Thursday, 20 June 2024

تم میرے نکاح میں ہو EPISODE NO 20

 #تم_میرے_نکاح_میں_ہو

#قسط_نمبر_20 (لانگ ایپیسوڈ)



💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
کسلمندی سے آنکھیں کھولتے انابیہ کی نظر ساتھ کروٹ لیے شہیر کی جانب اٹھی۔ تو اس کے چہرے پے شرمگیں مسکراہٹ چھا گٸ۔
شہیر کا اسکے پاس ہونا۔۔۔ اس کے سنگ اپنی زندگی کے اہم لمحات کو جیتا وہ اسے اپنے ہونے کا مان بخش چکا تھا۔ دھیرے سے آگے ہوتی اسکے ماتھے پے بکھرے براٶن بالوں کو پیچھے کرتی اسکے ماتھے پے محبت کی مہر ثبت کی۔ دل میں گدگدی سی ہوٸ۔ تو پلکیں جھکاتی پیچھے ہوتی اٹھتی اور باتھ روم کا رخ کیا۔ اسکے جاتے ہی شہیر کی آنکھ بھی کھلی۔ وہ تو کب سے جاگ رہا تھا۔ بس ۔۔۔ یونہی لیٹا۔۔ چھت کو ہی گھورے جا رہا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا آغاز دل سے اپنی بیوی کے ساتھ کر لیا تھا۔ لیکن پھر بھی دل میں عجیب سی کسک اب بھی باقی تھی۔ جو اسے چین نہیں لینے دے رہی تھی۔ وہ اندر ہی اندر پھر سے ماں باپ کے کیے پے کرب میں مبتلا ہونے لگا۔ کہ تبھی انابیہ فریش ہوتی کمرے میں آٸ۔ اسکا دھیان شہیر کی طرف نہ تھا۔ ورنہ ضرور ٹھٹھکتی۔ بنا اس طرف دیکھے وہ آٸینے کے سامنے کھڑی اپنے بال سکھانے لگی۔ کہ شہیر اسکی ددھیا گردن کو دیکھتے بے اختیار ہوتا اسکی جانب بڑھا۔ اور اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا ۔
شہیر کے اچانک پاس آنے پے انابیہ کی نظریں آٸینے میں اس خوبصورت مرد پے اٹھیں۔ جو نہ صرف خود خوبرو تھا۔ بلکہ اسکا دل بھی بہت خوبصورت تھا۔ اور۔۔جو صرف اسکا تھا ۔
لبوں پے مسکراہٹ نے گھیرا کیا۔ جو شہیر سے چھپا نہ رہ سکا۔
انابیہ کے چہرے پے اپنی قربت کے شوخ رنگوں کو دیکھتے وہ دل سے مسرور ہوا تھا۔
گولڈ چین اسکی صراحی دار گردن میں پہناتے ایک پیار بھرا لمس اسکے کاندھے پے چھوڑتا اسے اپنی طرف موڑا۔
ایسےہی ہمیشہ مسکراتی رہنا۔۔۔! اسکے ماتھے پے پیار بھرا بوسہ دیتا پیچھے ہٹا۔
آپ۔۔۔! اپ سیٹ لگ رہے ہیں۔۔؟؟ سب۔۔ ٹھیک ہے ناں۔۔؟
انابیہ کو اسکے اندر خالی پن سا لگا۔
نہیں۔۔۔ کچھ نہیں۔۔! پیار سے اسکے گال پے ہاتھ رکھا۔
اور مسکراتا باتھ روم میں گھس گیا۔
ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑا ہوتا وہ شاور لیتا۔۔ اپنے آنسو بھی ضبط کر رہا تھا۔
وہ جانتا تھا۔ بات ابھی ختم نہیں ہوٸ۔۔ بلکہ۔۔ اب تو شروع ہوٸ تھی۔
اس سب میں وہ انابیہ کو کوٸ نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ اسکی حفاظت کرنا چاہتا تھا۔
اور دل سے عہد کر چکا تھا۔ کہ وہ انابیہ کو نہیں چھوڑے گا۔
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
کہاں جا رہی ہو۔۔؟؟ آفتاب نے کنول کو باہر جاتا دیکھ ٹوکتے پوچھا۔
