#قسط_نمبر24 (کنول ان ٹربل)
لیٹس۔۔ گو۔۔! آفتاب نےاسکی گرین آٸیز میں دیکھتے پر اعتماد انداز میں کہا۔ تو ماسک والی لڑکی کے چہرے پے گہری مسکراہٹ ابھری۔
دھیرے سے آفتاب کا ہاتھ تھاما۔ اور دونوں آگے پیچھے کلب سے باہر نکلے۔ جبکہ کاظم ان کے پیچھے پیچھے ہی تھا۔
گاڑی میں بیٹھے آفتاب نے ایک نظر اس پے ڈالی۔
کہاں جانا چاہو گی۔۔؟ فاٸیو سٹار یا سیون سٹار۔۔؟؟ یا پھر۔۔ میرے گھر۔۔؟ گھمبیر لہجے میں پوچھا۔
جہاں تم لے چلو۔۔۔! ایک سرور کا عالم تھا اس پے۔ اسے صرف اس شخص کو اپنا بنانا تھا۔ کنول کے الفاظ ابھی بھی اسے تیر کی طرح چبھے ہوۓ تھے۔
اپنی بیوی کے پاس۔۔۔ اسکی بانہوں میں ۔
اور آج ۔۔اسکا شوہر میری بانہوں میں ہوگا۔۔۔ا فسوس۔۔۔کنول۔۔۔بہت مان تھا ناں۔۔ تمہیں۔۔۔اپنے شوہر پے۔۔ اب دیکھنا ۔۔ آج کیسے۔۔ تمہارا مان چکنا چور ہوتا ہے۔۔ جب۔۔ تمہارا شوہر اپنا آپ مجھ پے نچھاور کر دے گا۔
سارے راستے وہ یہی سوچتی آٸ۔
آفتاب اسے آفتاب منشن لے آیا تھا۔ لیکن اپنے بیڈ روم کی بجاۓ وہ اسے گیسٹ روم میں لایا تھا۔
کیا لو گی۔۔؟؟ آفتاب نے کوٹ اتار کے ایک ساٸیڈ پے رکھا۔ اور سامنے کھڑی لڑکی کا اوپر سے نیچے مکمل جاٸزہ لیا۔
ہمممم۔۔۔ محبت کا جام ہی پلا دو۔۔۔!
قریب آتے آفتاب کے کالر کو ٹچ کرنا چاہا۔ کہ آفتاب نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔ تھامنے میں تھوڑی سختی تھی۔کہ ماسک والی لڑکی ایک پل کو ٹھٹھکی۔
بہت جلدی ہے۔۔ پہلے۔۔ یہ ماسک تو ہٹاٶ۔۔ اپنے چہرے کادیدار تو کراٶ۔۔۔۔
آفتاب نے فوراً نرمی سے اسکا ہاتھ چھوڑا۔ اس سے فاصلہ بناتے وہ اب سامنے صوفے پے آرام سے بیٹھا اسے دیکھنے لگا۔
میرے چہرے کا دیدار کرنا۔۔ تمہارے لیے برداشت سے باہر ہوگا۔اسلیے یہ ماسک رہنے دو۔ آفتاب کے پاس جاتے صوفے پےاس کے دونوں اطراف ہاتھ رکھتے آفتاب کے چہرے پے جھکتے وہ ایک ادا سے بولی تھی۔
آفتاب ایک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا۔ بنا پلک جھپکے۔
آفتاب کے چہرے پے اسکے ہاتھ پہنچنے والے تھے۔ کہ۔۔۔
میرے گھر میں اس رات کیوں آٸ تھی تم۔۔؟؟
سپاٹ انداز میں پوچھا گیا سوال کے کے کو چونکا گیا۔ وہ بری طرح گڑبڑاٸ تھی۔ مطلب۔۔؟؟ کنول نے اسے سب۔۔ بتا دیا۔۔۔؟ یہی پہلی سوچ آٸ اسے۔
جھٹکے سے وہ پیچھے ہٹی۔ آفتاب ایک لمحے کو بھی نہ ڈگمگایا۔
اہوہ۔۔۔۔! تو بیوی نے بتا دیا۔۔۔! جہاں یہ بتایا ۔۔۔کہ میں وہاں آٸ تھی۔۔۔ یہ نہیں بتایا۔کیوں آٸ تھی؟
کے کے نے سینے پے بازو باندھے طنزیہ انداز میں پوچھا۔ آفتاب ایک جھٹکے سے اٹھتا اسکے پاس آیا۔
اپنی گندی زبان سے میری بیوی کا نام بھی مت لینا تم۔
آفتاب نے غصہ سے اسکا گلہ دبایا۔ جبکہ دو ہی سیکنڈ میں اسے ڈاچ دیتی وہ دور جا کھڑی ہوٸ۔
