#قسط_نمبر32 (کے کے راز آٶٹ)
وہ وہیں بیٹھا اینولپ کو دیکھتا اسے کھولنےلگا۔ جبکہ سامنے وہ دشمن جاں بے ہوش تھی۔ اور اسے یک ٹک دیکھے گیا۔
اینولپ کھولا۔ رپورٹ آنکھوں کے سامنے تھی۔ آفتاب جیسےجیسے رپورٹ پڑھتا جا رہاتھا۔ اسکے دل کی دھڑکن تھمتی جا رہی تھی۔
ایک دکھتی نظر اٹھا کے سامنے اسے دیکھا۔ اور آنکھیں موند لیں۔ اسے سمجھ نہ آیا۔ کہ وہ کسطرح اپنی فیلنگز کا اظہار کرے؟ وہ خوش ہو یا۔۔؟؟ وہ جسے سزا دینے جا رہا تھا۔ انجانے میں وہ اسے نہیں خود کو سزا دے دیتا۔ اگر یہ رپورٹس اسے نہ ملتیں ۔ دل ہی دل میں اس ڈاکٹر کشمالا کا شکریہ ادا کیا ۔ رپورٹ واپس انویلپ میں رکھی۔ اور اٹھتاہوا کنول کے پاس پہنچا۔ جو ابھی بھی دواٸیوں کے زیراثر تھی۔
کیا یہی وجہ تھی۔۔۔۔؟؟ جو یہ آج میرے مخالف کھڑی نہ ہوسکی۔۔۔ ایک لفظ احتجاجاً وہ نہ بولی تھی۔ صرف ایک خاموشی تھی۔ جھکتا ہوا۔ اسکے ماتھےکو چھوا۔ جو اب نارمل ٹمپریچرمیں تھا۔ نجانے کیوں ہاتھ رینگتے ہوۓ اسکےپیٹ پے جا ٹہرے۔ اسکی پیٹ کو چھوتے ایک عجیب سا احساس جاگا تھا۔ جسے وہ خود بھی سمجھ نہ پارہا تھا۔۔ آنکھیں بھیگنے۔لگیں تھیں۔hamza
میں۔۔۔ بابا۔۔ بننے ۔۔؟؟ وہ خود کو جیسے باور کروا رہا تھا۔ آنکھیں موندتے وہ اللہ کا شکر ادا کرتا کنول کے ماتھےپے پیار کی مہر ثبت کر گیا۔
کہیں نہیں جانے دوں گا۔ بہت بھاگ لیا تم نے۔۔! اب ۔۔بس۔۔۔!
دل ہی دل میں وہ کنول سے مخاطب اسکی گردن پے جھکا اپنا لمس چھوڑ گیا۔
آپ تھوڑی سی لچک دیکھا دیتے۔مجانےبکہاں گۓ ہوں گے۔۔؟إ رات کہاں گذاری ہوگی۔۔ دونوں نے؟
رضیہ بیگم نے پریشانی سے ناشتے کی ٹیبل پے شوہر سےکہا۔
اپنی من مانیاں کرنے والوں کا ہی انجام ہوتا ہے۔ چاۓ کا سپ لیتے سپاٹ انداز میں کہا۔
کون سیمن مان سلطان صاحب؟ بیوی کے ماتھےکے بل انہوں نے نوٹ کیے۔
کسی کی بیٹی کو زبردستی گھر لے آنا۔ کیا یہ آپ ک نظر میں صحیح ہے؟
اگر زبردستی ہوتی تو کیا وہ لے کے آتا۔۔؟؟ یا عابیکے ماں باپ اسے عابی کو لے جانے دیتے؟آگے سےکیے گۓ سوال پے وہ اسہزاٸیہ انداز میں ہنسے ۔
آپ کے بیٹے کو سب کو اپنی طرف چلانا آتا ہے۔ وہاں بھی کوٸ دھمکی دے کے آۓ ہوں گے۔ اور کب انکار کیا۔ کہ ان صاحبزادہ کی رخصتی نہیں کروانی ؟ جو یوں اٹھا کے لے آٸے اگلے کی بیٹی کو؟
اگلےکی بیٹی آپ کے صاحبزادے کی بیوی ہے۔ نکاح میں ہے اسکے۔۔۔ اور۔۔ویسے۔۔ بھی جو کام ۔۔ کوٸ اور کرے وہ صحیح ہے۔ وہی کام اگر شامی نے کر لیا تو غلط؟ آواز تھوڑی تیز ہوٸ۔
