صبح چھ بجے کے قریب اچانک ہی کےکے کی آنکھ کھلی۔تو وہ ہڑبڑا کے اٹھی ۔ رات کافی دیر وہ آفتاب کا انتضار کرتی رہی۔ اور گزرتے وقت کے ساتھ آفتاب کی تصویر کو دیکھے وہ مکمل اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کر چکی تھی ۔ بس اسے اپنا سب کچھ مان لیا تھا۔ اور اب کنول کو راستے سے ہٹانے کا بھی پلان کر رہی تھی۔
لیکن اسی بات کو سوچتے اسکی آنکھ لگ گٸ۔ او کب وہ نیند کی وادیوں میں کھوتی چلی گٸ پتہ ہی نہ چلا۔ اب وہ بے انتہا غصے میں تھی۔ کپڑے چینج کرتی وہ اسی رستے سے جہاں سے وہ آفتاب منشن داخل ہوٸ تھی۔ وہیں سے باہر نکل گٸ۔ جبکہ نکلتے ہوۓ وہ کسی کی نظر میں آچکی تھی۔
خان ولا۔۔۔! تمہاری منزل۔
آفتاب نے اسکے سامنے آتے اسکی آنکھوں مثس دیکھتے سپاٹ انداز میں کہا۔ آفتاب کی اس بات پے کنول کا دل دھڑکا۔ جیسے وہ اس کے اندر کے راز کو جان گیا ہو۔
کیا ہوا۔۔؟؟ کچھ غلط کہا کیا میں نے۔۔۔؟؟ آٸ برو اچکاٸ۔
یہیں آنا چاہتی تھی ناں۔۔ تم۔۔؟؟ ہیں ناں۔۔؟؟ پورے یقین سے کہتے اسکی کالی آنکھوں میں جھانکا۔
کنول ایک ٹک آفتاب کو دیکھے گٸ۔
یہاں تمہں پورے حقوق ملیں گے۔ میری بیوی ہونے کے۔۔ اس گھر کی بہو ہونے کے۔۔۔ !
ایکایک لفظ پے زور دیتا وہ قریب ہوتا گیا۔
اور امید کرتا ہوں۔ تم بھی اپنے فراٸض بخوبی سر انجام دو گی۔
چہرے کے قریب ہوتا اسکے چہرے پے پھوک مارتا اسے آنکھثس بند کرنے پے مجبور کر گیا۔
آپ مجھے یہاں قید نہیں کریں گے۔ وہ جو کہتا وہاں سے ہٹا۔ اسکی بات پے پھر سے رکتا اسکی جانب مڑا۔
اس خان ولا میں کیسے قید کر سکتا ہوں۔۔؟ جبکہ۔۔ تم ہمیشہ کے لیے میری قیدی ہوگٸ ہو۔ معنی خیزی سے کہتا وہ ایک بار پھر کنول کے زخموں کو ادھیڑ گیا۔
کنول نے منہ پھیرتے سر جھٹکا۔
تم جہاں چاہے خان ولا کے اندر گھوم پھر سکتی ہو۔ ہاں اگر خان ولا سے باہر جانا ہوگا تو۔۔۔ ڈراٸیور کے ساتھ جا سکتی ہو۔ اور۔۔۔؟؟
پھر سے قریب ہوتا سخت نظروں سے کنول کو دیکھتا اسکے کان کے پاس اپنے لبوں کو لےجاتے اسکی جان نکالنے کے در پے تھا۔
اگر مجھے یہ پتہ چلا۔ کہ تم۔۔۔ ارسل سے ملی ہو۔۔۔؟ آٸ سوٸیر ۔۔۔میں بھول جاٶں گا۔ کہ وہ میری بہن کا شوہر ہے۔ میں تم دونوں کو جان سے مار دوں گا۔
کہتے ہوۓ اسکے کانوں کیلہو کو شدت سے کاٹا۔ کہ وہ تڑپ کے پیچھے ہٹی۔ اور شکوہ کناں نظروں سے آفتاب کو دیکھا۔
نارمل انداز میں آگے بڑھتا گاڑی کی کیزاو موباٸل اٹھاتا وہ اب کنول کو مکمل نظر ادناز کر گیا تھا ۔ لیکن باہر نکلتے ہوٸے اسے بھی ساتھ چلنے کا اشارہ کرنا نہ بھولا تھا۔
کمرےکے اندر ہم کیا ہیں کیا نہیں۔ یہ ہم جانتےہیں۔ سب گھر والوں کے سامنے ہم ایک ہیپی کپل ہیں۔ سمجھی۔ لیٹس گو۔
آپ کچھ زیادہ ہی نہیں Expectations کر رہے؟ آفتاب کےباس قدم بقدم چل کےآتی وہ آفتاب کی ایک ہارٹ بیٹ مس کر گٸ ۔
ابھی تو آغازِ عشق ہے روتا ہے کیا۔۔۔۔ ! آگے آگے دیکھیے۔ ہوتا ہے کیا۔ دھیرے سے گھمبیر لہجے میں کہتے وہ کنول کو چپ ہی کراگیا۔