نہ نہ۔۔۔۔! کے کے کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرنا۔۔۔ ایک ہاتھ ٹیبل پے رکھے وہ ایک ادا سے مسکراتی ہوٸ بولی۔ جبکہ گلےمیں شدید درد ہوا تھا۔ جسے وہ چھپا گٸ تھی۔
اس رات ۔۔۔۔میں تمہاری بیوی کےکہنےپےہی آٸ تھی۔ جسے وہاں سے جانا تھا کسی خاص سے ملنے۔۔۔اور اپنی جگہ وہ مجھے چھوڑ کے جانا چاتی تھی۔ تا کہ میں تمہیں کمپنی دے سکوں۔۔۔ زہر اگلتی وہ آفتاب کو ایک آکھ نہ بھاٸ۔
جھوٹ مت بولو۔۔۔۔جو سچ ہے وہ بتاٶ۔۔ آفتاب جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھا۔
سچ ہی ہے یہ۔۔۔! وہ اس رات کسی سے ملنے والی تھی۔ اور اسی وجہ سے مجھے یہاں بلایا۔ تاکہ تمہیں نہ پتہ چل سکے۔ زہر خند لہجے میں کہا۔
آفتاب کےدماغ کی رگیں تن گٸ تھیں۔
اب اگر ایک اور دفعہ تم نے میری بیوی کا نام لیا تو میں بھول جاٶں گا کہ تم ایک لڑکی ہو ۔۔۔
اچھا۔۔۔۔ تو پھر اس رات کہاں تھی تمہاری بیوی۔۔؟؟ بتاٶ۔۔۔؟؟ کے کے نے ایک اور پتہ پھینکا۔آفتاب کی آنکھوں میں اس رات کے لمحے گزرے۔ جن میں صرف کرب تھا۔ لیکن۔۔ قرب کے لمحے بھی یاد تھے اسے۔ بھولا نہ تھا وہ کچھ بھی۔
میری بیوی میرے ساتھ تھی۔۔ میرے پاس۔۔۔! سمجھی تم۔۔۔۔! آفتاب سخت غصہ سے بولا۔ جس پے کے کے تو بپھر ہی گٸ ۔
اوہ۔۔رٸیلی۔۔۔۔! پھر میں یہاں کیسے آٸ۔۔؟؟ مجھے یہاں کا رستہ کس نے دکھایا۔۔؟؟ کےکے مکمل طور پے آفتاب کو کنول سے بدظن کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
آفتاب بنا جواب دیے اسکی جانب بڑھا۔ اور وہ اتنےقدم دور ہوٸ۔
میرے قریب مت آنا۔۔۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ انگلی اٹھا کے غصہ سے وارن کیا۔ جبکہ سامنے آفتاب خان تھا۔ وہ کہاں رکنے والا تھا۔۔؟؟
تم جیسی گھٹیا لڑکی کی باتوں میں آکے میں اپنی بیوی پے شک کروں گا۔۔؟ دانت پیستے کہا۔
ہاہاہاہاہ۔۔۔ شک نہیں یقین ۔۔۔! مجھے دیکھنا چاہتے ہو ناں ۔۔۔یہی خواہش ہے ناں تمہاری۔۔۔لیکن۔۔۔ مجھے دیکھنےکے بعد۔۔ تم۔۔۔خود کو بھی کھو دو گے۔۔
اب کی بار وہ آفتاب کی جانب بڑھی۔ اسکے بہت قریب کھڑی ہوتی۔ آفتاب کےماتھےپے بل پڑے۔ اسکی گرین آٸیز ماسک سے آفتاب کا مذاق اڑاتی دکھاٸ دیں۔
دھیرے سے اس لڑکی نےماسک الٹا۔ اسکے چہرے پے ایک بہت پیاری مسکان تھی۔ جبکہ آفتاب اسکاچہرہ دیکھتا سن ہو گیا تھا۔
میرے بن جاٶ۔۔۔ ورنہ مار ڈالوں گی۔ ۔۔۔ اسکےکان کے قریب ہوتی وہ سرگوشی کر گٸ۔
وقت جیسے وہیں تھم سا گیا ہو۔ آفتاب اپنی جگہ سے ہل نہ سکا ۔ کے کے دھیرے دھیرے اسکی حالت کا حظ اٹھاتی پیچھے ہوتی چلی گٸ۔ ۔ اسکے چہرے پے موجود پراسرا مسکراہٹ آفتاب کو زلزلوں کی دوش پے کھینچ لاٸ تھی۔
کے کے مسکراتی ہوٸ پیچھے ہوتی وہاں سے کچھ ہی پل میں غاٸب ہوٸ تھی۔