کیا مطلب اس بات کا؟ فیاض صاحب کے ماتھےپے بھی بل پڑے۔
شہیر نے انابیہ کی رخصتی کیسے لی تھی؟ یاد ہے آپ کو؟ رضیہ بیگم کو گذرے پل ایک ایک سب یاد آگۓ۔
فیاض صاحب لب بھینچ گٸے۔
اب آپ یہ کہنا چاہتی ہیں۔ کہ ہم نے شامی سے رخصتی لینے سے انکار کیا؟ اس لیے انہوں نے یہ قدم اٹھایا؟ آپ بیٹے کو غلط شہ مت دیں۔ غلطی پے انہیں؟؟
نکاح ہوجاۓ تو رخصتی کی ایک ثانوی حیثیت رہ جاتی ہے۔ دھیرے سے کہتیں وہ اٹھیں تھیں۔ انکے انداز سے ناراضی جھلک رہی تھی۔
گڈمارننگ۔! ماں باپ کو بحث کرتا دیکھ وہ چہرے پے مسکراہٹ چھپاتا عابی کو لیے آگے بڑھا۔
آپ۔۔۔۔؟؟ رضیہ بیگم کی تو آنکھیں ہی حیرت سے وا رہ گٸیں۔
جبکہ شامی ان کے ماتھےبپے بوسہ دیتا ایک چثٸر گھسیٹ کے باپ کے سامنے بیٹھ گیا۔
یہ یہاں کیسے آۓ؟ کس نے۔۔؟؟ آنے دیا؟ کس کی اجازت سے آۓ؟ فیاض صاحب بنا شامی کو دیکھے بولے گٸے۔ جبکہ عابی دھڑکتے دل سے اپنے ماموں جان کو دیکھ رہی تھی۔ دوسری نظر بہت ہی مطمین انداز میں بیٹھ ناشتہ کرتے اپنے مجازی خدا کو دیکھا۔ جیسے اسے کوٸ فرق ہی نہ پڑ رہا ہو۔
آپ نے؟ رضیہ بیگم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔ جبکہ شامی کے لوٹ آنے پے وہ اندر ہی اندر بہت خوش تھیں۔
میں بھی رہتا ہوں اس گھر میں۔ اچانک سے فضا کے ساتھ آتے میکال نے ہاتھ اٹھاتے کہا۔ تو فیاض صاحب نے اسے بھی ایک گھوری سے نوازا۔
لاٸیں مجھے دیں۔ فضا کےہاتھ سے اسکی بیٹی ماہ نور کو لیتے شامی کے چہرے پے بھرپور مسکراہٹ تھی۔
امی جان۔۔۔! ابا حضور سے کہہ دیں۔ اپنے گھر میں آنے کے لیے اجازت کی کیا ضرورت ہے؟ جبکہ یہ بھی جانتا ہوں۔ سب سے زیادہ خوش یہی ہیں۔
ماہ نور سے کھیلتے وہ انڈاٸیرکٹ باپ سے مخاطب ہوا۔
خوش فہمی پالنی چھوڑ دیں۔ اور کینیڈا کی راہ لیں۔ اپنے صاحبزادے سے کہہ دیں۔ اسی غصہ سے جواب دیا۔
امی جان۔۔! ان سے کہہ دیں۔ میں ان کو چھوڑ کے کہیں نہیں جا رہا۔ ساری زندگی ان کے سینے پے مونگ دل کے بیھٹوں گا۔ اسی انداز میں جواب آیا۔ جس سے سب کے چہرے پے خوشی کی لہر دوڑ گٸ۔
سچ میں۔۔؟؟ رضیہ بیگم نے شامی کا ماتھا چوم لیا ۔
آپ کو چھوڑ کے کہاں جاسکتا ہوں۔۔؟؟ محبت بھرے لہجے میں کہا۔
اور یہ ایک رات میں کایا پلٹ کیسے ہوٸ؟ فیاض صاحب نے پھر بھی طنزاً کہا۔
ماموں جان۔۔۔! پلیز۔۔۔ معاف کردیں ناں۔۔؟ اگر شام کا بھولا رات کو گھر وپس آجاۓ تو۔۔ اسے بھولا نہثس کہتے۔۔۔ !