دروازہ کھولے دونوں آگے پیچھے باہر نکلے ۔ سیڑھیوں کے پاس جاتے ایک لمحے کو کنول گھبرا گٸ۔ سامنے ہی ڈراٸنگ روم میں سبھی ناشتےکی ٹیبل پے بیٹھے نظر آرہے تھے۔ کنول کا دل سخت دکھا۔
سبھی مکمل اور مطمین تھے۔ بس اس کی ماں یہاں نہیں تھی۔ بلکہ۔۔ وہ تو اس دنیا میں کہیں نہیں تھی۔ ایک بے وفا آنسو آنکھ سے بہہ کے بے مول ہوا۔
یہ خان ولا اور اس کے درو دیوار۔۔۔؟ ان سب نے دیکھا ہوگا۔ وہ ظلم۔ ۔۔۔ کتنا تڑپی ہوگی میری ماں یہاں۔۔ ! اور آج یہ سب۔۔۔ فرعونیت کا لبادھا اوڑھے سب کچھ بھول بیٹھے ہیں۔ جیسے کوٸ مریم تھی ہی نہیں۔ ۔۔ کنول کےاندر ایک آگ جل اٹھی تھی۔وہ آگ جو پورے خان ولا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی تھی۔
چلیں۔۔۔! آفتاب نے بہت مان سے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے لیے ایک ایک سیڑھی نیچے اترنے لگا۔ جبکہ کنول کی نظر سامنے موجود تمام نفوس پے تھے۔ جن کے سر پے ابھی پہاڑ ٹوٹنے والا تھا ۔
اسلام علیکم۔۔ ایوری ون۔ آفتاب کے پکارنے پے سب کی نظریں یکبارگی اس کی جانب اٹھیں۔ سربراہی سیٹ پے براجمان ارباز خان سامنے دیھکتے سکتےمیں ہی آگۓ ۔ خانمنے پلٹ کے دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گٸیں۔ عباد خان کے دل کی تو دھڑکن ہی جیسے رک سی گٸ۔
تینوں ہی اپنی جگہ سے بے اختیار اٹھ کھڑے ہوۓ۔ جبکہ نظریں کنول کے چہرے پے ہی تھیں۔
میٹ ماٸ واٸف۔۔۔! کنول آفتاب۔
آفتاب کے لفظوں نے وہاں موجود سبھی کو سانپ سونگھا دیا ۔
آفتاب کو انکی حالت سمجھ نہ آٸ ۔ جو یوں اتنی خاموشی سے انہیں دیکھے جا رہے تھے ۔
آفتاب نے آٸ برو اچکاتےتبسم خانم کو دیکھا۔ جو مسکراتی آگےبڑھیں۔ اور کنول کو گلے سے لگایا۔
ماشاءاللہ بہت پیاری ہے ہماری بہو۔
ےبسم خانم وک وہ چھوٹ موٸ سی گلابی گالوں والی پہلی ہ نظر میں بھاگٸ تھی۔اور ان کے بیٹے کی پسند تھی۔ کیسے فراموش کر سکتی تھیں ۔ جبکہ آج صبح انہوں نے عباد خان سے اس بارے میں بات کی تو وہ نظر انداز کرگۓ۔ زرا بھی دلچسپی نہ دکھاٸ۔
البتہ شہیر اور انابیہ نے آگے بڑھ کے دونوں کا ویلکم کیا۔ شہیر آفتاب کے لیے بہت خوش تھا۔ دی جے کی طبعیت خراب ہونےکیوجہ سے ناشتےکی ٹیبل پے موجود نہ تھیں۔
آفتاب کے موباٸل پے آتی کال نے وہاں موجود باقی نفوس کو ہوش دلایا دلایا ۔ آفتاب کال رسیو کرتا ایک طرف ہوگیا۔ جبکہ کنول کی سخت نظروں س سامنے موجود کوٸ بھی بچ نہ سکا ۔
آٸیں بیٹا۔۔۔! ناشتہ کریں۔۔ہمارے ساتھ۔ تبسم نے بہت پیار سے کنول کا ہاتھ تھامے اسےٹیبل کی جانب لے جان چاہا۔
امی جان۔۔! مجھے بہت ضروری کام آن پڑا ہے۔ آپ پلیز۔۔۔ دیکھ لیجیے گا۔
آفتاب نے عجلت میں تبسم خان سےکہا۔
ارے بیٹا ناشتہ تو کرتے جاٸیں۔ پیار سے پکارا۔
امی جان آفس میں۔۔۔! کہتے ہوۓ کنول کی جانب متوجہ ہوتا اسکے قریب ہوا۔
کسی بھی چیز کی ضرورت ہو امی جان سے کہہ دینا۔ امید کرتا ہوں۔۔ کوٸ شکایت کا موقع نہیں دو گی۔۔۔ !