آفتاب چاہ کے بھی اسکے پچھے نہ جا سکا۔ وہیں زمین پے بیٹھتا چلا گیا۔ کچھ پل گزرے کہ کاظم اندر بھاگتا ہوا آیا۔ اسکا سانس پھولا ہوا تھا۔
وہ لڑکی۔۔ فرار ہوگٸ۔۔۔؟؟ اسے دکھ ہوا تھاکہ ہاتھ آٸ وہ کیسے نکل گٸ۔ جبکہ آفتاب کے ہاتھ سے اسکا نکل جانا کاظم کو ہضم نہ ہوا تھا۔
اور دوسری طرف آفتاب زمین پے ایسے بیٹھا تھا۔ جیسے سب کچھ ہار گیا ہو۔ سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحتیں مفقود ہوگٸ ہوں۔۔ اس نے خالی نظروں سے کاظم کو دیکھا۔ کاظم کو اسکی حالت سمجھ نہ آٸ۔
کاظم !مجھے اکیلا چھوڑ دو۔
آفتاب نے آنکھیں بند کرتے کرب سے کہا۔ کچھ پل یونہی بیت گٸے۔ کاظم مرے قدموں سے اٹھ کے وہاں سے باہر آگیا۔
یہ تکلیف سب تکلیفوں پے بھاری تھی۔ کہ اسکی بیوی ۔۔صرف ایک دھوکا تھی۔۔ ہاں۔۔ صرف ایک دھوکا۔۔اپنے دل میں موجود اسکے لیے جذبات پے آج وہ دکھی تھا۔ وہ اتنا ضرور جانتا تھا۔ کہ وہ کسی نہ کسی وجہ سے یہ سب کر رہی ہے۔۔ اسکا آفتاب کی زندگی میں آنا۔۔۔ بھی ایک چال تھی۔۔۔ وہ وہ نہیں تھی۔ جو دکھتی تھی۔۔ وہ تو درحقیقت یہ تھی۔۔۔ جو آج سامنے تھی۔
وہ ٹوٹ چکا تھا۔ بکھر رہا تھا۔کہ تبھی موباٸل پے کال آتی دیکھ وہ چونکا۔
دروازہ زور سے پیٹا جا رہا تھا۔ کنول کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ اس سے پہلے کے دروازہ کھلتا۔ وہ فوراً دروازے کے پیچھےہی چھپی۔ وہ جانتی تھی۔ سب کو صرف ایک وجہ چاہیے۔ اسے یہاں سے نکالنےکی۔ اور وہ انہیں کبھی نہیں دےسکتی تھی ۔ دروازہ کھلا ۔ سبھی اندر داخل ہوٸے۔
دی جے۔۔۔ دی جے۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟؟ آنکھیں کھولیں۔۔۔! انابیہ ان کے پاس ہوتی روندھے لہجےمیں بولی۔ تبسم ۔۔ ارباز خان خانم سبھی اندر پہنچ گے تھے۔ کنول کو یہا ں سے نکلنا مشکل لگ رہا تھا ۔
تبھی شہیر بھی اندر داخل ہوا۔
شور شرابا شور ہو چکا تھا ۔
انہیں ہاسپٹل لے کے جانا ہوگا۔۔۔ شہیر نے جلدی سے کہتے دیجے کو اپنی بانہوں میں اٹھایا۔ اور باہر کی جانب بھاگنےوالے انداز میں نکلا۔سبھی اسکے پیچھے پیچھے تھے۔ کمرہ خالی ہوگیا تھا۔
کنول نے دروازے کی اوٹ سے باہر نکل کے دیکھا۔
انابیہ کو سامنے کھڑا دیکھ کنول ٹھٹھکی تھی۔
آپ ۔۔یہاں۔۔؟؟ کیا کر رہی تھیں۔۔؟؟ انابیہ نے شکی انداز میں پوچھا۔
تم سےمطلب۔۔۔؟ اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔ کنول نے اسے ڈانٹ دیا۔ اور قدم دروازے کے باہر بڑھاٸے۔ اس وقت اسے صرف دی جے کی فکر تھی۔
رک جاٸیں وہیں۔۔۔! انابیہ کی سخت پکار پےکنول کے جاتے قدم تھمے۔
آپ۔۔۔ آپ نے کیاکیا۔۔۔؟؟ دی جےکے ساتھ۔۔۔؟؟ سچ سچ بتاٸیں۔۔ ورنہ۔۔۔؟؟ انابیہ کو کنول عجیب سی لگی تھی۔ اسکا یہاں ہونا۔۔ اور یوں چھپ جانا اسے غلط ٹہرا رہاتھا ۔
