Thursday, 20 June 2024

تم میرے نکاح میں ہو Episode No 1







سیڑھیاں اترتی وہ عجلت میں نیچے آرہی تھیں۔ کانوں میں سونے کے بڑے بڑے بُندے۔ گلے میں نولکھا ہار۔ چہرے پے نفاست سے کیا گیا میک اپ۔۔ اور انگلیوں میں بے شمار سونے کی انگوٹھیاں۔۔ہر وقت ہی بہت سہج سہج کے تیار رہنے والی وہ رافیہ خانم تھیں۔
خان کی چہیتی بیوی۔
جی ہاں۔۔ خانم کی ہر بات کو پتھر کی لکیر ہی سمجھا جاتا تھا خان ولا میں۔
اربازخان ۔۔ خان ولا کے بڑے خان تھے۔ جہاں باہر انکی حکمرانی چلتی تھی۔ تو گھر کے اندر خانم کی۔
رضیہ۔۔۔! کسی قسم کی کوٸ کسر نہیں رہنی چاہیے۔ میرا بیٹا دس سال بعد واپس لوٹ رہا ہے۔ سب کچھ پرفیکٹ ہونا چاہیے ایک دم۔
نیچے آتے ہی آرڈر کیا۔
جی خانم۔۔۔! کوٸ شکایت نہیں ہوگی۔ سر جکاۓ کہا۔ اورسر جھکاۓ کہی وہ وہاں سے چلی گٸ۔
بس ایک بار۔۔۔ ایک بار۔۔شہیر خانزادہ تم واپس آجاٶ۔۔ پھر۔۔ تمہیں اپنی مٹھی میں کرنا میرے باٸیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اور جو بات میں کہہ دوں۔۔ تم اس سے کیسے انخراف کر سکتے ہو۔۔؟ آخر کو ماں ہوں تمہاری۔۔۔! میرا تو ہر حکم ہی مانو گے تم۔۔۔۔
دل ہی دل میں وہ پلان بناتیں خوش ہو رہی تھیں۔
آنے والے وقت سے بے خبر۔۔۔ کہ آنے والا وقت انہیں کتنا ناکوں چنے چبوانے والا تھا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
یہ منظر ہے سلطان ہاٶسں کا۔
جہاں صبح سویرے ہی سب جاگ جاتےہیں۔ نماز پڑھتے ہیں۔ تلاوت قران مجید کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ چڑیوں کو دانہ ڈالا جاتا ہے۔ ان سب کاموں سے فارغ ہوتے ہی جمیلہ خاتون کچن کا رخ کرتی ہیں۔ جہاں وہ سب گھر والوں کے لیے انکی پسند کا ناشتہ بناتی ہیں۔
ایک طرف تو وہ سب کے لیے نرم دل اور خوش مزاج خاتون ہیں تو دوسری طرف اپنی اولاد کی سخت دشمن۔۔ دشمن مطلب۔۔۔ اولاد کو راہ راست پے لانے کے لیے ان پے سختی کرنا۔ اولاد نے ہی انہیں دشمن کا خطاب دیا ہوا تھا۔
مما ناشتہ بن گیا؟
یہ ہیں۔ ہماری پیاری سی ۔۔۔شریر اور کچھ حد تک حساس سی انابیہ سلطان۔ اپنے نام کی طرح سلطان ۔
ہاں بن گیا ہے۔۔ لے لیں۔ مصروف جواب ملا۔
ناشتہ لیے بہت شان سے ڈاٸننگ ٹیبل کا رخ کیا۔
آپ کے صاحبزادے جاگے نہیں۔۔؟؟ ا
ایک سلاٸس منہ میں ڈالتے چاۓ کا گھونٹ بھرتے سرسری سا پوچھا۔
گہرا سانس خارج کرتے سر نفی میں ہلایا۔ اور انابیہ سلطان جانتی تھی۔ کہ اسے کیسے جگانا ہے۔
ناشتہ ختم کرتی اب اسکا رخ سلطان ہاٶں کے بیٹے کے کمرے کی جانب تھا۔
پانی کابھرا جگ اس پے الٹا۔ تو وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھا۔