نظروں ہی نظروں مثس اچھ خاصی وارننگ دیتا وہ دھیمےلہجے میں اسے باور کرواتا وہاں سے جاچکا تھا۔
آٸیں بیٹا۔۔! آپ ناشتہ کریں ۔ تبسم نے کنول کو آگےکیا۔ ایک منٹ۔۔۔! وہیں رک جاٶ لڑکی۔
خانم کی اونچی آواز سب کے کانوں سے ٹکراٸ ۔ سبھ نے سوالیہ نظروں سے خانم کو دیکھا۔ جبکہ ایک خاص چمک دکھی کنول کی آنکھوں میں جو خانم کو تپا گٸ تھی۔
کون ہو تم۔۔؟؟ سیدھا اس کے سامنے کھڑے ہوتے اسکے چہرے کو جانچتے پوچھا۔
کیوں۔۔؟کان خراب ہیں آپ کے؟ کنول نے انہی کے انداز میں جواب دیا۔
بدتمیزی نہیں۔۔۔! خانم نے انگلی اٹھا کے سختی سے وارن کیا ۔
آفتاب نے آپ کو میرا تعارف کروا تو دیا ہے۔۔ مزید کیا جاننا چاہتی ہیں ؟
اخانم آنکھو ں میں آنکھیں ڈال کےکہتی وہ انہثس بری طرح ڈسٹرب کر گٸ تھی ۔ سامنے کھڑے بت بنے عباد کو ایک نظر دیکھا۔
تمہارے ماں باپ کا کیا نام ہے؟ نظریں سا منے عباد پے ہی ٹکیں تھیں۔ جبکہ عباد خان کا وہ حال تھا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
کنول نے سر جھٹکا۔ جسے کبھی باپ کا لمس محسوس نہ ہوا ہو وہ باپ کا کیا نام بتاتی۔۔۔؟؟ اور ماں۔۔؟ آنکھیں نم ہوٸیں لیکن دل میں شدید نفرت کا احساس جاگا۔
میرے ماں۔۔۔ باپ مر چکا ہے۔ کرب کی کیفیت سے گزرتے آنسو روکتے بمشکل کہا ۔
بھابھی۔۔۔! پلیز۔۔۔! تبسم۔نے ٹوکا۔
یہ میرا گھر ہے۔۔اور یہاں کے قوانین میں ہی بناتی ہوں۔ کسی بھی راہ چلتی کو خان ولا کی بہو نہیں تسلیم کر سکتی میں۔ ۔۔۔
فار گاڈ سیک مما ۔۔۔! آپ کو کوٸ حق نہیں اس طرح کسی کے خاندان پے انگلی اٹھانےکا۔۔۔ اللہ کی نظر میں سب برابر ہیں۔ کسی کو کس پے کوٸ برتری نہیں۔
شہیر نے انکو اس بار ناراض ہوتے ٹوکا تو وہ دانت کچکچاتی رہ گٸیں۔
جبکہ کنول پلٹ کےواپس اوپر کیجانب بڑھنے لگی۔ کہ راستے میں سامنے ہی بت بنے کھڑے عباد پے جا ٹہری۔
کبھی معاف نہیں کرنا۔۔ اس ظالم انسان کو۔۔ میرا بدلہ۔۔۔ تم لو گی۔۔۔! ان سب۔۔۔ سے۔۔۔ وہ سب۔۔ میری بربادی کے زمہ دار ہیں۔۔وعدہ کرو مجھ سے۔ کہ کرو گی تم۔۔۔ !