باہر اور کہاں۔۔۔؟؟
نہیں۔۔۔ تم آج روم میں ہی رہو۔۔۔ جو چاہیے ہوا۔۔ نیلی پہنچا دے گی روم میں ۔ سپاٹ انداز میں کہتا خود باہرجانے لگا کہ کنول نے سامنے آتے راستہ روک لیا ۔
آپ مجھے اب کمرے میں قید کریں گے۔۔۔۔؟؟ تو ۔۔۔یہ اب زیادہ ہو رہا ہے۔ آپ کی بہن کا گھر بچ گیا ناں۔۔ کر لیا ناں۔۔ آپ نے مجھ سے نکاح۔۔ اب۔۔ اور کیا چاہتے ہیں۔۔؟ مجھے قید کیوں کر کے رکھا ہوا ہے۔۔؟؟ کنول آپے سے باہر ہونے لگی۔
چلاٶ مت۔۔۔۔! آفتاب نے قریب ہوتے غراتے ہوۓ کہا۔ تو کنول نے دانت کچکچاۓ۔
مجھے باہر جانا ہے۔۔۔! کہتے کنول نے غصے سے دروازے کی طرف قدم بڑھاۓ۔ تو آفتاب نے اسے بازو سے پکڑ کےاپنی طرف کیا۔
ایک بار کی کہی بات سمجھ نہیں آتی۔۔؟؟ یہیں۔۔ رہو۔۔ گی تم۔۔۔! ایک سیکنڈ کا بھروسہ نہیں کر سکتا تم پے ۔۔
بازو سے پکڑ کے بیڈ کی جانب پٹخا۔ جس سے کنول نے مزید پیچ و تاب کھاۓ۔
ابھی مزید کچھ کہتا کہ باہر سےشور کی آواز سنتا وہ لب بھنچتا باہرجانے لگا ۔ کہ واپس پلٹا۔
میں روم کو لاک نہیں لگا رہا کنول۔ لیکن۔۔ میری بات یاد رکھنا۔باہر موجود لوگوں میں سے کسی کے سامنے بھی آنے کی غلطی مت کرنا۔۔ بھول کے بھی۔۔۔ ! ورنہ۔۔ بہت پچھتاٶ گی۔
غراتے ہوۓ انگلی اٹھا کے وارن کرتا وہ اسے چپ کرا گیا۔ کنول نے آنکھیں موندیں۔ اور موباٸل پے سم آن کرتی kk سے بات کرنے لگی۔
تمہیں۔۔ اب یہاں ہونا چاہیے تھا۔۔ اب وقت آگیا ہے۔ کہ دشمنوں کو ان کے کیے کی سزا ملے۔ بہت جی لی انہوں نے آزادی کی زندگی ۔۔۔اب بس۔۔۔!
ابھی وہ بات کر رہی تھی۔ کہ باہر سے آوازیں سناٸی دیں۔ کال بند کرتی وہ اٹھی تھی اور دروازہ کھولتے باہر نکلی۔
✨✨✨✨✨
کہاں ہے میرا بیٹا۔۔؟؟ آفتاب۔۔؟؟ مجھے میرا بیٹا واپس چاہیے۔۔۔!
خانم کی ساری رات کانٹوں پے گزری تھی۔ اور جب برداشت سے باہر ہوا۔ تو آفتاب کے گھر پہنچ گٸ ۔
شور مچاتی۔ پولیس کے ساتھ۔
پہلی بات۔۔۔ ! آوا نیچی رکھ کے بات کریں۔ یہ آپ کا خان ولا نہیں۔۔ آفتاب منشن ہے۔۔اور دوسری بات۔۔۔
وہ نیچے اتر آیا تھا۔ اب۔۔ اور آمنے سامنے کھڑا ہوتا ماتھے پے بل ڈالے سامنے والے کی آنکھوں مثس دیکھتا بولا۔
آپ کا بیٹا ۔۔ دودھ پیتا بچہ ہے۔ جسے میں کڈنیپ کر کے لے آیاہوں۔۔؟ آفتاب نے انہی کے لہجے میں جواب دیا ۔
دی جے اور شامی بھی باہر نکل آۓ۔
دی جے نے خانم اور ارباز کے ساتھ پولیس دیکھی تو نفی میں سر ہلایا۔
انسپکٹر صاحب ۔۔ اس نے ہمارے بیٹے کا استعمال کیاہے اور ہمارے خلاف کیا ہے۔۔ یہ دشمن بن چکا ہے ہمارے خاندان کا۔ آپ اسے اریسٹ کریں۔ یہ خود بتاۓ گا۔ ہمارا بیٹا کہاں ہے۔۔ ! ارباز خان نے نفرت سے کہا۔
میں یہاں ہوں۔۔ ! اوپر گرل میں کھڑا سب تماشا دیکھتا بلآخر شہیر خانزادہ کا ضبط جواب دے گیا ۔