کیا بدتمیزی ہے۔۔؟؟ منہ بنا کے اٹھتے ماتھےپے بکھرے سلکی بال گہری نیلی آنکھیں۔ ہلکی ہلکی بیٸرڈ۔۔
یہ ہیں۔ سلطان ہاٶسں کے لاڈلے چہیتے اور تھوڑے منہ پھٹ بیٹے۔ شاہ میر سلطان۔
آج یونی نہیں جانا؟ ایک آٸ برو اچکاتے پوچھا۔
یار۔۔۔۔! میرا آج آف ہے۔۔۔ ! دانت پیستا وہ پھر سے لیٹنے کی کرنے لگا۔
چلو۔۔پھر مجھے چھوڑنکے آٶ۔۔اٹھ جاٶ۔ رعب جمایا۔
تم۔۔ خود چلی جاٶ۔ دوبارہ سے سونے کی پوزیشن میں جاتے کہا۔
شامی۔۔اٹھ رہے ہو یا۔۔ ایک اور جگ لاٶں؟ دھمکایا۔
تم جیسی بہن کے ہوتے دشمنوں کی کیا ضرورت؟ منہ بناتے کمفرٹر دور پھینکا۔ اور باتھ روم میں گھسا۔
صرف دس منٹ ہیں۔ کلاٸ پے گھڑی میں ٹاٸم دیکھتے اگلا آرڈر جاری کیا۔ وہ ایک گھوری سے نوازتا باتھ میں گھس گیا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
گیٹ پے اسے اتارتے وہ باٸیک اسٹارٹ کرتا واپس موڑنے لگا کہ۔۔۔
انا آپی۔۔۔! آگٸیں آپ۔۔۔! اتنی دیر لگا دی آج آپ نے آنے میں ۔۔۔ہم کب سے آپ کا ویٹ کر رہے ہیں۔
یہ ہےعبیر حشمت نواب۔۔۔ ! انکی پھوپھو کی بیٹی۔ اور پڑوسی بھی۔ اپنے لیے ہم کا صیغہ بے دریغ استعمال کرنے پے شامی تو اکثر ہی اس سے چڑ کھاتا تھا۔
نواب صاحب نے تمہارا دانہ پانی بند کر دیا ہے کیا؟
شامی نے اس پے چوٹ کی۔
جی۔۔۔کیا مطلب؟ اس نے بھنوٸیں سکیڑیں۔
جو یہاں ہر آنے جانے والے کی ڈیوٹی دے رہی ہو۔۔؟مفت میں دے رہی ہو۔۔۔؟؟ یا پے منٹ ملے گی۔۔؟؟
اپنی بات کا مطلب سمجھا کے اسکا ری ایکشن دیکھنے لگا۔
اچھا آج گیارہ بجے آجانا لینے۔۔ بس نوٹس لینےہیں۔ اور ایک کلاس ہے۔ انابیہ نے فوراً سے بات کو پلٹا۔
سر اثبات میں ہلاتا وہ باٸیک لے اڑا تھا۔ جبکہ انابیہ کے چہرے پے مسکان سج گٸ تھی۔ جو بہت ہی پیاری لگی تھی۔
چلو اندر چلیں۔ انابیہ عبیرکو لیے یونی کے گیٹ کے اندر داخل ہوٸ۔
انابیہ اور شاہ میر جڑواں ہونے کی وجہ سے پڑھاٸ میں بھی ایک ساتھ تھے۔ دونوں کا ڈیپارٹمنٹ بھی ایک تھا۔سبجیکٹس بھی سیم تھے۔ دونوں ہی اکنامکس میں ماسٹر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ جبکہ عبیر نے ابھی ابھی نیو یونی جواٸن کی تھی۔ وہ تھرڈ اٸیر کے اسٹارٹ میں تھی۔ صرف ان دونوں کے ساتھ کی وجہ سے اس معصوم نے یہ یونی جواٸن کی تھی۔ اور جب سے جواٸن کی تھی۔ تب سے شامی کے طنز بھی بڑھتے جا رہے تھے۔ جسے عبیر نے کبھی برا نہ منایا.
کہتےہیں ناں ۔۔جہاں دل لگ جاۓ وہاں کا تو زہر بھی امرت لگتا ہے۔
عبیر کا بھی یہی حال تھا۔ اسکے دل نے وہاں دل لگایا تھا۔ جس کے پاس دل نہیں پتھر تھا.