ایک ہاتھ تھا جو بڑھا تھا۔ اور کنول نے تھاما تھا۔ اس ہاتھکا لمس آج بھی اسے اپنےہاتھ پےمحسوس ہوتا تھا۔
نفرت کی ایک نظر ڈالےوہ وہاں سے واک آٶٹ کرنے لگی کہ۔۔۔
ٹھہریں کنول ! تبسم بیگم نے پکارا تو ناچار اسے رکنا پڑا۔
یہاں آٸیں اور ناشتہ کریں ۔ بہت مان بھرےلہجےمیں کہا۔ جبکہ سا منےکھذی یہ عورت بھی اس کی ماں کی خوشیوں کی قاتل تھی۔
لیکن ابھی ان سب پے یہ ظاہر کرنےکا صحیح وقت نہ تھا۔ خاموشی سے ایک چیٸر گھسیٹ کے بیٹھتے اب کے نظر ارباز خان پے پڑی۔ جس کی آنکھیں ابھی بھی حیرت سے پھٹی ہوٸ تھیں۔
آپ سب تو مجھے یوں حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ جسیے ۔۔ کوٸ بہت پرانا قصہ یاد آگیا ہو۔۔؟؟
تھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھتے ٹیبل کے سہارے ٹکاتی وہ براہ راست ارباز خان کو دیکھتے طنز سے کہا۔ جبکہ وہ جھٹکے سےکھڑے ہوتے وہاں سے نکل گٸے۔
کنول نے نفرت سے سر جھٹکا اور جوس کا گلاس لبوں سے لگایا ۔ جبکہ خانم۔نےبھی منہ پھیرتے وہاں سےجانا ہی مناسب سمجھا ۔ ایک عباد خان تھے۔ جن کی آنکھوں مثس محبت چھلک رہی تھی۔ لیکن وہاظہار نہیں کر پا رہے تھے۔ انکے اندر کی تکلیف آج بہت بڑھ گٸ تھی۔ ہو بہو آج ا کے سامنے مریم کی تصویر تھی۔ وہ مریم۔۔۔ جن سے کبھی وہ محبت کے دعوے دار ہوا کرتے تھے۔
کمرے میں آتےہی وہ پھوٹ پھوٹ کے رودی۔
اسے یہ سب جتنا آسان لگ رہا تھا۔ آج اسے اندازہ ہوا تھا۔ کہ یہ سب اتنا آسان نہ تھا۔ اپنوں سے لڑنا۔۔۔ سب سے مشکل کام تھا۔ اور اسے جو بھی کرنا تھا جلد ہی کرنا تھا۔ کیونکہ یہ خانم آرام سے بیٹھنےوالوں میں سے نہیں تھی۔ اس نے اٹھتے ہوۓ کے کےکو کال ملانےکا سوچا۔ لیکن اس کےپاس موباٸل تو تھا نہیں۔ وہ تو اسکےبیگ میں تھا۔ جو کل رات وہیں کہیں گر گیا تھا۔
اب کے کے سےکیسے رابطہ کروں؟
پریشان ہوٸ۔ لنڈ لاٸن سےکال کر نہیں سکتی تھی ۔ وہ کچھ اور سوچنے لگی۔
شامی سلطان ہاٶں پہنچ چکا تھا اور سب کو انابیہ کی خیریت کی اطلاع کے ساتھ جو جو کچھ ہوا۔ سب بتا دیا تھا۔
صد شکر خدا کا۔۔۔! میری انابیہ ٹھیک ہے۔ اور ۔۔وہ بھابھی۔۔ نے اپنی فضول ضد بھی چھوڑ دی۔
جمیلہ خاتون نے شکر ادا کرتے لمبی سانس خارج کی۔
اگلے اتوار انہوں نے شہیر بھاٸ اور انا کا ریسپشن رکھا ہے۔ سب کو انواٸٹ کیا ہے۔ آپ کو فون کریں گیں۔
شامی نےبنا کسی تاثر کے کہا۔ تو فیاض صاحب کو کچھ کھٹکا۔
اکیلے ہوتےہی بیٹے کی خاموش کی وجہ جاننی چاہی۔
بابا۔۔۔! سب ٹھیک ہے۔۔ بس نجانےکیوں۔۔ ؟ وہ عورت ۔۔مجھےان سے نیگیٹو واٸبز آتی ہیں۔ وہ کہیں۔۔ ہماری انا کو۔۔ کوٸ نقصان نہ۔۔؟؟ ۔
ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ بیٹا۔۔! شہیر ہے ناں۔۔ وہ حفاظت کرے گا ہماری بیٹی کی۔ مکھےپورا بھروسہ ہے اس پے۔ وہ کبھی کوٸ تکلیف نہیں ہونے دے گا۔ ہماری بچی کو۔