انابیہ حیرت کی مورت کھڑی شہیر کے سپاٹ چہرے کو دیکھتی اسی کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی سیڑھیاں اترتی نیچے آٸ۔
کس نے کس کو ورغلایا ہے۔۔؟؟ بتاٸیں مجھے۔۔؟ یہ کھڑا ہوں میں۔۔ ! سینے پے ہاتھ باندھے بہت مطمیٸن اندازمیں باپ کے دوبدو ہوا۔
چھوٹے خان۔۔۔! خانم نے پیار سے پکارا۔
شہیر خانزادہ۔۔۔! مجھے میرے نام سے پکاریں۔
شہیر نے تصحیح کی۔
بیٹا۔۔! ہم۔۔آپ کو لینے آۓ ہیں۔۔ چلیں۔۔ ہمارے ساتھ۔
خانمنے شہیر کا ہاتھ تھاما۔ اور آگے بڑھیں ۔ لیکن شہیر اپنی جگہ سے زرا نہ ہلا۔
خانم نے پلٹکے شہیر کو دیکھا ۔ شہیر نے دھیرے سے انکا ہاتھ اپنے بازو سے پیچھے کر دیا۔
میں نہیں آسکتا۔۔۔! آپ جاٸیں یہاں سے۔۔۔! بنا انکی طرف دیکھے کہا۔ لیکن لہجہ مضبوط تھا۔
بیٹا۔۔۔! ماں باپ کو اتنی بذی سزا دوگے۔۔؟ اب آتو گۓ ہیں۔۔ خود چل کے۔۔۔! اور کیا چاہتے ہو۔۔؟
خانم نے روندھے لہجے میں پوچھا۔
تو آپ چاہتے ہیں۔۔۔میں اپنی بیوی کو چھوڑکےآپ کے ساتھ چلوں۔۔؟
شہیر نے سپاٹ انداز میں پوچھا تو خانم نے ایک نظر شہیر کے پہلو میں کھڑی نکھرےنکھرے وجود کے ساتھ انابیہ کو دیکھا۔
انابیہ کو۔۔ بھی لے چلو۔۔۔! نہیں روکتی میں۔۔! لیکن۔۔ آپ کی ماں۔۔ نہیں رہ سکتی آپ کے بنا۔۔۔!
بہت بے بسی کا عالم تھا۔
ہونہہ۔۔۔۔! آپ کو کیا لگتا ہے؟ جہاں میری بیوی کی عزت نہ ہوگی۔۔ اسکی جان کو خطرہ ہوگا۔ وہاں میں انابیہ کو لے کے آٶں گا۔۔؟؟ اورآکے وہاں رہوں گا۔۔؟؟ ہرگز نہیں۔۔! آپ پلیز چلے جاٸیں یہاں سے۔۔۔! اور ختم کر دیں یہ تماشا اب۔۔۔!
شہیر نے منہ پھیر لیا۔ لیکن کس کرب سے گزر کے وہ یہ سب کر رہا تھا۔ یہ وہی جانتا تھا۔
انابیہ نے ایک نظر شہیر کو دیکھا۔ اسے شہیر ٹوٹا ہوا لگا ۔ وہ پر سوچ انداز میں اسے دیکھنے لگی ۔
پلیز بیٹا۔۔۔! مان جاٶ۔۔ اپنی ماں کو معاف کردو۔۔۔! ایک موقع ے دو۔۔۔! میرا دل ۔۔۔ آپ کےدور جانے کے غم سے پھٹ جاۓ گا۔۔! خانم منت سماجت پے اتر آٸ۔
دی جے نے اس کو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے بہت دفعہ دیکھا تھا ۔ لیکن شہیر تو بیٹا تھا۔۔۔ ماں کو کیسے گذگڑاتا دیکھ سکتا تھا۔
آنکھثس بند کرتے وہاں سے پلٹ کے اندر جانا چاہا ۔ کہ انابیہ نے ہاتھ تھام کے روک لیا ۔ شہیر نے رخ موڑ کے انابیہ کو حیرت سے دیکھا۔ جبکہ وہ سامنے دیکھ رہی تھی۔
پورے لاٶنج میں سناٹا چھا گیا ۔
آنٹی۔۔۔! میں نے شہیر سے بہت پیار کیا ہے۔۔اور میں یہ بھی جانتی ہوں۔ آپ شہیر کی ماں ہیں۔ اور ۔۔آپ کے پیار کے سامنے۔۔میرا پیار ۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔ !
کہتے ہوۓانابیہ کی آنکھیں نم ہوگٸیں۔
دی جے کو ایک دم سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
انہیں انابیہ کی باتوں سے کچھ بھی صحیح نہ لگا۔
اور۔۔۔ میں نہیں چاہتی۔۔ کہ۔۔۔ میری وجہ سے۔۔ شہیر ۔۔آپ سے الگ ہوجاٸیں۔۔!