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
خوش آمدید۔۔۔ خوش آمدید۔۔۔ میرے پیارے بیٹے۔۔۔ اپنی ماں کی جان۔۔۔
رافعہ خانم۔نے بانہیں پھیلا کے اپنے بیٹے شہیرخانزافہ کا بھرپور طریقے سے استقبال کیا۔ سبھی بڑے ڈراٸنگ ہال میں جمع ہوگۓ تھے۔
امریکہ سے جیسے کوٸ شہزادہ آیا تھا۔ پورے ایریا میں دھومیں مچی ہوٸ تھیں۔
ہیزل آنکھیں۔ چہرے پے ایک مخصوص مسکراہٹ۔ جو اسکی شخصیت کو چار چاند لگا رہی تھی۔ اوپر سے اس مسکراہٹ سے پڑتا گال کا ڈمپل۔ جو اسکی بیٸرڈ میں خاصا نمایاں ہوتا تھا۔ عروج تو پہلی نظر میں ہی دل ہار گٸ تھی۔
سب سے باری باری مل رہا تھا۔ ایک بہت گرینڈ پارٹی کا انتظام کیا گیا تھا۔
کیک کٹتے ہی شور ہوا۔
مما۔۔۔! رافیہ بیٹے کو پیار کرتے رودیں۔ تو شہیر نے انہیں سینے سے لگایا۔ اور ماتھےپے بوسہ دیا ۔
ماں کی جان۔۔۔ پورے دس سال بعد اپنی شکل دکھاٸ ہے۔ کتنا یاد کیا تمہیں۔۔۔!
بیٹے کی جان۔۔۔! اب آگیا ہوں۔۔ ناں۔۔ اب نہیں جاٶں گا۔ چھوڑ کے۔۔ اپنی مورے کو۔
انداز بھی خانوں والا لب و لہجہ بھی خانوں والا۔
ارباز خان تو بیٹے کو دیکھ اور بھی چوڑے ہوگۓ تھے۔
جہاں یہ فیملی خوشی منا رہی تھی۔ وہیں ان کے ساتھ ان کے بھاٸ جو شانہ بشانہ تو ساتھ کھڑے تھے۔ لیکن دل ہی دل میں حسد تھا ایک دوسرے کے لیے۔
انکا سگھا بیٹا تو نہ تھا۔ لیکن۔۔ آفتاب شیر خان ان کی بیوی کا پہلا بیٹا تھا۔ جب انکی شادی ہوٸ۔ تب آفتاب شیر خان پانچ سال کا تھا۔
وقت تو گزرتا رہا۔ نہ انہوں نے آفتاب کو قبول کیا نہ آفتاب نے انکو۔ البتہ آفتاب کی مما نایاب نے ہر ممکن طریقے سے اپنے شوہر کے دل میں اپنی جگہ بنانے کی پوری کوشیش کی۔ اب بھی وہ شوہر کی خوشی کے لیے آج کے فنکشن میں شامل تو ہوگٸ تھیں۔ لیکن آفتاب شامل نہ ہوا تھا۔ اسکی اپنی ایک الگ ہی دنیا تھی۔ جہاں وہ کسی کو نہ آنے دیتا تھا۔ نہ وہ اپنی اس دنیا سےباہر نکلتا تھا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
دیکھو تو۔۔۔ سارے پودے ہی مرجھا گۓ ہیں۔ کوٸ پانی نہیں دیتا۔۔ پودوں کو بھی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جمیلہ۔۔۔ انکا بھی خیال رکھا کرو۔ انکی فیکھ بھال کیا کرو۔