ورنہ کیا۔۔۔؟ کیاکرو گی تم۔۔؟؟ کنول کوبھی اس لڑکی پے غصہ آگیا۔
میں سب کو بتا دوں گی۔۔ کہ ۔۔آپ یہاں تھیں۔۔ اور دی جے کے ساتھ آپ نے ہی کچھ۔۔۔؟
تم۔۔۔۔۔! کنول نے سخت آواز میں اسکی طرف دیکھا۔ انابیہ کو ایک دم چپ سی لگ گٸ۔
میرے راستےمیں مت آنا۔۔۔ ورنہ۔۔۔میں وہ آگ ہوں۔ جو خود بھی جلے گی۔ اور ہر سامنے آنے والے کو جلا کے خاکستر کر دےگی۔
تپتا لہجہ اور لال رنگ آنکھیں انابیہ سہم کے پیچھے ہٹی۔ وہ اس کو کوٸ پاگل ہی لگی تھی۔ کنول اپنے روم میں آتےہی دروازہ لاک کر گٸ تھی۔ کہ دروازہ پے کسی نے دستک دی۔
وہ آنسو پونچتے سپاٹ انداز میں دروازہ کھولے سامنے کھڑے عباد خان کو دیکھتی ماتھے پے بل ڈال چکی تھی۔
دی جے آٸ سی یو میں تھیں۔ آفتاب ابھی ابھی ہاسپٹل پہنچا تھا۔ اسے پہلے سعدی اور بعد میں شہیر کی کال آٸ تھی۔ سب سوچیں جھٹکتا وہ اس وقت ہاسپٹل میں تھا۔ دی جےکو ماٸنر ہارٹ اٹیک آیا تھا۔ لیکن اب وہ خطرے سے باہر تھیں۔
سبھی نے شکر ادا کیا۔ شہیر کی تو جان اٹکی ہوٸ تھی۔
خانم منہ بنا کے ارباز خان کے ساتھ وہاں سے جا چکی تھیں ۔ دونوں کا مشن اس وقت کنول کو بے نقاب کرنا تھا۔ اور گھر سے نکالنا تھا ۔ دیجے اور آفتاب یہاں تھے۔ تو ان کے پاس یہ سنہری موقع تھا۔ وہ فوراً خان ولا کے لیے نکلے
ان ک جانے پے آفتاب نے سر جھٹکا۔ وہ کبھی بھی اپنی ماں کے سگھے نہ تھے۔ لیکن۔۔ عباد خان۔۔؟؟ وہ تو پھر دی جے کی پرواہ کرتے تھے۔ اس وقت وہ بھی یہاں نہیں تھے۔
بیٹا۔۔! کیا حالت بناٸ ہوٸ ہے۔۔؟؟ اتنے دن ہوگٸے ۔گھر بھی نہیں آتے۔۔؟؟ تبسم خان نے بیٹے کے چہرے پے پیار کرتے کہا ۔ جبکہ شہیر ڈاکٹر کے پاس تھا۔ دی جے کے رپورٹس کےبارے میں بات کر رہا تھا۔
امی جان۔...! ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔؟ وہ دکھی انداز میں لال آنکھوں سے انہیں دیکھتے کہنے لگا۔ جبکہ اسکی آنکھیں رتجگے کا پتہ دے رہیں تھیں۔
ہاں۔۔ بیٹا۔۔۔! پوچھو۔۔۔! وہ جو عباد خان کے بارے میں پوچھنے والا تھا۔ یکدم چپ ہی کر گیا۔
تبھی شہیر وہاں آن پہنچا۔ تبسم خان اٹھ کے دی جے کے پاس اندر چلی گٸیں ۔
سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ آفتاب کو شہیر پریشان لگا۔
یہ انکو دوسرا ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔ آفتاب بھاٸ ! وہ اداس اور پیشان حال تھا ۔
لیکن ماٸنر سا ہے۔۔ فکر نہیں کرو۔۔۔! سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔ آفتاب نےاسے دلاسا دیا تو شہیر وہیں اسکے پاس بیٹھ گیا۔
کیا مسٸلہ ہے آپ کو۔۔؟؟ کنول انکو ایک چپ دیکھتی زچ آتی بولی نخوت سے بولی تھی۔
تم۔۔۔ مریم۔۔۔ کی۔۔۔؟؟ انہوں نے دل کو بمشکل سنبھالتے آخر وہ پوچھ ہی لیا جو وہ۔۔ اتنےدن سے پوچھنا چاہ رہے تھے۔ لیکن پھر بھی ربان ساتھنہ دےپاٸ۔