کہتے ہوۓ ایک مان سے بت بنے اپنے شوہر کو دیکھا۔
وہاں موجو ہر شخص ہی حیرت سے انابیہ کو دیکھ رہا تھا۔
مجھے۔۔ نہیں۔۔ پتہ۔۔ میرا فیصلہ درست ہے یا غلط۔۔؟؟ انابیہ کو وہاں موجود سب کے دماغوں میں بننے والے سوال کا بھی اندازہ تھا۔ اس لیے سر جھکاتے مزید بولی ۔
لیکن۔۔۔ ! شہیر ۔۔۔! اپنی ۔۔مما ۔۔ کے ساتھ۔۔ واپس جاٸیں گے۔!
پورے یقین سے کہتے شہیر کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی ہامی کا یقین دلایا۔
شہیر نے حیرت سے اسے دیکھا۔
انابیہ۔۔؟؟ دی جے نے غصے سے پکارا۔ جبکہ خانم جو دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھیں۔ دی جے کی پکار پے پہلو بدلا۔
دی جے آگے بڑھیں ۔
مجھے نہیں تھا پتہ۔۔ تم اتنی بے وقوف ہوگی۔ کوٸ دو آنسو کیا بہاۓ گا۔۔ تم اسکی باتوں میں آجاٶ گی۔۔؟
دی جے نے بنا کسی لحاظ کے انابیہ کو جھاڑ کے رکھ دیا ۔ جبکہ انابیہ سر جھکاۓ خاموش رہی۔
خان۔۔۔! یہ تو بے وقوف ہے۔۔ کچھ نہیں سمجھتی۔ آپ سوچ سمجھ کے فیصلہ لیجےگا۔۔۔!
شہیر نے ایک نظر انابیہ کو دیکھا۔ جو مضبوطی سے شہیر کا ہاتھ تھامےکھڑی تھی ۔ دوسری نظر دی جے پے ڈالی۔ اور ان کے پیچھے کھڑی اپنی ماں پے ۔
سب کی نظریں شہیر پے تھیں۔ کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔
خان ولا۔۔۔ میری دی جے کے بنا ادھورا ہے۔۔۔۔ ان کے بنا تو۔۔ میں کبھی بھی خان ولا نہ جاٶں۔۔! پر عظم انداز مثس کہتا وہ سب کو حیران کر گیا۔
دی جے تو گنگ رہ گٸیں۔
ہمیں دی جے کے خان ولا جانے سے کوٸ اعتراض نہیں۔
خانم نے ایک نظر شوہر کو دیکھا۔ اور فوراً سے بولیں۔
شہیر کے چہرے پے طنزیہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔
آپ کے اعتراض سے کسی کو کوٸ فرق نہیں پڑتا۔۔۔ آپ نے جسطرح دی جے کو خان ولا سے نکالا۔ یاد تو ہوگا آپ کو اچھی طرح؟
شہیر کی بات پے خانم نے لب بھینچے۔ ایک بیٹا ان کو آج تگنی کا ناچ نچانے والا تھا۔
خانمنے آگے بڑھتے دی جے کے ہاتھ تھامے۔
اور آنکھوں میں آنسو بھر لیے۔
دی جے۔۔۔! شاید ۔۔۔ہمارا۔۔۔ غلطیاں۔۔ اور کوتاہیاں۔۔ معافی کے لاٸق نہیں۔۔ لیکن۔۔ پھر بھی آپ سے معافی مانگتےہیں۔۔ آج۔۔ جب ۔۔خود پے بیتی ہے۔۔تو احساس جاگا ہے۔۔ میں۔۔ ایک دن نہ رہ سکی۔۔۔ اپنے بچے کے بنا۔۔ آپ۔۔۔ نے اتنی مدت گزار دی۔۔ ۔۔۔ صرف۔۔ ہماری ہٹ دھرمی کی وجہ سے۔۔ لیکن۔۔ شاید۔۔ سب سے زیادہ قصور وار میں ہی ہوں۔۔ جو۔۔ آج۔۔ میرے ساتھ بھی سب کچھ ویسا ہی ہو رہا ہے۔۔ پلیز۔۔۔ معاف کردیں۔۔ اور خان ولا واپس چلیں۔۔۔!