بہت دیر بعد عابی کی زبان سے بھی کچھ ادا ہوا۔ ایک لمحے کو تو شامی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
واہ۔۔ بچے۔۔ واہ۔۔؟؟؟ کل تک تو۔۔ خلع تک پہنچ گۓ تھے۔ اور آج ایک دن میں سب بدل گیا۔۔؟؟ واہ۔۔۔؟؟
فیاض صاحب غصے سے اٹھے۔ اور اندر جانے لگے۔
بابا۔۔۔؟؟ اسی لمحے شامی نے انہیں پکارا۔
ماہ نور کو فضا کی گود میں دیتا وہ اٹھ کے ان کے پاس جا کھڑا ہوا۔
آٸ لو یو۔۔ بابا۔۔! معاف کردیں ناں۔۔۔؟؟ ان کے سامنے کھڑا وہ ہمیشہ کی طرح اپنی غلطی پے ایک کان پکڑے انکا دل موم کر گیا۔
شامی نے انکو موم ہوتے محسوس کر لیا تبھی خود ہی باپ کے گلے لگ گیا۔ فیاض صاحب نے بھی اسے گلے سے لگا لیا۔ انکی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
ب
ہت دل دکھاتے ہو۔۔۔! فیاض صاحب نے گلہ کیا۔
چلو شکر۔۔! سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ میکال نے ماہ نور کو اپنی گود میں لیا اور مسکراتے کہا۔ فضا کے چہرے پے بھی مسکراہٹ تھی ۔ اس نے میکال کو اشارہ کیا ۔ کہ وہ بولے۔
اب اتنی خوشیکی بات ہے تو۔۔ کیوں ناں۔۔ آج۔۔ ایک چھوٹی سی ریسپشن پارٹی رکھ دی جاٸے؟ کیا کہتے سب؟
میکال نے کہتے ہوۓ سب سے راۓ لی ۔
یوں ایک دم سے۔۔؟ انابیہ اور شہیر بھاٸ آجاٸیں پھر۔۔ کر لیں گے۔ تبڑے ابو اور بڑی امی بھی نہیں ہیں۔( وہ عمرہ ادا کرنے گٸے تھے۔ )سب ایک ساتھ ہوں۔ تو ہی اچھا لگتا ہے۔
شای نے دھیرے سے کہا۔
بیٹا جی۔۔! جسطرح اچانک رخصتی ہوٸ ہے ۔ ولیمہ بھی اسے ہی ہوجاۓ گا۔ باقی جب اکھٹے ہوجاٸیں گے۔ ایک بار پھر کرلیں گے۔ فیاض صاحب میکال کے ہم خیال ہوۓ۔
یہ تو ناانصافی ہے۔۔ پھوپھا جان نے چپ چپیتے رخصتی دے دی۔ اب ولیمہ؟؟ کہتےہوۓ عابی کی شاکی نظروں کے زیر اثر اسکی زبان رکی۔
بیٹا۔۔! جہنوں نے اپنے جگر کا ٹکڑا آپ کو سونپ دیا ہے۔ ان سے آپ اور کیا مید لگا کے بیہٹھے ہیں؟ ہر رشتے میں خلوص و محبت ایمانداری۔ احساس اور اعتبار ہی سب سے بڑی چیز ہوتی ہے۔
رضیہ بیگم نے سمجھایا تو وہ مسکرا دیا۔
اسکی آنکھ کھلی تو خود کو بستر پے پایا۔ بے اختیار اتھ ماتھے پے گیا۔ اسکا سر شدید درد ہو رہا تھا۔ اس نے اٹھانا چاہا۔ لیکن نقاہت کے باعث اٹھ نہ پاٸ۔
میں یہاں کیسے۔۔؟؟ اپنے ہاتھ پے سرنج کا نشان دیکھا۔ اور پاس لگی ڈریپ پے نظر گٸ۔ تو اسے سمجھ آگٸ۔ وہ بے ہوش پوٸ تھی۔ آفتاب کہیں نہ تھا۔
اس سے پہلے وہ واپس آۓ مجھے یہاں سے نکلنا ہوگا۔
یہی سوچتے ہوۓ وہ اٹھی۔ کہ لڑکھڑا کے واپس بیٹھ گٸ۔