اپنی گندی زبان سے میری ماں کا نام بھی مت لیجیے گا۔ انگلی اٹھا کے وارن کیا۔
انکی آنکھوں میں آنسو آگٸے۔ فرطِ جذبات میں آگے بڑھ کے کنول کو پیار کرنا چاہا۔
وہیں رک جاٸیں عباد خان۔۔ میرے قریب بھی مت آٸے گا۔۔۔! اتنی سخت للکار۔ کہ عباد خان کے قدم وہیں تھمے۔
خان ولا میں داخل ہوتے ی ارباز خان اور خانم۔کا رخ کنول کے کمرے کی جانب تھا ۔
جہاں عباد خان دروازے میں ایستادہ نظر آۓ۔ اور ان کے سامنے چٹان بنی کھڑی وہ لڑکی۔
یہی ہے۔۔۔ یہی ہے۔۔ وہ کمبخت منخوس ماری۔۔۔ نکالیں اسے اس گھر سے۔۔ ابھی اسی وقت۔
خانم نے سختی سے کنول کا بازو پکڑ کے نیچے کی طرف لے جاتے اونچا اونچا بولا۔ جبکہ عباد خان کےماتھے پے بل پڑے۔
شور سن کے سبھی باہر آگۓ۔ سامعہ پھوپھو۔۔ عروج سارا ۔۔ سب وہاں جمع ہوگٸے۔
انابیہ جو ابھی شہیر سے فون پے بات کر کے دی جے کی خیریت معلوم کر رہی تھی۔ وہ بھی شور سنتی باہر آٸ۔
نیچے لے جاتے ہی سب کے سامنے کیا۔
یہ۔۔۔یہ۔۔۔مریم کی بیٹی ہے۔۔۔ اسکی۔۔نجاٸز۔۔ اولاد۔۔۔۔! خانم بولیں کم۔۔ پھنکاریں زیاہ تھیں ۔
اپنی زبان کو لگام دیں۔۔ ورنہ کاٹ دوں گی۔
کنول غراتے ہوٸے انکی جانب بڑھی۔ کہ خانم ایک منٹ کے لیے چپ سی ہوگٸیں۔
ہاں۔۔ ہوں میں مریم خان کی بیٹی۔۔۔! بس۔۔۔۔ یہی پتہ کرنا تھا۔۔۔مجھ سے پوچھ لیتے۔۔ میں بتا دیتی۔ اتنےدن لگا کے یہ معلومات اکھٹی کیں تم دونوں میاں بیوی نے۔۔؟؟
کٹیلی نظر سے ارباز خان کو دیکھا ۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔۔؟؟ نکالیں اسے یہاں سے۔ خانم نے ارباز خان کی طرف دیکھتے سخت نفرت سے کہا ۔
یہ نکالیں گے مجھے۔۔۔؟؟ یہ۔۔۔؟؟ ہاں۔۔۔؟؟ کنول طنزیہ انداز میں کہتی زخمی شیرنی کی طرح آگے بڑھی۔
یہ۔۔۔ دو ٹکے کا انسان۔۔۔ مجھے یہاں سے نکالے گا۔۔
لڑکی۔۔۔! زبان سنبھال کے۔۔۔۔! بھولو۔۔ مت۔۔ اس وقت تم جہاں کھڑی ہو۔۔ وہ خان ولا ہے۔۔ اور میں یہاں کا مالک۔۔۔! تو زبان کو قابو میں رکھو۔۔۔ورنہ۔۔۔؟
ارباز خان نے غصیلے لہجے میں کہتے موٹی موٹی آنکھوں سے کنول کو گھورا۔
ورنہ۔؟ ۔ تو کیا۔؟؟ میری ماں کی طرح مجھے بھی زلیل کریں گے۔۔؟؟ مجھےبھی بے عزت کریں گے۔۔۔؟؟ میرے بھی ۔کپڑے پھاڑیں گے۔۔؟؟ مجھے بھی۔۔ بے آبرو کریں گے۔۔؟؟ وہ بولنے پے آٸ تو بولتی چلی گٸ۔
اسکی باتوں پے ارباز خان کےماتھے پے پسینہ چھوٹ گیا۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ سچ برداشت نہیں ہو رہا۔۔؟؟ کنول کی آنکھیں آنسوٶں سے تر تھیں۔ لیکن ایک پل کو بھی وہ نہیں ڈگمگاٸ تھی۔
تم۔۔سب۔۔۔۔ سب۔۔۔۔ مجرم ہو میری ماں کے۔۔۔ گناہ گار ہو۔۔۔ کسی کو معاف نہیں کروں گی۔۔۔ تم سب کو ۔اپنے اپنے کرموں کا حساب دینا ہوگا۔۔۔!