خنم نے روتے ہوٸے درد بھرے لہجے میں کہا۔
دی جے نے خاموشی سے اپنے ہاتھ چھڑا لیے۔
کس کس بات کی معافی مانگو گی خانم۔۔؟؟
دی جے ان سے دور ہوٸیں۔
سب کچھ معاف کردوں تمہیں۔۔ لیکن۔۔۔ مریم کے ساتگ کی ہوٸ زیادتی کیسےمعاف کروں۔۔؟
سخت لہجےمیں کہتے وہ جھٹکے سے پلٹیں۔ جب کہ اوپر ہی ایک طرف دیوار کے ساتھ لگی انکی باتیں سنتی کنول کی آنکھیں اپنی ماں کے نام پے بھیگیں تھیں۔
اس کے ساتھجو۔۔ خان ولا میں ظلم ہوا۔۔ اس کا خمیازہ کون بھگتے گا۔۔ ؟ خانم ۔۔! تم نے صرف۔۔ مریم پے نہیں۔۔ اس۔۔ ایک ماہ کی بچی سے نہ صرف چھت چھینی۔۔ بلکہ باپ کا سایہ بھی چھین لیا ۔
دی جے کے الفاظ خانم کے دل کے پار ہوۓ۔
نجانے۔۔۔ کہاں ہوں گے وہ۔۔؟؟ ماں بیٹی۔۔؟ کتنا ظلم کیا تم نے خانم۔۔۔؟ دی جے کی آنکھیں بھر آٸیں۔
اب اس ظلم کے حساب کا وقت آچکا ہے دی جے۔۔۔! اب ہوگا۔۔ حساب ہوگا۔۔ سب سے۔۔۔ ایک ایک سے۔۔ گن گن کے۔۔۔! کنول نے اپنے گال پے آۓ آنسوٶں کو سختی سے رگڑا۔ اور دل ہی دل میں سوچتے اپنے کمرے کی جاب بڑھ گٸ۔
دی جے۔۔۔! اللہ نے چاہا تو۔۔ وہ بھی صحیح سلامت ہوں گے۔۔۔۔آپ ایک بار۔۔ پلیز۔۔ ایک آخری بار۔۔۔موقع دے دیں۔۔ پھر کبھی آپ کو کسی شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔ وعدہ ہے میرا۔
خانمو لفظوں سے کھیلنا اچھی طرح سے آتا تھا۔ کس وقت کیا چال چلنی ہے۔ وہ اچھے سے جانتی تھی۔
میں۔۔ چہیر اوت انابیہ کو تو اجات دے سکتی ہوں۔۔کہ وہ خان ولا جاکر رہیں۔۔کیونکہ ۔۔ وہ انکا ہی گھر ہے۔۔۔دی جے نے مضبط انداز میں شہیر کیجانب دیکھا۔
لیکن۔۔ مجھ سے کوٸ امید نہ رکھنا۔
منہ پھر لیا۔
دی جے۔۔۔! میں۔۔۔ آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔مجھے معاف کردیں۔ آج ۔۔ خانم ۔۔ اپنی ساری اکڑ۔۔ ساری مغروری ایک طرف رکھتے آپ کےہاتھ جوڑتی ہے۔۔ پلیز لوٹ چلیں۔۔ آپ کے پاٶں۔۔؟؟؟
خانم ی جے کے پاٶں میں جھکنے لگی۔ کہ دی جے نے ہاتھ بڑھا کے روک لیا ۔
کیاکررہی ہو۔۔؟؟ دیجےکا دل ھی پسیج گیا۔ آج انہوں نے پہلی بار خانم کو یوں ٹوٹتا دیکھا تھا۔
پلیز۔۔۔ معاف کردیں۔۔۔ خانم۔نےپھر سے روتےہوۓ ہاتھ جوڑے۔
ٹھیک ہے۔۔۔ معاف کیا۔ ۔۔ لیکن۔۔ یاد رکھنا۔۔یہ آخری بار ہے۔۔اب اگر۔۔۔ تم۔نے کچھ بھی ایسا کیا۔۔ جس سے میرے بچوں کو تکلیف پہنچی۔۔ تو اپنے انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی۔
فی جے کے وان کرنے پے خانم ان کے گلےلگ گٸ۔ دی جے نے انہیں تھپکی دی۔
انابیہ کے چہر پے بھی مسکان سج گٸ۔
خانم۔نے آگے بڑھ کے انابیہ کو گلے لگایا۔ تو شہیر بھی ماں کے گلے جالگا ۔
ارباز خان نے انسپکٹر و وہاں سے جانےکااشارہ کیا ۔
ان کی بیوی نے یہاں آکے کایا ہی پلٹ کے رکھ دی تھی۔
گر سے وہ کچھ اور پلان کر کے نکلے تھے۔ یہں آکے خانم۔نےپینترا ہی بدل لیا ۔ وہ چپ ہی ہو کے رہ گۓ۔
لیکن۔۔ خانم کے اشارے پے ی جے سے آگے ہو کے بے دلے انداز سے معافی ضرور مانگی۔
وہی بات۔۔ حکم ہو خانم کا۔۔۔ وہ کیسے ٹال سکتے تھے۔۔؟؟