یہ چکر۔۔۔؟؟؟کیوں آرہےہیں؟ سر پے ہاتھ رکھتے اچانک سے اسکی نظر اپنے کپڑوں پے پڑی۔
یہ۔۔میں۔۔؟؟ نے۔۔۔یہ۔۔کپڑے۔۔۔؟ وہ بری طرح ڈسٹرب ہوٸ تھی۔ کہ تبھی ایک ادھیڑ عمر کی عورت ناشتے کی ٹرے اٹھاۓ اندر داخل ہوٸ۔
خان بی بی ! کیسی ہیں آپ اب؟ ہشاش بشاش انداز میں دریافت کیا۔ کنول کے ماتھے پے بل پڑے ۔
آفتاب ۔۔وہ کہاں ہیں؟ بنا اسکی بات کا جواب دیۓ اپنا سوال داغا۔
جی وہ تو مجھے نہیں پتہ۔ آپ ناشتہ کریں تب تک آجاٸیں گے۔ بہت ادب سے کہا۔
ناشتے کی ٹرے میں اپنا پسندیدہ بادام کا دودھ دیکھ کنول کے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے۔ انا اور خود داری کو چھ دیر کے لیے ایک طرف رکھتی وہ واپس بیٹھتی دودھ کا کلاس اٹھا گٸ۔ اور ایک ہی گھونٹ میں آدھا گلاس ختم کر ڈالا۔ سامنے بیٹھی عروت کے چہرے پے ایک بھرپور مسکراہٹ ابھر کے معدوم ہوٸ۔
صحیح کہا تھا۔ خان نے۔ یہ لڑکی واقعی اس دودھ کی دیوانی ہے۔
اور کچھ لیں گیں؟ دودھ ختم کرتے خالی گلاس ٹرے میں رکھا۔ جبکہ اسکے ہونٹوں کے اوپر دودھ کی ایک لکیر بن سی گٸ تھی۔
نہیں۔۔ میراپیٹ بھر گیا ہے۔ اب آپ جاٸیں۔
پیٹ بھرتے ہی کنول کو لگا اس میں انرجی سی بھر گٸ ہے۔ آوا اور لہجہ بھی بدل گیا۔ اتنے میں آفتاب کو ندر آتا دیکھ اسکا انداز اطوار سب واپس مڑ گیا۔ وہ عورت مسکراتی ہوٸ باہر نکل گٸ۔ جبکہ آفتاب کو اپنے قریب آتا دیکھ نامحسوس انداز میں کنول اپنی جگہ سے ڈر کے کھڑی ہوٸ تھی۔
کنول۔۔۔ ڈر مت۔۔۔! یہ کچھ نہی کرنے والے۔ ہمت کر۔۔۔۔ ہمت۔۔۔! خود کو حوصلہ دیتیوہ آفتاب کی آنکھوں میں دیکھتی جا رہی تھی۔ وہ اسکےاندر کا حال جاننا چاہ رہی تھی۔ لیکن وہ اتنا گہرا تھا۔ کہ وہ اس راز تک کبھی شاید پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔
اس کے بہت ہی قریب پہنچ کے وہ ایک قدم کے فاصلےپے رکا۔
تیار۔۔ ہوجاٶ۔ کچھ دیر میں ہم اسلام آباد کے لیے نکل رہے ہیں۔ سپاٹ انداز میں بنا کسی تاثر کے اسکے ہونٹوں پے لگی دودھ کی لکیر کو فوکس کرتے کہا۔
اسلام آباد۔۔۔؟؟ زیرِلب دہرایا۔
لیکن۔۔۔ میں نے نہیں جانا۔۔آپ کے ساتھ کہیں بھی۔
وہ جو خود پے ضبط کیے واپس مڑا تھا۔ کنول کے الفاظ نے اسکے قدم روکے۔ پلٹا۔ اور کھینچ کے اپنے قریب کیا۔ ایک پل کو تو کنول کی جان ہی نکل گٸ۔
میں نے پوچھا نہیں ۔ بتایا ہے۔۔۔۔ کمر میں ہاتھ ڈالے وہ اسکی کالی آنکھوں میں اپنی سبز ماٸل آنکھیں گاڑتا غرایا تھا۔
زبردستی۔۔۔نہ کریں۔ میں نہیں جاٶں گی۔۔۔ آواز میں واضی لڑکھڑاہٹ تھی۔