کنول نے سخت انداز میں کہتےارباد خان کی طرف رخ کیا۔
بیٹا۔۔! آپ کو غلط فہمی ہوٸ ہے۔۔۔ غلط بیانی کی ہے آپ کی ماں نے آپ کے ساتھ۔
عباد کی زبان سے بولے جانے والے الفاظ نے کنول کو انگاروں پے گھسیٹ دیا۔
آپ کیا ہیں۔۔؟ انسان ہیں یا جانور۔۔؟؟ بنا کسی لحاظ کے وہ عباد خان کی جانب مڑی تھی۔ سب کے منہ اسکے اتنی بدتمیزی پے وہیں بند ہوگۓ۔
شرم نام کی کوٸ چیز ہے آپ کے اندر۔۔؟؟ وہ تلخ لہجے میں بولی تھی۔ عباد خان لب بھینچ گۓ۔
اب ناں۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔ نکلو یہاں سے۔۔۔! خانم نے پھر سے اسے بازو سے سختی سے پکڑ کے دروازے کی طرف دھکا دیا۔ کہ سامنے کھڑے آفتاب کے سینے سے جا ٹکراٸ۔ کنول اس چٹان کو دیکھتی رہ گٸ۔ خانم تھوڑا گھبراٸ لیکن اگلے ہی لمحے نڈر ہوگٸ۔
کیا کر رہی ہیں۔۔ آپ یہ۔۔ سب۔۔؟؟ آفتاب کی زور دار آواز پے سبھی سہم گٸے۔ کنول بھی چپ سی ہوگٸ۔ جبکہ آفتاب نے ایک بار بھی اسکا ہاتھ نہ جھٹکا تھا۔
یہ۔۔۔لڑکی یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔ اسے یہاں سے نکال دیا گیا ہے۔۔۔! خانم نے سینے پے ہاتھ باندھے غرور و تکبر سے کہا۔
آفتاب نے کنول کو اپنے ساتھ کھڑا کیا۔ اسے بنا دیکھے اسکاہاتھ تھامے خان ولا کے اندر داخل ہوا۔
یہ میری بیوی ہے۔۔۔! اس گھر میں ہی رہے گی یہ۔۔ سنا آپ نے۔۔! آفتاب نے ایک ایک لفظ پے زور دیتے کہا۔
جانتے بھی ہو۔۔۔کون ہے یہ۔۔۔ تمہاری بیوی۔۔؟؟ ایک طنز سے بجھا تیر چلایا تھا۔ خانم نے۔ کہ کنول کا دل زورسے دھڑکا
ہاں ۔۔۔ جانتا ہوں۔۔ سب جانتا ہوں۔۔ اپنی بیوی کے بارے میں۔۔! اور یہاں کسی کو کوٸ سوال کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ سمجھے آپ سب۔
آفتاب بھی بنا رکے بولےگیا۔ کنول بس حیرت کی مورت بنی آفتاب کو ہی دیکھتی رہ گٸ۔
تمہیں اگر اپنی بیوی سے تعلق رکھنا ہے تو رکھو۔۔۔ لیکن اسے اس گھر میں نہیں رہنے دیا جاۓ گا ۔ ارباز خان بھی غصے سے آگے بڑھے۔
آپ کیا۔۔۔ کوٸ بھی روک نہیں سکتا۔۔۔ آفتاب بھی غرایا تھا۔
سارے فساد کی جڑ یہ لڑکی ہے۔ اسے پہلے یہاں سے نکالو۔۔۔! نہیں تو۔۔۔ جان لےلوں گی میں اسکی۔۔۔! جارحانہ تیور سے کہتی خانم انکی آپسی لڑاٸ سے گھبراتی کنول کی جانب بڑھی۔ کہ آفتاب اس کے آگے ڈھال بن کےکھڑا ہو گیا۔
خبردار۔۔۔ جو میری بیوی کو چھونےکی بھی کوشش کی ہو تو۔۔ ! شیر کی طرح وہ غرایا۔
اچھا۔۔ کیا کرلو گے تم۔۔؟ہاں۔۔؟؟ خانم بھی بھڑکی۔ ارباز خان بھی آگے بڑھے۔
ہاتھ توڑ دوں گا۔۔۔ کوٸ ہاتھ لگا کےتو دکھاۓ۔۔۔۔ ! وہ اتنے زور سے للکارا تھا کہ سبھی کی بولتی بند ہوگٸ ۔