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
سبھی خوشی و مسرت سے خان ولا کا رخ کر چکے تھے۔ جہاں ان کے لیےبہت بڑے سرپراٸزز تھے ہر دن ہر روز۔۔۔
آفتاب ان کے جانے پے راضی تو نہ تھا۔ لیکن۔۔ دیجے کے فیصلے پے کوٸ اختلاف نہ کرسکا۔
نیلی کو کنول کے لیے ناشہ لےجانےکا کہتا وہ خود ہاسپٹل کا رخ کر چکا تھا۔ جہاں شیر خان کو اب وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔
ان سے ملتا وہ کاظم سے ساری انفار میشن لے رہا تھا ۔
وہ۔۔آپ سے ملنا چاہتےہیں۔ کاظم نے دھیرے سے کہا ۔
جانتا ہوں۔۔۔۔ لیکن۔۔ ابھی ضرورت نہیں۔۔۔۔ کاظم۔۔۔!انکا خیال رکھنا۔۔۔ تمہارے بھروسے چھوڑے جا رہا ہوں۔۔ مجھے اب۔۔ انکے کسی بھی آدمی پے بھروسہ نہیں رہا۔
بنا سیکیورٹی کےیہ کبھی نہیں نکلے۔ اور اس دن۔۔؟؟ حیرت ہے۔۔۔؟؟ خیر۔۔۔مجھے سب کچھ معلوم کر کے دو۔۔۔اور۔۔ ان دونوں کا کیاہوا۔۔۔؟؟
ان ملازموں کا پوچھا۔ جہنوں نے شہیراور انبیہ کومرنےکی پلاننگ کی تھی۔ ۔
وہ تو قید میں ہی ہیں۔۔۔ کاظم کےماتھےپے بل پڑے ۔
مجھے لگتا ہے۔۔ وہ بھی جھوٹ بول رہے ہیں۔
عباد انکل کو پھسایا جا رہا ہے۔۔
خیر ابھی میں نکلتا ہوں۔۔ میں ایک ضروری میٹنگ ہے آج۔ تو فون پے بات ہوگی۔
آفتاب وہاں سے دل میں باپ سے ملنے کی حسرت لیے نکلتا آفس کیجانب جانے والیروڈ پے گاڑی ڈال دی ۔ وہ جانتا تھا۔ شیر خان کا اس وقت جو حال تھا۔ وہ ان کی اموشنل بلیک میلنگ میں بھی آسکتا تھا۔ اور یہی تو آفتاب نہیں چاہتا تھا۔
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
پورے خان ولا کو پھر سے دلہن کی طرح سجایا گیا۔ سب کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ سب کچھ ایک دم سے بدل گیا۔
دی جے شہیر اور انابیہ کا خان ولا لوٹ کے آنا ایک خوش آٸند بات تو تھی۔ وہیں سامعہ پھوپھو صبر کا گھونٹ بھر کے رہ گٸ تھیں۔ استقبال کے لیےنہ وہ آٸیں نہ انکی کوٸ بیٹی۔
اپنیبہن خانم سے بھی وہ ناراض تھیں ان کے اس فیصلے کی وجہ سے۔
لیکن خانم نے بھی توجہ نہ دی۔ ان کے لیے سب سے اہم شہیر خانزادہ تھا۔ اور اس کا واپس آنا انکی جیت تھی۔ باقی سب ثانوی تھے۔ ان کو کیسے ہٹانا تھا۔ خانم نےسب سوچ رکھا تھا۔
انابیہ کی اپنے گھر والوں سے فون پے بات ہوگٸ تھی۔ شامی کے زریعے۔ وہ انابیہ سے خفا تھا۔ لیکن۔۔ دی جے کے ان کےساتھ ہونے پے مطمیٸن تھا۔ اور واپس لاہور کی فلاٸیٹ لے چکا تھا۔
✨✨✨✨✨✨
اچھا ہوا۔۔ تم آگٸ کراچی۔۔۔! مجھ سے ملو اب جلدی۔۔ میں نے ایڈریس سینڈ کیا ہے۔ لیکن۔۔ یاد رکھنا ۔۔ یہاں پہنچنا بہت مشکل ہے۔۔ اس ہٹلر نے مجھےیہاں قید کیا ہوا ہے۔۔۔!
فون پے بات کرتی وہ kk سے مسلسل رابطے میں تھی۔
ڈونٹ یو وری۔۔ ڈٸیر۔۔ ! kk پہنچ گٸ ہے۔۔ اب تمہاری ساری مشکلیں ختم سمجھو۔۔۔!
کےکےنے اٸیر پورٹ سے ہوٹل کا رخ کیا۔ جہاں وہ ہمیشہ قیام کیاکرتی تھی۔
فون بن کیا تھا۔ کنول نےایڈریس سینڈ کر دیا۔
ڈٸیر جانی۔۔۔! آج رات ملاقاتکے لیےتیار رہنا۔۔۔!