فیاض صاحب پختہ یقین سے بولے۔
ان شاء اللہ ایسا ہی ہو۔۔۔! شامی نے زیر لب کہا اور اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔
کون ہے یہ ماسکوالی لڑکی۔۔؟ سیکیورٹی کیمرے میں ایک لڑکی کو باآسانی آفتاب منشن سے نکلتے دیکھ اس وقت آفتاب اور فرقان دونوں ہی گہری سوچ میں تھے۔
یہی تو سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔ یہاندر دأخل کیسے ہوۓ؟ اتنی سخت سیکیورٹی؟ اس سے پہلےیہ لڑکی کبھی نہیں دکھی۔ فرقان کےپاس آفتاب منشن کی تمام سیکیورٹی کی زمہ داری تھی۔
فرقان! مجھےاس لڑکی کے بارے میں مکمل انفارمیشن چاہیے۔
آفتاب نے سکرن پے نظر آتی ماسک میں چھپے چہرے کو دیکھتے پر سوچ انداز میں کہا ۔ اس لڑکی کی صرف آنکھیں ہی نظر آرہی تھیں ۔گہری سبز آنکھیں۔
کچھ تو ایسی بات تھی۔ جو آفتاب کو اس میں کھٹک رہی تھی۔ جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پار ہا تھا۔
مانیں نہ مانیں یہ مریم کی ہی بیٹی ہے۔ اور میں اسے ایک منٹیہاں برداشت نہیں کروں گی۔ خانمکمرے میں آتی پاگل سی ہوگٸ تھی ۔ جبکہ ارباز خان روالونگ چیٸر پے بیٹھے کسی گہری سوچ میں گم تھے۔
میں آپ سے بات کر رہی ہو۔ں۔۔ سن رہے ہیں آپ۔۔؟؟ خانم نےان کےپاس آتے شدت سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ کہا ۔ ۔
ارباز خان نے ایک نظر انکو چہرہ اٹھا کے دیکھا۔ اور اگلے لمحے انہیں کھینچ کے اپنی گود میں بٹھایا ۔
ہماری خانم پے اتنا غصہ جچتا نہیں۔
پل میں خانم کا غصہ ٹھنڈا پڑا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ماتھا ٹکاۓ اپنا اپنا غم ہلکا کرنے لگے۔ خانم کا غم انابیہ سے شروع اور کنول پے ختم۔ جبکہ ارباز خان کا غم مریم سے شروع خانم پے ختم
ایسا کیسےہوسکتا ہے؟ آفتاب کیسے کسی اور کو لا سکتےہیں۔۔؟ وہ تو میرے تھے۔ صرف میرے۔۔ پھر۔۔ ؟ اس نے اپنے بال نوچے۔
کیا کمی تھی مجھ یں جو میں انہیں نظر نہ آٸ۔۔؟
سارا غصہ سے پاگل ہوٸ تھی۔ کنول کو دیکھ کے۔
وہ عروج سے بھی دو ہاتھ آگے تھی۔
ہم دونوں بہنوں کے ساتھ انہوں نے زیادتی کی ہے۔ ہمیں اتنا بے مول کر دیا۔
سادہ حلیہ میں عروج کی آنکھیں بھی چھلک گٸیں۔ وہ جو انابیہ کو دیکھ یکھ روتی اور کڑھتی تھی۔ آج بہن کی بھی اپنی جیسی حالت دکھ اسکے پاس آگٸ۔
عروج آپی۔۔؟؟ سارا روتے ہوۓ اسکے گلے لگ گٸ۔ آفتاب نے۔۔۔ شادی۔۔۔؟؟ وہ ہچکیاں لے کے رو رہی تھی ۔ عروج نےاسے تھپکی دی۔
فکر مت کرو۔۔۔جہنوں نے ہمیں رلایا ۔۔ اب ان کے رونے کا وقت آگیا ہے۔ کسی کو بھی نہیں بخشیں گے۔۔۔! عروج نے سارا کے آنسو صاف کیے۔ تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