ہے کسی میں ہمت۔۔؟؟ تو چھو کے دکھاۓ۔۔۔ ! وہ سب کی طرف باری باری دیکھتا غصہ سے للکار رہا تھا۔
لیکن سبھی خاموش کھڑے تھے آفتاب کے غصے سے سبھی خاٸف رہتے تھے۔ وہ غصے میں کچھ بھی کر گزرتا تھا۔ یہ بات سب جانتے تھے۔
سب کو خاموش پا کے وہ کنول کا ہاتھ تھامے روم کیجانب بڑھا تھا۔
کسی کی ہمت نہ ہوٸ تھی۔ کہ وہ آفتاب کو روک سکتا۔
خانم اور ارباز پیچ و تاب کھاتے رہ گۓ۔ جبکہ عباد خان آج بھی اپنے حق کے لیے آواز نہ اٹھاسکے ۔ آنکھوں مثس آنسو لیے خامومشی سے وہاں سے ہٹ گٸے۔ جبکہ خانم اور ارباز خان آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کرتے وہاں سے اپنے روم کی جانب بڑھے۔
اب وہ کچھ بڑا پلان کرنا چاہتے تھے۔ لیکن صرف حیرت کی بات تھی۔ کہ کنول کی باتوں پے کسی نے خاص توجہ نہ دی۔ ورنہ حقیقت کتنی کڑوی اور جان لیوا ہے۔ سبھی جان جاتے۔ اور ارباز خان یہی تو نہیں چاہتا تھا۔
ہم نےبان کے لیےکیاگھڑا کھودنا۔۔۔؟؟ یہ خود ہی نکالی جاٸیں گیں۔ سارہ نے عروج کے کان میں کہا۔ دونوں نفرت سے انابیہ کی طرف ایک نگاہ کرتیں وہاں سے واک آٶٹ کر گٸیں۔
آفتاب نے روم میں آتے ہی دروازہ لاک کیا ۔ اور سارا اپنا اور کنول کا سامان نکالا۔ جس میں کپڑے بھی شامل تھے۔ سب بیگ میں ڈالنےلگا۔ بنا کنول کیجانب دیکھےاس سےبات کیے۔
یہ۔۔۔ یہ آپ کیاکر رہے ہیں۔؟ کنول کو دھچکا لگا ۔
بیگ کی زپ بند کرتا وہ کنول کیجانب مڑا۔
ہم یہاں سے جا رہے ہیں۔ ہمیشہ کے لیے۔۔۔ ! بہت ٹھہرے ہوۓ انداز میں کہا۔
کنول نے نفی میں سر ہلایا۔
کبھی نہیں ۔۔۔! آپ۔۔ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔۔
اور۔۔۔۔ ابھی آپ نے جو باہر کہا۔۔۔ وہ کیا تھا۔۔؟؟
سب جھوٹ ۔۔۔ اور ایک ڈرامہ تھا۔۔
آفتاب بے حد غصہ میں تھا ۔
مطلب۔۔۔؟؟ کنول کو کچھ سمجھ نہ آیا ۔ ماتھے پے بل پڑے۔
مسز۔۔ کنول آفتاب۔۔۔! جو سر سے لے کے پاٶں تک صرف ایک دھوکا ہو۔۔ اس پے میں اپنےگھر کے کسی فرد کو لےکے قطعی بھروسہ نہیں کر سکتا ۔
آفتاب میری بات سنیں۔
آفتاب نےاسکا بازو انتہاٸ سختی سےتھاما ۔ اور دروازے کی جانب بڑھا ۔
کہنے سننےکو اب سب ختم ہو گیا ہے۔۔۔ ! پلٹتا سختی سے اسکےچہرے کےقریب ہوتا وہ پھنکارا تھا۔ اسکےہر انداز مثس صرف نفرت جھلک رہی تھی۔
اگر تم۔۔ آج زندہ ہوتو۔۔ صرف اس وجہ سے۔۔ کہ تم۔۔ میرے نکاح میں ہو۔۔۔۔۔
ورنہ۔۔۔ اب تک زندہ نہ ہوتی۔۔۔
سپاٹ انداز میں کنول کو وہ بہت کچھ باور کرا گیا تھا ۔ وہ تو آفتاب کی بات پے چپ ہی ہو کر رہ گٸ تھی۔ ایک آنسو آنکھ سے گرا اور زمین بوس ہوگیا۔ جسکی آفتاب نے زرا پرواہ نہ کی۔اور اسکا ہاتھ سختی سےتھامے خاموشی سے گھر کی دہلیز پار گیا۔