Seey ou soon
خود کلامی سےکہتی وہ اٸیر پورٹ سے باہر نکلی ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨
بیٹا۔۔۔! آپ نے ۔۔ یہ بات ۔۔ مجھ سے بھی چھپاٸ۔۔؟؟
تبسم کے بلانے پے آفتاب سارے کم چھوڑتا ان تک پہنچا تھا۔ شہیروغیرہ کے ساتھ وہ نہ آیا تھا۔ لیکن اب ماں کے بلانے پے فوراً پہنچا تھا۔
انوں نے گلہ کیا کہ اس نے خان ولا چھوڑ دیا آنا تو آفتاب نے ان کو اپنے نکاح کے بارےمیں بتا ہی دیا۔
امی جان۔۔۔! بس کچھ حالات نے ہی ایسا مجبور کیا کہ۔۔۔ اچانک فیصلہ لینا پڑ گیا۔
آفتاب کا سر جھکا۔
تبسم خان نے گہرا سانس خارج کیا۔
کہاں رکھا ہے ہماری بہو کو۔۔؟؟ تبسم خان کے پیار سے پوچھنے پے آفتاب نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
امی جان ۔۔۔! آپ ۔۔۔آپ مجھس ے ناراض نہیں۔۔؟؟
آفتاب کو ایک بوجھ دل سے سرکتا ہوا محسوس ہوا۔
میں کیوں ناراض ہونے لگی بھلا۔۔؟إ میرے لیے تو یہ خوشی کی بات ہے۔۔ کہ میرا بیٹا۔۔ نکاح کے بندھن میں بندھ گیا۔ ورنہ جسطرح کا آپ کا ایٹی ٹیوڈ تھا۔ مجھےتو دور دور تک آپ کی شادی کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔
تبسم کیبات پے آفتاب سر جھٹکتا مسکرایا ۔
اچانک سے کنول کا خیال آگیا۔
اب سے تم ہمیشہ کے لیے قید ہوجاٶ گی۔۔۔ مسز کنول آفتاب۔۔۔! ایم جسٹ کمنگ۔۔۔!
دل ہی دل میں کنول سے مخاطب ہوا۔
میں چاہتی ہوں۔ آپ ۔۔ ہماری بہو کو خان ولا لےکے آٸیں۔ جسطرح شہیر اپنی بیوی کو لےکےآۓ ہیں۔۔ آپ بھی لے کے آٸیں۔
بہت مان سے آفاب کے گال پےہاتھ پھیرتے کہا۔
انہیں اپنا یہ ہینڈسم اور تھوڑا نک چڑا بیٹا دل و جان سے عزیز تھا۔ جس کے لیے انہوں نے بہت قربانی دی تھی۔ آفتاب میں ہی وہ اپنی زندگی جیتی تھیں ۔
بہت ۔۔جلد۔۔ لے آٶں گا۔۔۔!
کنول کے زکر پے آفتاب کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوٸ ۔ آج صبح اسے اچھا خاصا ڈانٹ کے آیا تھا۔ وہ ناراض بھی تھی۔ کیونکہ دن میں تین سے چار میسج کیا کرتی اور پانچ سے دس بار کال۔ جسے آج تک آفتاب نے نہیں اگنور ہی کیا۔ یا غصے سے ہی بات کی۔ لیکن آج۔۔ نہ ہی کوٸ میسج آیا نہ ہی کوٸ کال۔
جس کا مطلب تھا۔ وہ سخت ناراض تھی۔
وہ اکفی دیر تبسم بیگم کے پاس رہا۔ اس کے بعد شہیر کے ساتھ اس نے وقت گزرا۔ انابیہ دی جے اور شہیر سے پورے خان ولا میں رونق سی ہوگٸ تھی۔ جبکہ خانم شہیر کو دیکھ دیکھ جی رہی تھیں۔ اور آج رات انہوں نے کھانے پے اچھا خاصا اہتمام کیا تھا۔
ان کے دل میں کیا چل رہا تھا۔ اس بار کوٸ نہیں جانتا تھا۔ نہ انکی بہن نہ ان کے شوہر۔۔ !