تم۔۔۔مجھے ۔۔سختی کرنے پے مجبور کررہی ہو۔۔۔پھر سے وہی دبنگ انداز ۔ جبکہ کنول کو اسکی انگلیوں کا دلگریب لمس اپنی کمر پے محسوس ہورہا تھا۔ جس میں سختی نہ تھی۔ اور یہی بات کنول کا دل دھڑکا رہی تھی۔
کل والے آفتاب اور آج والے آفتاب میں بہت فرق تھا۔ اس سامنے کھڑے آفتاب کے کسی انداز سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اس سے بدلہ لے گا۔
اور۔۔۔ایسا کیوں ۔۔؟؟ وہ نہیں جانتی تھی۔
آپ۔۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔۔! دور رہیں۔۔۔!
اپنے دل کے اندرامڈتے جذبات کو قابو کرنے کی سعی کرتی اس نے آفتاب کی گرفت سے نکلنا چاہا۔
کہ آفتاب جو بنا پلک جھپکے اسکے چہرے کے تاٹرات دیکھے جا رہا تھا۔ اسکو مزید اپنے قریب کیا۔ وہ گھبراٸ ہرنی کی طرح اس شیر کو دیکھتی اندر ہی اندر لرز گٸ تھی ۔
ایک انچ کا فاصلہ بھی مٹاتا وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا اسکے لبوں پے جھکا۔ جو اسے اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ کنول تو اس پل حیرت کی سمندر میں غرق ہوٸ تھی۔ بنا ہلے جلے وہ بت بنی آفتاب کو دیکھے گٸ۔
جو واپس دھیرے سے پیچھے ہوتا اسکی آنکھوں میں جھانکتا اسی حالت پے دل ہی دل میں ہنسا تھا۔
تمہارے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے۔ تیار ہوجاٶ۔ ورنہ۔۔۔۔؟؟ مجھےبتو تیار کرنا آتا ہے۔۔! اسکے کپڑوں پے چوٹ کرتا وہ اسے مزید خود میں سمٹنے پے مجبور کر گیا۔ مزید وہاں رکنا اسکے لیےمحال ہوگیا تھا۔
فوراً باہر آتا وہ بالوں میں انگلیاں پھسا گیا۔
وہ نا چاہتے ہوۓ بھی اسکے قریب جا رہا تھا۔ اس نے خود سے عہد کیا تھا۔ کہ وہ اس لڑکی سے اب صرف نفرت کرے گا۔ مگر۔۔۔ اپنے ہونے والے بچے کی ماں سے وہ نفرت نہیں کر پا رہا تھا۔
اس سب کے باوجود وہ اسے معاف کرنےوالا نہ تھا۔ وہ کچھ بھی نہ بھولا تھا۔ اب اسے اپنے بچے کے اس دنیا میں آنے کا انتظار تھا۔ جسکی وجہ سے اسکے ہاتھ پاٶں باندھے گۓ تھے۔ ورنہ وہ کنول کو بہت سخت سزا دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔
کنول اسکا دھیما پن دیکھتے اتنا اندازہ لگا گٸ تھی کہ وہ آج بھی اس سے محبت کرتا ہے۔ اسے چاہ کے بھی تکلیف نہیں پینچا سکتا۔ اس سوچ کے آتے وہ مسکراٸ تھی۔