اب کیسی طبعیت ہے آپ کی ؟ شیر دل جب سے خان منشن واپس آۓ تھے۔ بہت چپ چپ سے تھے۔ ان کی بیوی زمل انہیں یوں چپ دیکھ خود بھی افسردہ تھیں۔
کچھ نہیں۔۔ بس۔۔ آج اپنے۔۔کرم یاد آرہے ہیں۔
انکا لہجہ روندھا ہوا تھا۔ کوٸ لمحہ نہیں تھا ایسا۔ جب انہثس تبسم اور آفتاب کے ساتھ کی گٸ زیادتی یاد نہ آٸ ہو۔
یہ۔۔ دواٸ لے لیں۔ زمل نے آگے بڑھتے انکو دواٸ پلاٸ۔ اور شیر دل تکیہ کے ساتھ ٹیک لگاۓ آنکھیں موند گٸے۔ انہیں شدت سے انتظار تھا تو اپنے بیٹے کا۔ کہ ہ کب آتا ہے۔ ۔۔؟؟ جس نے ان کو خون دے کےان کے اندر کے سوۓ اچھے انسان کو زندہ کر ڈالا تھا۔ وہ آفتاب سے مل کے اپنے کیےمعافی مانگنا چاہتے تھے۔ معافی تو وہ تبسم سے بھی مانگنا چاہتے تھے۔ لیکن۔۔ اب وہ۔۔ کسی کی بیوی تھیں۔
انکی آنکھ سے ایک آنسو چپکے سے نکل کے تکیہ میں جذب ہوا۔
زمل۔۔۔! لاٸٹس آف کر دو۔ نیند آرہی ہے۔ کہتے ہوۓ انہوں نے رخ موڑا۔ تو زمل ایک نظر اکی پیٹھ کو دیکھتی لاٸیٹ آف کرتی باہر آگٸیں۔
کیاہوا کہاں جا رہی ہیں۔؟ شامی نے رضیہ خاتون کو عجلت میں باہر جاتا دیکھا تو فوراً پوچھ بیٹھا۔ وہ ابھی ابھی سو کے اٹھا تھا۔ شام ہوری تھی۔
اچھا ہوا بیٹا۔۔! آپ اٹھ گٸے۔ چلیں میرے ساتھ آپ بھی۔ نجانے عابی کو کیا ہوا ہے جب سے یونی سے آٸ ہے۔ بستر میں پڑی ہے۔ ابھی آپ کی خالہ کا فون آیا ہے۔ اسے۔۔ بہت تیز بخار ہے۔ اور وہ۔۔ اٹھ ہی نہیں رہی۔۔
پریشانی سے کہتے چادر اوڑھی۔
خالو کہاں ہیں؟ شامی کے ماتھے پے بل پڑے ۔
بیٹا وہ کام کے سلسے میں کل سے شہر سے باہر گٸے ہیں۔ چلتے ہوۓ بتایا۔
اندر ہی چلتے ہیں۔
انکے صحن میں کھڑے ہوتے ادھر ادھر دیکھتے رضیہ خاتون نے شامی سے کہا۔
آپ جاٸیں۔۔ میں یہیں ہوں۔۔! شامیکو اندر جانا مناسب نہ لگا۔
رضیہ خاتون نے اسکی باتکا جواب نہ دیا۔ اور نادر بڑھ گٸیں۔ کای دیر اتظار کے بعد بھی جب کوٸ باہر نہ نکلا تو وہ واپسی کے لیے مین گیٹ کی طرف آیا۔ کہ
شامی۔۔۔! بیٹا۔۔! جلدی اندر چلو۔۔۔! عابی بے ہوش ہے۔ وہ اٹھ ہی نہیں رہی۔۔ پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے۔
رضیہ خاتون کے کہنے پے وہ اندر کی جانب بڑھا۔
وہ پہلی بار عابی کے کمرے میں آیا تھا۔ اسے عجیب تو لگا لیکن سب نظر انداز کرتا سر جھٹکتا وہ عابی کے سر پےپہنچ گیا۔ جو بے سدھ بستر پے پڑی تھی۔ ماتھا چیک کیا تو سخت تیز بخار میں تپ رہی تھی۔ نبض پے ہاتھ گیا تو شامی کا دل دھک سے رہ گیا۔ نبض بہت دھیرے دھیرے چل رہی تھی۔ شامی نے بنکسی کی پرواہ کیے اسے اپنی بانہوں میں بھرا اور باہر کی طرف تیزی سے باہر کیجانب لپکا۔ خالہ کا رو رو کے برا حال تھا۔
امی جان ۔۔! آپ گھر رہی خالہ کےپاس۔ میں ہاسپٹل لے جات ہوں۔
