے اسے کچھ اور سوچنا پڑ رہا تھا۔
💨💨💨💨💨💨
اسکی باٸیک جھٹکے سے رکی۔ سامنے سے وہ بھاگتی ہوٸ آرہی تھی۔ اور آتے ہی شامی کی باٸیک سے ٹکراٸ۔
شام سے رات ہوگٸ تھی۔ عابی کو ڈھونڈتے ہوۓ۔ لیکن وہ ہمت نہیں ہار رہا تھا۔ ہر جگہاس نے تلاشا۔ اسکے دونوں دوست بھی اسکے ساتھ تلاش میں لگے تھے ۔ تنیوں باٸیک پے الگ الگ سمت میں وہ ڈھونڈ رہے تھے۔
بس ایک بار مل جاٶ۔۔۔ عابی۔۔۔ ! پھر کبھی خو سے الگ نہیں کروں گا۔
وہ نم آنکھوں سے باٸیک ڈراٸیو کرتا خود سے بے بسی سے بولا۔
کہ ایک فم سے کوٸ آتی اسکی باٸیک سے ٹکراٸ۔ باٸیک جھٹکے سے رکی۔ سامنے ہی اسکی عابی تھی۔
شامی کو اپنے سامنے دیکھ وہ اپنا ضبط کھو گٸ۔
>
شامی باٸیک چھوڑے فوراً اسکی سمت بڑھا۔ کہ عابی آگے بڑھتے اسکے سینے سے جا لگی۔ شامی نے بھی کسی متاع حیات کی طرح اسے سینے میں بھینچا۔ وہ بے تحاشا رو رہی تھی۔ اسے لگا تھا۔ ہر بار اللہ مدد کرتا ہے شاید اس بار۔۔ کی آزماٸش اسکی جان لے لے۔ لیکن اللہ نے پھر سے اسے بچا لیا تھا۔
ٹھیک ہو تم۔۔؟؟ شامی نے اسکے گال پے نرمی سے ہاتھ پھیرتے دھیمے لہجےمیں پوچھا۔ تو وہ سوں سوں کرتی پھر سے اسکے سہنے سے جا لگی۔ شامی اسے لیے گھر کی طرف بڑھا۔ جبکہ وہ ایک منٹ کےلیے بھی شامی سے الگ نہ ہو رہی تھی۔ وہ بہت ڈری ہوٸ تھی۔
گھر میں داخل ہوتے شامی نے اسکا ہاتھ تھاما۔
سب کچھ ٹھیک ہے۔۔ فکر نہیں کرو۔۔۔ کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ تمہیں۔۔۔! شامی نے اسکا ہاتھ تھامے خود سے لگایا۔ اور اندر کی جانب بڑھا۔ جہاں ایک طوفان ہی برپا تھا۔ ہر طرف ایک ہی پکار تھی۔ دلہن بھاگ گٸ۔
پھوپھا جان اور پھوپھو کے سر جھکے ہوۓ تھے۔ رضیہخاتون سب کے سوالوں کے جواب دے دے کے تھک گٸ تھیں۔ جبکہ سبی اس سب میں اپنا کردار بخوبی سر انجام دے رہی تھی۔ جس نے سارا خسارا عبیر کے کھاتے میں ڈال دیا تھا۔
میں کہتی ہوں ایسے نہیں کوٸ کسی کو لے کے جاتا ۔ضرور کسی سے عشق کا معاملہ ہوگا۔۔۔ سبی نے سب کا دھیان وسری طرف لگایا ہوا تھا جہاں صرف اور صرف عابی کے لیے خسارہ ہی خسارہ تھا۔
عابی۔۔۔۔؟؟؟؟ ایک دم سے رضیہ کی نظر دروازے کی جانب اٹھی۔ جہاں شامی اور عابی کھڑے کرب بھری نظروں سے سب کو دیکھ رہے تھے۔ ایک پل کو سب جگہ خاموشی چھا گٸ۔ سب کی حیران نظروں نے ان دونوں کا طواف کیا۔
عابی نے شامی کا تھاما ہاتھ چھوڑا ۔ اور سبرینہکی طرف بڑھی جس کے چہرے پے ہواٸیاں اڑی ہوٸ تھیں
عابی نے کھیچ کے ایک تھپڑ اسے رسید کیا۔ کہ سب حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔
شرم نہیں ہے تم میں۔۔۔؟؟ اس قدر گھٹیا کام کیا تم نے۔؟
عابی نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ جبکہ کسی کو کچھ سمجھ نہ آیا۔ کہ ہوا کیا؟
>
💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘
اک قصہ اڑتے پتوں کا
جو سبز رتوں میں خاک ہوۓ
کچھ باتیں ایسی رشتوں کی
جو بیچ نگر میں ٹوٹ گۓ
کچھ یادیں ایسے ہاتھوں کی
جو بیچ بھنور میں چھوٹ گۓ
تم دشت طلب میں ٹھہر گۓ
ہم قریہ جاں کے پار ہوۓ
یہ بازی جان کی بازی ہے
تم جیت گۓ ،ہم ہار گۓ۔۔۔۔
abdull ah
💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔
آپ مجھے اگنور کر رہے ہیں؟