مجھےتیار ہونےکا تو کہہ دیا لیکن ۔۔۔؟؟ سوچتے اسکی نظر سامنے پڑے شاپرز گٸ۔ کھول کے دیکھا۔ تو اس میں ضرورت کی سب چیزیں موجود تھیں۔ دھڑکتےدل سےاس نے شاور لیتے ایک پنک کلر کا لباس زیب تن کیا۔ اور تیار ہوتی بار نکل آٸ۔ آفتاب سعدی سے فون پے بات کرتا اگلا لاٸحہ عمل طے کر رہا تھا۔اسے واپس کراچی جانا تھا۔ اسلام آباد سے باٸ اٸیر وہ کنول کو لیےکراچی جانےکا ارادہ رکھتا تھا۔ اسے اپنی ماں سے ملنا تھا۔ وہ جانتا تھا۔ اس سارے عرصے کے دوران وہ کتنا روٸیں اور تڑپی ہوں گیں۔
کال بندکرتا وہ پلٹا۔ تو سامنے کنول کو پنک لباس میں دیکھتا اسکے چہرے کا بھی گلابی پن آفتاب سے چھپا نہ رہ سکا۔ جبکہ نجانےکیوں کنول کو آفتاب کا اپنے قریب ہونا۔ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ ایسے احساسات جو پہلے کبھی نہ جاگے۔ آج اسے آفتاب کےقریب کر رہے تھے۔
آفتاب اسے اس حالت میں دیکھ پیچ و تاب کھاتا رہ گیا۔ باہر اتنی سردی تھی۔ اور محترمہ سج سنور کے آگٸ تھیں۔ آفتاب اسکا ہاتھ تھامے واپس اند رکی جانب لےکے گیا۔ شاپنگ بیگ سے کوٹ نکالا اور اسے پہنایا۔ مفلر اسکے کے کاندھوں پے ڈالتے وہ اب مطمین ہوتا اسے لیےباہر نکلا۔ اس سب کا کنول پے بہت گہرا اثر ہوا۔ وہ اسکی اتنی کٸیر کیوں کر رہا ہے۔۔؟؟ کہیں اسے۔۔؟؟ پتہ تو نہیں۔۔۔؟ یہ سوچ آتے ہی اسنے دھڑکتے دل سے ساتھ چلتے آفتاب کو دیکھا۔ جو اب اسی عورت سے کھڑا کچھ بات کر رہا تھا۔
خان بیٹا۔۔! خیر سے اپنے گھر جاٶ۔ اس عورت نے آتے آفتاب کے سر پے ہاتھ پھیرا۔ اور کنول کو بھی گلے لگا کے الله حافظ کہا۔
آفتاب کنول کو لیے گاڑی کی جانب بڑھا۔ جہاں سعدی پہلےہی کھڑا انکا انتظار کررہا تھا۔ کنول خاموشی سے آفتاب کے ساتھ چلتی اسے ہی دیکھے جا رہی تھی۔ جس نے اس سے ایک لفظ تک نہ پوچھا۔ اور بس اسکی حفاظت کرنے لگا تھا۔ ایسا کیوں؟ وہ نہیں جان پارہی تھی۔کہ گاڑی کے پاس پہنچتے کنول بری طرح لڑکھڑاٸ۔ اور جھٹ سے آفتاب کا بازو تھاما۔ اسنے بھی مڑتے کنول کو فوراً سہارا دیتے کھڑا کیا۔
دیکھ کے نہیں چل سکتیں۔ ابھی اگر گر جاتی تو۔۔۔؟؟ آفتاب نے اسے بری طرح جھڑک دیا۔ جبکہ اسکے لہجے کی فکر نمایاں تھی۔ جسے کنول نے دل سے محسوس کیا۔
خود پے ضبط کرتا وہ کنول کو لیے گاڑی میں بیٹھا ۔ گاڑی اسلام آباد کے راستے پے گامزن ہوچکی تھی۔
مری کے بلند وبالا پہاڑ۔ اسکی خوبصورتی دیکھنے کے قابل تھی ۔ اور کنول اس خوبصورتی کی شروع سے دیوانی تھی۔ اسکا سارا بچپن یہیں تو گزرا تھا۔ ان وادیوں میں ۔ وہ اور کےکے۔۔ ہاں۔۔ کے کے۔
کومل خان عرف کے کے۔ اسکی جڑواں بہن۔ اسکی ہم جولی۔ جو تھی تو اسکا عکس۔ لیکن اتنی ہی اس سے مختلف تھی۔