عابی کو گاڑی میں لٹاتے وہ مڑ کے ماں سے بولا۔
لیکن۔۔ آپ اکیلے بیٹا۔۔؟ کیسے۔۔؟ رضیہ خاتون پریشان ہوٸیں۔
بیوی ہے میری۔۔! ٹینشن نہ لیں۔ کر لوں گا مینج۔ سنجیدہ انداز میں وہ اپنا حق اور رشتہ واضح کر گیا۔
ماشاءاللہ کتن پیارا کپل ہے ناں۔۔؟ آفتاب بھاٸ اور کنول کتنے پیارے لگ رہے تھے ایک ساتھ۔
جیسے
Made for each other
انابیہ خوشی سے کہے جا رہی تھی۔ جبکہ شہیر لیپ ٹاپ کھولے اپنا کچھ کام کر رہا تھا۔
لیکن۔۔ آپ کی مما نے۔۔؟؟ کہتے کہتے انا کی زبان شہیر کی گھوری پے رک گٸ۔
انا۔۔؟؟ یہاں آٶ۔۔۔! لیپ ٹاپ ایک ساٸیڈ پے رکھتا اس نے اابیہ کو اشارے سے اپنے پاس بلایا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتی شہیر کے پاس آٸ۔
شہیر نے اسے کھینچ کے اپنی گود مثس بٹھا لیا۔۔
یہ آپ کی مما کیا ہوتا ہے۔۔؟ وہ تمہاری بھی مما ہیں۔ شہیر نے اسکی تھوڈی کو چھوتے پیار جتاتےکہا۔
نا بابا نا۔۔۔! ماما کہا تو وہ مجھے غصہ کریں گیں۔
انایہ نے فوراً منہ بناتے کہا۔ اور اٹھنا چاہا ۔ تو شہیر نے اسے کس کے پکڑ لیا۔ وہ شہیر کو پیار سے گھورنےلگی۔
بیگم صاحبہ۔۔۔ اتنے پیار سے دیکھو گی تو۔۔ بندہ پٹری سے اتر بھی سکتا ہے۔ اسکی گردن میں منہ چھپاتے وہ بات ہی بدل گیا۔
ہاہاہاہ۔۔۔۔! شہیر ۔۔نہ کریں ناں۔۔ وہ ہنسے جا رہی تھی۔
کیا یار۔۔۔ ہنس کیوں رہی ہو۔۔ ؟ منہ باہر نکال کے مصنوعی خفگی سے گھورا۔
آپ کی یہ۔۔۔ مجھے گدگدی کر رہی ہے۔ بیٸرڈ کی طرف اشارہ کرتے ہنستے بولی۔
امممممم۔۔۔ شہیر نے پھر سے وہی عمل کیا ۔ تو اس بار انابیہ زیادہ زور سے ہنسی۔ جس کا شہیر نے برا ہی ما لیا۔ سارے موڈ کا بیڑا غرق ہی کر کے رکھ دیا۔
شہیر نے اسے اپنے ایک طرف بستر پے لٹا کے دوبارہ لیپ ٹاپ اٹھا لیا۔
انابیہ کو شرارت سوجھی۔ اور وہ اسکے کان کے پاس آکے دوپٹے سے اسے تنگ کرنے لگی۔
شہیر نے دو تین دفعہ اسے پیچھے کیا۔ لیکن وہ بار بار دوپٹے کا کونہ بنا کے اسکے کان میں گھساتی۔ بس پھر شہیر نے لیپ ٹاپ بند کیا۔ اور ساتھ ہی اسکی جانب مڑتا اسکی بولتی بھی بند کرگیا۔
انابیہ جھٹ پٹا کے رہ گٸ۔ اب کچھ نہیں ہو سکتاتھا۔اس نے خود اپنے پاٶں پے کلہاڑی ماری تھی۔
دونوں کی معنی خیز خاموشی میں محبت پنپنے لگی تھی۔ وہ ہر لمحے کو دل سے جی رہے تھے۔ خوش تھے۔ آنے والے برے وقت سے بےخبر۔
ہاسٹل پہنچتے ہی عابی کو ایمرجنسی میں لےجایا گیا۔
اسکا بی پی خطرناک حد تک شوٹ کر گیا تھا۔
مسٹر شاہمیر۔۔! اچھا ہوا آپ بروقت انہثس ہاسپٹل لے آۓ۔ اور انکی جان بچ گٸ ۔ ورنہ نروس بریک ڈاٶن کا خطرہ ہو سکتا تھا۔ لیکن ڈاکٹر بلال۔۔ ! یوں اچانک؟
شامی کے ماتھے پے فکر کی لکیریں نمودار ہوٸیں۔
شاید۔۔ کوٸ ٹینشن لی ہو۔۔۔! خیر۔۔ کچھ دیر تک انہیں ہوش آجاۓ گا۔ تو آپ مل لیجیے گا۔