آفتاب کو روم میں آتے خاموشی سے دراز میں کچھ ڈھونڈتے دیکھا تواس کےپاس آتے دھیمے لہجےمیں بولی۔ وہ چپ ہی رہا۔
پلٹ کے اسکے پاس سے نکل جانا چاہا۔کہ کنول نے اسکاہاتھ تھاما۔
وہ ایک لمحے کو رکا۔ کنول کی آنکھیں نم ہوٸیں۔
آپ کو ۔۔۔ ساری بات بتا دی۔ ۔۔ پھر بھی آپ۔۔ یوں اگنور کیوں کر رہے ہیں؟ ناچاہتے ہوۓ بھی گلہ زبان پے آہی گیا ۔
ساری سچاٸ؟ ؒفتاب کے ماتھے پے بل پڑے۔
کونسی ساری سچاٸ۔۔۔؟؟ہاں۔۔۔؟؟ بنا اسکا ہاتھ جھٹکے وہ اسکی جانب لال انگارہ ہوتی آنکھیں گاڑتا بولا۔
وہ سچاٸ ۔۔۔ جو میں جانتا ہوں۔۔۔ تم سوچو۔۔۔؟؟
اور بتاٶ۔۔۔ ؟؟ کہ تم نے مجھے سب سچ بتا دیا۔۔؟؟
آفتاب کے جارحانہ انداز پے وہ سٹپٹاٸ۔
بتاٶ۔۔۔؟؟ وہ اسکی جانب ایک ایک قدم بڑھا۔
دل تھا کہ دھڑکے جا رہا تھا۔ وہ کیا جاننا چاہتاتھا ۔۔؟؟ اب۔۔۔۔؟؟
نہیں سمجھ آرہا ناں۔۔۔؟؟ تو چلو میں پوچھتا ہوں۔۔۔؟کیوں کیا میرے جذبات کا قتل۔۔۔؟؟ تمہارا بدلہ خان ولا والوں سے تھا ناں۔۔؟؟ پھر میری ماں کا کیا قصور۔۔۔؟؟ کیوں انکو بیچ میں لایا۔۔۔؟؟ میں نے تمہیں دل سے چاہا تھا۔۔۔ لیکن۔۔تم نے۔۔۔ مجھے مہرہ بنا کے خان ولا میں داخل ہونا چاہا۔۔۔؟؟ میرے دل کے ہزار ٹکڑے کرکے تم کہتی ہو کہ سب کچھ بتا دیا۔۔۔؟؟ کیا کروں۔۔؟؟ تمہارے سچ کا۔۔۔؟؟ ہاں۔۔؟؟ وہ جو ٹوٹا دل ہے۔۔ اسے کہاں لے کے جاٶں ۔۔؟؟
اپنے جذبات کا قتل کیسے معاف کروں تمہیں۔۔؟؟
آفتاب تو جیسے آج پھٹ ہی پڑا تھا۔ اس نے خود سے کیاعہد توڑ دیا تھا۔ اس نے آج کنول سے اپنے دل کا حال کہہ ہی دیا۔ وہ تو چپ ہی ہوگٸ سچ ہی تو کہہ رہا تھا۔ اس نے تو جانتے بوجھتے آفتاب کا دل توڑا تھا۔ اس کا دل ۔۔۔؟؟ مہرہ بنا کے استعمال کیا ۔۔
اب کیا۔۔بتاتی اسے۔۔؟؟ کہ دل لگی میں وہ دل پے لگا چکی ہے۔۔۔ اسکے دل کاحاکم بن بیٹھا تھا۔ ۔۔
کنول۔۔۔ لیو می۔۔۔۔؟؟ وہ اسے پیچھے کرتا باہر جانے لگا۔
کہ کنول نےاسکے سامنے آتے اسکا راستہ روکا۔
آپ ۔۔۔۔پپ۔۔ایسے۔۔۔۔ نہیں ۔۔جا سکتے۔۔۔؟؟ مجھے۔۔سزا دے دیں۔۔۔۔! لیکن۔۔ مجھ سے۔۔۔دور۔۔ نہیں جانا۔۔۔!وہ روتے ہوۓ اسکا ہاتھ تھامنے لگی۔ کہ آفتاب نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔
دور۔۔۔۔دور رہو۔۔۔ مجھ سے۔۔۔! تم بھول سکتی ہو۔۔۔۔۔! لیکن ۔۔میں نہیں۔۔۔! کہتے ہوۓ وہ دروازے کی جانب بڑھا کہ کنول نے سسکی بھری ۔ آفتاب کے جاتےقدم رکے۔ سختی سے آنکھیں موندے وہ لب بھینچ گیا۔
کمال کی فنکاری ہے اس میں۔۔
وار بھی دل پے۔۔۔
اور راج بھی دل پے ۔۔۔h
وہ آج بھی اسکے دل پے ہی راج کر رہی تھی۔ اور وہ چاہ کے بھی اسے تکلیف نہیں دے پا رہاتھا۔ اسکی آنکھوں کے آنسو اسے درد دے رپے تھے۔۔
اسکے دل پے گر رہے تھے۔ وہ چاہ کے بھی دوسرا قدم آگے نہیں بڑھا پایا ۔
اور پلٹا۔ سامنے کھڑی وہ بے ددردی سے آنسو گالوں سے گرڑتی وہ آفتاب کے دل کی ہارٹ بیٹ مس کر گٸ۔ اسے خود پے غصہ آیا۔ کہ وہ کیوں اسے نہیں سزا دے پارہا۔۔؟
دل آج بھی اسکا تھا۔۔
آفتاب کی آنکھوں میں اپنےلیے نرمی دیکھتی وہ اسکی طرف بھاگنےوالے انداز میں بڑھی۔ اور اسکے سینے سے جالگی۔ اور روتے ہوۓ اسکے سینے میں منہ چھپایا۔ ہچکیوں سے روتی وہ آفتاب کے ضبط کا امتحان لے رہی تھی۔
💨💨💨💨
جاری ہے

No comments:

Post a Comment