عابدہ خاتون کے چہرے پے برسوں کی تھکن تھی۔ جمیلہ نے ماں کو ایک نظر دیکھا۔ ان پے بے حد پیار آیا۔ جو پودوں کو چھانک پٹھک رہی تھیں۔
آپ کیوں اداس ہوتی ہیں۔ اماں۔۔؟؟ میں کر دیا کروں گی۔ جمیلہ نے ماں کا ہاتھ تھام کےکہا۔
جمیلہ۔۔۔۔! کیا۔۔۔اسے ۔۔ہم یاد بھی ہوں گے۔۔؟؟ نجانے کس امید پے انہوں نے بیٹی سے پوچھا۔
دی جے۔۔ وہ کچھ بھی نہیں بھولا ہوگا۔۔ اسے سب یاد ہوں گے۔۔ نظریں چراتے ہر بار کا جملہ بول دیا۔
ہونہہ۔۔۔۔! اگر ایسا ہوتا تو۔۔۔ ایک فون تو کر ہی لیتا اپنی دی جے کو۔۔۔! انہیں بس یہی غم ستاٸے جا رہا تھا۔ جمیلہ چپ ہوگٸیں۔
جمیلہ۔۔۔ کیا۔۔۔ اس نے کسی سے نہیں پوچھا ہوگا۔۔ میرے بارے میں۔۔؟ کہ دی جے کہاں ہے۔۔؟؟؟
ایک یاس ایک آس۔۔۔
انکا لہجہ۔۔۔انکا انداز۔۔ درد سے چور۔۔ اور بے بس۔
جمیلہ خاتون کی آنکھیں بھی نم ہوگٸیں۔
کیا پتہ۔۔ دی جے۔۔۔! پوچھا ہی ہوگا۔۔ بھابھی کا تو آپ کو پتہ ہی ہے۔۔ناں۔۔ کس طبعیت کی ہیں وہ۔۔۔ ٹال دیا ہوگا۔
سوکھے پتوں کو ایک طرف کرتی وہ اب اٹھتے ہوۓ بولیں تھیں۔
چلیں اندر چلیں۔ ۔۔۔ تھوڑا آرام کر لیں ۔
یہ شگفتہ واپس نہیں آٸ۔۔؟؟ دیجے نے اٹھتے ہوۓ پوچھا۔
کہہ رہی تھی آج آجانا ہے۔۔ کیا پتہ شام تک آجاٸیں۔
ماں کا ہاتھ تھامے وہ اندر بڑھیں ۔
فضا کا ساتھ جانا۔۔ مجھے صحیح نہیں لگا۔۔۔!
جمیلہ۔۔۔ سو کرو۔۔ ہے تو تمہاری جٹھانی ۔لیکن اسکا کوٸ حق نہیں بنتا تھا۔ فضا کو یوں اپنے ساتھ لے کے جانا۔
بھلے نکاح ہوگیا ہے اسکا۔ میکال سے۔ لیکن۔۔ ابھی ہم۔۔نے رخصتی نہیں دی۔
دی جے نے جمیلہ خاتون کا سمجھاتے ہوٸے کہا۔
جانتی ہوں دی جے۔ میں تو خود اس حق میں نہ تھی۔ مجھےتو یہ۔۔ بچپن کے نکاح کی ہی سمجھ نہیں آتی۔ ایک طرف فضا کا نکاح کر دیا۔ چھوٹی عمر میں۔ تو دوسری طرف انابیہ کا نکاح کر دیا۔ شہیر کے ساتھ۔ وہ بھی تب ۔۔جب وہ نو سال کی تھی۔
کیا حیثیت ہے بچپن کے نکاح کی؟ جمیلہ خاتون دکھ سے بولیں۔
خیر۔۔۔! انابیہ کا نکاح میں تو تمہاری بھی رضا مندی شامل تھی۔
پانی کا گلاس لبوں سے لگایا۔
اس وقت حالات ہی ایسے تھے۔ کہ انکار کی گنجاٸش ہی باقی نہ تھی۔ سوچتے ہوۓ بولیں۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
لیڈیز۔۔۔۔! اچانک شامی کی آمد نے انہیں چونکا دیا۔