ڈاکٹر نے شامی کے کاندھےپے تھپکی دی۔
عابی کا ٹریٹ منٹ چل رہا تھا۔ شامی نے گھر فون پے اطلاع دے دی تھی۔ لیکن اسک دماغ ابھی بھی وہیں تھا۔ کہ کیا ٹینشن ہوگی۔۔۔؟جکہ صبح تک وہ بالکل ٹھیک تھی۔
اب شاہ میر عابی کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا۔
دو دن سے آفتاب خان ولا نہیں آیا تھا۔ اور نہ ہی کنول کا کے کے سے رابطہ ہوا تھا۔ خان ولا میں ایک خاموشی چھا گٸ تھی۔ طفان سے پہلے کی خاموشی۔
کنول جو روٹین کے مطابق وہاں رہ رہی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا۔ کہ ارباز خان اسکے بارے میں ساری انفارمیشن اکھٹی کر رہا تھا۔
او تب تک خانم کو چپ رہنے کا کہا تھا۔ دل پے پتھر رھے وہ کنول کو برداشت کر رہی تھیں
جبکہ عباد خان کنول سے اکیلے میں مل کے اس سے بات کرنے کے موقع کی تلاش میں تھے۔ انکا دل کےچینخ چینخ کے کہہ رہا تھا کہ یہ انکی مریم کی نشانی ہے۔ انکی بیٹی۔۔! لیکن لب پھر بھی خاموش تھے۔
کنول نے بہت سوچا۔ اور دل پے پتھر رکھے وہ خان ولا سے باہر نکلی۔ ڈراٸیور کو ساتھ لیا۔ اور ارسل کے آفس پہنچ گٸ۔ جانتے بوجھتے خود کو خود مصیبت میں ڈال لیا۔
یونکہ آفتاب اسکے ایک ایک پل کی خبر رکھتا تھا۔
ارسل بھاٸ ۔۔! آپ پلیز۔۔۔! کے کے سے رابطہ کریں۔ مجھےنہیں لگتا وہ سیو ہے۔
کنول کا دل بہت پرشان تھا کے کےکو لے کے۔ کہ تبھی کےکے اندر داخل ہوٸ۔
صد شکر کہ تم ٹھیک ہو۔۔! کنول نے اسے دیکھ گہرا سانس خارج کیا۔
ایک منٹ۔۔! تم نے مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے کیا۔۔؟ اس رات مجھے وہاں چھوڑ کے۔۔ تم خود بھی غاٸب اور۔۔وہ۔۔ آفتاب بھی۔۔؟؟ مجھے الو کیوں بنایا۔۔؟
وہ غصہ میں بھری بیٹھی تھی۔
کیا ہوگیا ہے۔۔کے کے۔۔؟ کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔؟ تم۔۔جانتی بھی ہو۔۔کیا ہوا تھا اس رات میرے ساتھ۔۔؟
کنول کا لہجہ روندھ گیا۔
واٹ ایور۔۔! مجھے بالکل انٹرسٹ نہیں۔۔ تم یہ بتاٶ۔۔ تمہارا شوہر اس رات کہاں تھا۔۔؟ وہ کیوں نہیں آیا۔۔؟
کے کے نے اس کی بات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ جبکہ اسکی بات جہاں کنول کو چبھی۔ وہیں ارسل بھی لب بھینچ گیا۔
یو آر ۔۔امپاسبل۔۔کے کے۔۔! جن کاموں میں تم پھسی۔۔ہو۔۔ ان سےباہر نکل آٶ۔۔ ورنہ بہت پچھتاٶ گی۔
کنول وارن کرتی وہاں سے جانے لگی۔
کہ کے کے نے اسکا بازو جکڑا۔
میری باکا جواب دو۔۔۔؟ اس رات تمہارا شوہر کہاں تھا۔۔؟ اسکے لہجے کی آگ کنول کو اندر تک سلگا گٸ۔
اپنی بیوی کےپاس ۔۔۔ اسکی بانہوں میں۔
۔ جھٹکے سےاپنا بازو چھڑایا ۔ اور اسکےکان کے پاس ہوتی شیرنی کی طرح غراٸ۔
کہ کےکےکی بولتی ہی بند ہوگٸ۔
جاری ہے۔

No comments:
Post a Comment