جب انکی پیداٸش کا وقت آیا تھا۔ تو دی جے نے مریم کو سب سے چھپاکےیہاں بھیج دیا۔ اور یہیں آ کے مریم کو پتہ چلا کہ وہ ایک نہیں جڑواں بچیوں کی ماں بنی ہیں۔ وہ بہت زیادہ گھبرا گٸیں تھیں۔ کہاں تو وہ ایک بچی کو اپنانے سے انکاری تھے۔ اب دو کو وہ کیسے اپناتے؟ یہ سب سوچتے انہوں نے دل پے پتھر رکھتے اپنی ایک بیٹی کو وہیں خالہ فوزیہ جو کہ داٸ تھیں۔
ان کے پاس چھوڑا۔ اور خود کنول کو لیے خان ولا پہنچ گٸیں۔ جہاں ایک دن بھی انہوں نے سکونکا نہ کاٹا۔ چاہ کے بھی وہ اپنے شوہر کو اپنی دوسری بیٹی کا نہ بتا سکیں۔ جس کاانہیں سار زندگی ہی ملال رہنا تھا۔
نہ حالات سازگار ہوٸے نہ وہ اپنے اندر کا راز کسی کےآگے کھول سکیں۔ اور اسی دوران خانم نے انپے گندا الزام لگا کے انہیں وہاں سے نکال دیا۔ وہ کتنا روٸیں۔ کتنا تڑپیں۔ یہ صرف وہ جانتی تھیں۔ یاانکااللہ۔
وہ وہاں سے خالی ہاتھ اپنی بچی کو لیے نکل گٸیں۔ انکے پاس اتنے پیسے نہ تھے۔ کہ وہ کراچی سے مری جا سکتیں۔ انہوں نے وہیں اپنی ایک دوست سے مدد لینےکا سوچا۔ جس نے نہ صرف انکی مدد کی بلکہ انکو ایک اچھی فرم میں جاب بھی لوا دی۔
مریم خان صرف اتنا چاہتی تھیں۔ کہ وہ جلد از جلد پیسے اکھٹے کر کے مری واپس اپنی دوسری بیٹی کے پاس چلی جاٸیں۔ کم سے کم وہ اپنی دونوں بیٹیوں کی پرورش تو اچھے طریقے سے کر لیں گیں۔
لیکن شاید قسمت میں ابھی اور امتحان باقی تھے۔دو سال گزر گۓ ۔ لیکن وہ واپس نہ جا سکیں۔انکو اپنی بیٹی کی یاد آتی۔ لیکن وہ خود پے ضبط کیے کراچی جیسے بڑے شہر میں اکیلی رہتیں۔ اپنی ایک بیٹی کو سنبھالےہوۓ تھیں۔
وقت گزرتا گیا۔ انکی کبھی بھی خان ولا کے کسی فرد سے ملاقات نہ ہوٸ۔ ایک شہر میں رہتے ہوۓ بھی وہ بے ساٸباں ہو گٸ تھیں۔
اور پھر ایک دن۔۔۔؟؟ ایک دن انکا ٹکراٶ ارباز خان کے ساتھ ہوگیا۔ جہاں سے انکی زندگی میں مزید بھونچال آگیا ۔
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ۔ کنول ماضی کی دنیا سے نکلتی حال میں واپس لوٹی۔
آفتاب نے اسکے لیے لنچ منگوایا تھا۔ اسے لنچ پکڑاتا خود گاڑی سے نیچے اترتا کسی کو کال کرنے لگا۔ کنول کو بھی شدید بھول لگی تھی۔ وہناراضی میں بھی اسکا خیال رھ رہا تھا۔ لیکن کیوں؟ اس کیوں کا جواب صرف آفتاب ہی دے سکتا تھا۔ کنول اسکے یوں اگنور کرنے پے تھوڑ دلبرداشتہ ہوٸ تھی۔ وہ حقیقت نہیں جانتا تھا۔ اور کنول کو یقین تھا۔ جس دن وہحقیقت جان گیا۔ اسے معاف کر دے۔ یہی سوچتے اس نے آفتاب کو سب کچھ سچ بتانے کا فیصلہ کیا۔