تم یونی کیوں نہیں جا رہی۔۔؟؟ شامی نے اسے شام کو باغیچے میں بیٹھے دیکھا۔ تو پوچھنے چلا آیا۔
وہ ایک دم سے کھڑی ہوگٸ۔
وہ ۔۔۔امی جان نےکہا۔۔۔ کہ دو۔۔۔ دن تک ۔۔رخصتی ہے۔۔ تو۔۔ ہم۔۔ چھٹیاں لےلیں ۔ پلکیں جھکاتی اٹھاتی وہ شامی کو مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔
گھر داری سیکھ لی۔۔؟؟ سنجیدہ انداز میں پوچھا۔ جبکہ آنکھوں میں واضح شرارت تھی۔
جی۔۔۔۔۔۔؟؟ اس نے جی کو کافی لمبا کیا۔
کیا جی۔۔۔؟ سیکھی یا نہیں ۔۔؟؟ تیکھے انداز میں پوچھا۔
وہ۔۔۔ ممانی جان نے کہا۔۔۔۔ کہ۔۔۔ وہ ۔۔سیکھا دیں گیں۔۔۔
اپنے چہرے پے آۓ بالوں کو پیچھے کرتے وہ چھوٹی سی لڑکی شامی کو بہت بھاٸ تھی۔ وجہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ محبت عشق جیسے جذبے سے وہ ابھی کوسوں دور تھا۔ لیکن ۔۔ عابی اسکی تھی۔ صرف اسکی۔ اسکی عزت۔۔۔!!
اور یہ بات وہ اچھے سے جانتا تھا۔ کہ اپنی عزت کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔۔اسی لیے اس نے رخصتی پے زور دیا۔ اور کیسے منایا یہ وہی جانتا تھا ۔ کیونکہ وہ دونوں ہی ابھی چھوٹے تھے سب کا دل تھا دھوم دھام سے شادی ہو۔ لیکن۔۔ جو یونی میں ہوا۔ اسکے بعد شامی رسک نہیں لے سکتا تھا ۔ اور وہ پروفیسرسہیل بھی آرام سے نہیں بیٹھنے والا تھا۔ اورعابی سے اس زکیہ کےبارےمیں سب انفارمیشن لے کے وہ اس کو بھی سیدھا کرنے کا ارادہ رکھتاتھا۔
سب باتوں کی ایک بات۔۔۔ وہ عابی کو پروٹیکٹ اسےاپنے پاس رکھ کے ہی کر سکتا تھا ۔
جو وہ کر رہا تھا۔
چلو۔۔پھر پہلا کام کرو۔۔۔ میرے لیے چاۓ بنا کے لاٶ۔۔ اچھی والی۔۔۔! اسکے قریب رکھی چیٸر گھسیٹ کے بیٹھتے بہت رعب والےانداز میں کہا۔
عابی نے اپنے گلابی لب بھینچے۔ جسے شامی نے بہت فرصت سے دیکھا ۔ اور خاموشی اے وہ کچن کی جانب بڑھنے لگی کہ۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔! شامی بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔۔ یہ نہ ہو پھر سے ہاتھ جلا لو۔۔۔ اور ساری بات میرے پے آجاٸے۔
احسان جتانے والے انداز مثس کہتا اسکو لیےاندر کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ اسکا ہاتھ تھامے وہ جو بنا اسکی جانب دیکھے چلا جا رہا تھا۔ عابی اسکےہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکھتے زیر لب مسکراٸ۔ دل میں ہلکی ہلکی گدگدی ہوٸ۔
جاری ہے۔

No comments:
Post a Comment