آجاٶ۔۔۔ بیٹا۔۔۔! دی جے شامی کو دیکھ کے کھل اٹھیں۔
مما۔۔۔۔! کھانا۔۔۔دیں۔۔ سخت بھوک لگی ہے۔۔۔ ریلکس ہو کے بیٹھتے کہا۔
میں ابھی لاٸ۔ جمیلہ خاتون اٹھ کھڑی ہوٸیں ۔
کیا ہوا دی جے۔۔۔ ! آج بڑی چپ چپ ہیں۔
نہیں۔۔ بیٹا۔۔۔! بس۔۔ ایسے ہی۔۔تم سناٶ۔۔ پڑھاٸ کیسی چل رہی ہے۔۔؟ دیجے نے مسکراتےکہا ۔
اے ون۔۔۔! جمیلہ خاتون وہیں کھانا لے آٸیں ۔
کھانا شروع کیا۔ لیکن ایک بات دل کو کھٹک رہی تھی۔
آپ کا پوتا آگیا ہے۔ امریکہ سے۔۔۔! کھانا کھاتے سرسری سے انداز میں کہا۔
جبکہ رضیہ خاتون اور دی جے کے کان کھڑے ہوگۓ اس خبر پر۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
مما۔۔جان۔۔ ! سب یہاں ہیں۔۔ دی جے کہاں ہیں۔۔إ وہ نظر نہیں آرہیں۔ شہیر کو بہت دیر سے کمی محسوس ہو رہی تھی۔ تو بول ہی دیا۔
وہ۔۔۔ اپنی بیٹی کی طرف گٸ ہیں۔۔ تم ۔۔۔ چھوڑو ناں۔۔ یہ سب باتیں۔۔۔ ! آٶ۔۔۔ تمہیں دکھاٶں۔۔ تمہاری ہر برتھ ڈے کا گفٹ کیسے سنبھال کے رکھا ہے میں نے۔
رافیہ خانم نے شہیر کا دھیان ہٹایا۔
مما۔۔۔! بعد میں دیکھ لوں گا۔ ابھی تھکا ہوا ہوں۔ تھوڑا ۔۔ ریسٹ کرنا چاہتا ہوں۔ پل میں شہیر کا موڈ بدلا۔
چلو۔۔ ٹھیک ہے۔۔ ویسے بھی شما کو بہت بڑی پارٹی ارگناٸز کی ہے۔ سبھی رشتہ داروں کو بلوایا ہے۔۔ تب تک آپ ریسٹ کر لو۔ ماتھےپے بوسہ دیا شہیر مسکرا دیا۔ اور اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔
جبکہ رافیہ خاتون کے چہرے پے اب مسکراہٹ نہ تھی۔
کیسے ہیں۔۔؟؟ عروج نے راستے میں روکا۔
الحَمْدُ ِلله۔۔۔ ! شہیر نے رک کے دھیرے سے جواب دیا۔
آپ۔۔۔ کافی۔۔۔ ہینڈسم ہوگۓ ہیں۔۔ عروج نے شرماتےکہا ۔
اوہ۔۔۔۔ رٸیلی۔۔۔ مجھےتو پتہ ہی نہ تھا۔۔۔ شکریہ بتانے کے لیے۔۔۔ ! ایک مسکراہٹ کے ساتھ کہتے وہ ساٸیڈ سے ہوتا اوپر بڑھ گیا۔ جبکہ اسکی مسکراہٹ پے عروج تو دل ہی ہار گٸ۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
مسلسل آتی کال پے آفتاب میٹنگ چھوڑ کے اٹھ کے ساٸیڈ پے ہوا۔ اس وقت وہ ایک ریسٹورینٹ میں میٹنگ اٹینڈ کر رہا تھا۔
جی امی۔جان۔۔! تبسم کی کال پک کی۔
بیٹا۔۔۔ آپ کہاں ہو۔۔؟ سبھی یہاں ہیں۔ آپ کا بھاٸ آیا ہے۔۔ امریکہ سے۔۔۔! آپ کا یہاں ہونا ضروری تھا ناں۔۔!