تھوڑا سا ہی کھانے کے بعد آنسو صاف کرتی وہ اپنا ہاتھ روک چکی تھی۔ اور رخ موڑے ونڈو سے باہر دیکھنےلگی تھی۔ اسکا ہر ایک عمل آفتاب کی نظروں میں تھا۔ وہ جانتا تھا۔ کہ وہ وقت دورنہیں جب کنو ل خود اسے ساری سچاٸ بتا دے گی ۔ اور وہ تو اسکے منہ سےہی سب سننا چاہتا تھا۔ گاڑی میں بیھٹتے دودھ کا ایک پیکڈ گلاس کنول کی جانب بنا دیکھے بڑھایا۔
کنول نے سوالیہ نظروں سے آفتاب کو دیکھا۔ لیکن اسکے نہ دیکھنےپے خاموشی سے دودھ کا گلاس تھام لیا۔ ایک سپ لیتے اسکی آنکھوں بھیگنےلگیں۔
مطلب۔۔۔۔ وہ جان گیا تھا۔ اس بات کا یقین ہوتے ہی کنول کے دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی۔ اب وہ کیاکرنے والا تھا آگے۔وہ نہیں جانتی تھی لیکن یہ ضرور طے تھا۔ وہ اپنے بچے کی خاطر اب اسکو کوٸ نقصان نہیں پہنچانے والا تھا۔
وہ وومٹ کرتی بے حال ہوتی روم میں آٸ کہ گھر سے رضیہ خاتون کی آتی کال پے وہ چونکی ۔ اسوقت وہ کبھی کال کرتی نہ تھیں۔ ان سے بات کرتے اسے ایک دم خوشی کا احساس جاگا۔ شامی کی رخصتی کاجان وہ بہت خوش تھی۔ اور بروقت شامی کے صحیح فیصلہ لینےپے بھی مطمین ہوٸ تھی۔ کچھ دیر شامی سے بات کرنے کے بعد کال بند کرتی وہ اٹھی تھی۔ کہ چکرا کے وہیں بستر پے گرگٸ۔ اور آہیستہ آہیستہ ہوش وحواس کھونےلگی۔
یہ۔۔۔؟؟ آپ عابی کو کہاں لے کے جارہی ہیں؟ شامی نے عابی کو رضیہ خاتون کو ساتھ لےجاتے دیکھ احتجاج کیا۔
آج شام رخصتی تک دونوں دور رہو گے۔ عابی پارلر جاۓ گی۔ میری بہو کو آج سب سے زیادہ خوبصورت لگنا چاہیے۔
اوکے۔
کہتے وہ شرماٸ سی عابی کا ہاتھ تھامے وہ باہر نکلیں۔ جب کہ شامی صرف مسکرا ہی سکا۔ وہیں بیڈ پے نیم دراز ہوتا وہ منزہ کے بارے میں سوچتا اٹھ بیٹھا اسکی رگیں تن گٸ تھیں۔ اسی وقت باٸیک کی چابی اٹھاتا۔ وہ باہر نکل گیا۔
مجھ سے شادی کرو گی ؟
کاظم کی اچانک کہی ہوٸ بات پے کے کے ایک دم چونکی۔
کیاکہہ رہے ہو۔۔؟؟ شادی کیسے کر سکتی ہوں میں؟ کے کے پریشان ہوٸ۔
کیوں نہیں کر سکتی؟ کاظم کے ماتھےپے بل پڑا۔
بس نہیں کر سکتی۔ سختی سےکہتے وہ اٹھی تھی۔ کہ کاظم نےاسکا ہاتھ تھام لیا۔
کیا بدتمیزی ہے۔ ۔۔؟؟ چھوڑو میرا ہاتھ۔ وہ بھڑکی۔
کیوں ڈر لگنےلگا ہے مجھ سے۔ کہیں محبت تو نہیں ہوگٸ۔؟ کاظم کی بات پے ایک لمحے کو کے کے کا دل دھڑکا۔ لیکن اگلےہی لمحے وہ غصہ سے اپنی کلاٸ چھڑا گٸ۔
جاریہے

No comments:
Post a Comment