امی جان۔۔! میرا ہاں ہونا۔۔ کوٸ معنی نہیں رکھتا۔۔۔
آپ فکر نہ کیا کریں۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کی۔
آفتاب کے لہجے میں تلخی سی ابھریم تبسم ایک دم چپ سی ہوگٸیں۔
میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔ امی جان۔۔۔! میٹنگ میں ہوں۔ پفتاب کو پتہ تھا اب وہ رو رہیں ہوں گیں۔
ہممم۔۔۔۔! فون بند ہو گیا تھا۔ جبکہ آفتاب کا موڈ بری طرح بگڑا تھا۔ واپس میٹنگ کے لیے بڑھا ۔
میٹنگ ختم کرتا وہ اٹھا تھا۔کہ سامنے سے اسے شیر خان آتے دکھاٸ دیٸے۔ وہ وہیں لب بھینچ کے رہ گیا۔
کیسےہو۔۔۔ آفتاب شیر خان۔۔؟؟
آواز اور لہجہ چال سب پٹھانوں والا تھا۔
ٹھیک ہوں۔۔ اتنی ہی بے رخی سے آفتاب نے جواب دیا۔
بیٹھو۔۔۔ہمیں تم سے کچھ بات کرنا ہے۔۔۔! شیر خان کے کہنے پے وہ واپس بیٹھا۔ جبکہ ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا تھا۔
آفتاب شیر خان۔۔۔! ہم چاہتے ہیں۔ تم واپس آجاٶ۔۔ اپنے گھر۔۔۔! بنا تمہید کے وہ مدعے پے آۓ۔
کونسے گھر۔۔؟؟ بھنوٸیں سکیڑتے ہوۓ تیکھے انداز میں پوچھا۔
وہی ماڑا۔۔۔ جو تمہارا گھر ہے۔۔ تمہارے باپ کا گھر ہے۔۔ اور کون سے گھر کی بات ہورہی ہے۔۔؟
وہ۔۔گھر۔۔۔ جہاں سے۔۔ باٸیس سال پہلے آپ نے۔۔اور۔۔ آپ کی ماں نے مجھے۔۔ اور میری ماں کو نکال دیا تھا۔۔ وہ گھر۔۔؟ آفتاب جتنا ہو سکتا تھا خود پے قابو رکھتا بولا۔
ماڑا۔۔۔ اس غلطی کی سزا۔۔ کیا باپکو ساری زندگی دے گا۔۔۔؟؟ وہ زچ سے آگۓ۔
باپ نہ ہوتے میرے تو۔۔ ۔۔آپ کو بتاتا کہ سزا کیا ہوتی ہے۔۔۔؟؟ نپے تلے انداز میں کہتا وہ وہاں سے اٹھا۔
آفتاب شیر خان۔۔۔! یاد رکھنا۔۔ تم ہم سے دو نہیں ہوسکتے۔۔ چاہے سو بہانے بنا لو۔۔۔ تمہارا باپ۔۔۔ ہم ہی رہے گا۔ شیر خان۔۔۔
دبنگ اندا میں سینے پے ہاتھ مارتےکہا۔
اور آپ کا نام۔۔۔ میرا بس چلے تو۔۔ اپنے نام کے ساتھ سے کھوچ کے پھینک دوں۔ دانت چباتے نفرت سے کہا۔ جبکہ شیر خان نے مسکرانے پے ہی اکتفا کیا۔ منہ پھیرتا وہ ریسٹورینٹ سے باہر نکلتا مردانہ وجاہت کا بھرپور شاہکار سفید قمیض شلوار میں کالی واسکٹ پہنے۔ پاٶں میں پشاوری چپل پہنے۔ عنابی لبوں کے اوپر ہلکی مونچھیں۔ ماتھے پے پڑے دو بل۔ اور گہری کالی آنکھیں۔ وہ کسی ریاست کا شہزادہ ہی لگا تھا۔ جو ایک بار دیکھنے والے کو دوبارہ دیکھنے پے مجبور کر دے۔
گاڑی کے پاس پہنچا تو گارڈ نے فوراً گاڑی کا دروازہ کھولا۔ کہ اسی اثنا میں ایک گولی چلی ۔ جس کا نشانہ آفتاب شیر خان تھا۔ لیکن اس تک پہنچنے سے پہلے کوٸ اور اس گولی اور آفتاب کے بیچ میں آگٸ۔
گولی لگتےہی وہ ایک پل کو جھول گٸ۔ اور آفتاب کے سینے سے جالگی۔ گولی اکی بازو پے لگی تھی۔ آفتاب گنگ ہی رہ گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی آفتاب نے اسے اپنی بانہوں میں تھام لیا۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
پیارے ریڈرز۔۔ تو بتاٸیے پہلی قسط کیسی لگی۔
بہت سے راز ہیں اس کہانی میں۔ جو دھیرے دھیرے کھلتے چلے جاٸیں گے۔ اپنے ہونے کا احساس دلاٸیں۔
دعاٶں میں یاد رکھیں۔
جزاك اللهُ‎

No comments:

Post a Comment