لیکن اب کی بار وہ بہت بڑی چال چلنےوالی تھیں ۔ وہی چال۔۔۔ جس سے انہوں نے مریم کو بے گھر کیا تھا۔ ا ب وہ انابیہ کے لیےبھی وہی کچھ پلان کر رہی تھیں کہ شہیر خود انابیہ کو اپنی زندگی سے نکال پھینکے۔
✨✨✨✨✨✨
کنول کی ارسل سے بات ہوٸ تھی۔ بلال اس سے ملنے کی ضد کر رہا تھا اور یہاں کنول بے چین ہو گٸ تھی۔
رات کے دس بجنے والے تھے۔ آفتاب کے آنے کا ابھی تک کوٸ نام و نشان تک نہ تھا۔ اور کنول بار بار گھڑی دیھتی kk کا انتظار کر رہی تھی۔
جتنی سخت یہاں سیکیورٹی تھی۔ کنول کو ڈر تھا کہ وہ پکڑی نہ جاۓ۔ جبکہ چھپ کے آنا اور چھپ کے جانا اس کے باٸیں ہاتھ کا کام تھا۔
تبھی کھڑکی پے ہلکی سی دستک ہوٸ۔ کنول نے آگے بڑھ کے فوراً کھڑکی کھولی۔ kk جھٹ سے اندر داخل ہوٸ۔
اور دونوں ایک دوسرے کے گلےلگیں۔
جانتی ہو کتنا مس کیا میں نے تمہیں۔۔؟؟ کنول کا لہجہ روندھ گیا۔
اچھا۔۔۔۔! ویسے اتنے خوبصورت بنگلے میں بیٹھی ہو۔۔ اور ۔۔۔ ؟؟ یہ۔۔ شوہر ہیں تمہارے۔۔؟
سامنے دیوار پے بڑی سیایک تصویر آفتاب کی آوایزاں تھیم جسے ایک بار دیکھتے دیکھنےوالا مسحور ہو جاتا تھا ۔ kk کا دل اسے دیکھ الگ ہی تان پے دھڑکا۔
ہاں۔۔ یہی ہے ہٹلر۔۔۔! وقت آنے پے اس سے بھی حساب بے باک کروں گی۔ لیکن۔۔ ابھی مجھے بلال سے ملنا ہے۔
۔بس آج رات کی بات ہے۔۔ میں بلال سے مل کے جلدی آجاٶں گی۔ اب تم۔۔ آگٸ ہو تو۔۔ تھوڑا سکون سا آگیا ہے ایک بار پھر سے Kk کے گلےلگتی کنول بے حد خوش تھی۔ جو آفتاب کی تصویر کےپاس کھڑے بہت ہی انہماک سے اسے تصویر سے ہی نہار رہی تھی۔ اسکی ناک کی نتھلی چمک رہی تھی۔ وہی چمک اسکی آنکھوں میں بھی تھی۔
ایک رات کیا۔۔۔؟؟ جتنی چاہے راتیں۔۔ تمہارے لیے یہاں گزار سکتی ہوں۔۔ ایک جذب کے عالم میں کہتی وہ کنول کی جانب مڑی۔
بس۔۔ تم میرا آج یہ کام کر دینا۔۔۔ یہ پیکٹ ڈیلیور کرنا ہے۔۔۔ لازمی۔۔۔ ورنہ مشکل ہوجاۓ گی۔۔باقی۔۔ ساتھ تم اپنا کام نمٹا لینا۔۔ اور میں اپنا۔۔۔۔مطلب۔۔۔! یہاں۔ رک جاٶں گی تمہاری جگہ۔۔۔
فوراً تصحیح کی۔
کنول نے کبرڈ سے ایک ڈریس نکال کے kk کو تھمایا ۔
بس۔۔ یہ پہن کےسو جاٶ۔۔ وہ ہٹلر۔۔ جب سوتا دیکھے گا۔۔ تو کچھ نہیں بولےگا۔۔۔!
میں اب چلتی ہوں۔۔اپنا خیال رکھنا۔
کنول نے اس کے گال پےپیار دیا۔ اور جس راستے kk اندر آٸ تھی۔ اسی رستے آرام سے وہ رات کے وقت باہر نکل گٸ۔ اس بات سے انجان کے۔۔۔ وہ کتنی مشکل میں خود کو ڈال چکی تھی۔
جبکہ اس کےجانے کے بعد ایک گہرا تبسم kk کے چہرے پے آیا تھا۔ آٸینےکے سامنے کھڑی ہوتی اپنے ناک سے نتھلی کو اتارتی وہ ایک دلفریب انداز سے مسکراٸ ۔
اتنا حسین او خوبصورت شوہر مل کیسے گیا ۔۔۔ اس کنول کو۔۔؟؟ یہ تو میرا نصیب ہونا چاہیے۔۔۔ اور۔۔ آج خود اپنے ہاتھوں اسے میرے نصیب میں لکھ گٸ ہے یہ۔۔ بے وقوف۔۔۔
کنول کا دیا سوٹ واپس کبرڈ میں رکھا ۔ اور وہاں سے ایک خوبصورے لال رنگ کی ساڑھی نکال کے باتھروم میں گھسی۔ آج وہ بہت کچھ پلان کر کے بیٹھی تھی۔
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
بلال سے ملنے سے پہلے kk کے بتاۓ ہوۓ ایڈریس پے پہنچتی اس نے پیکٹ ڈیلیور کرنےکا سوچا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس پیکٹ میں کیا ہے۔۔؟؟ لیکن اسے یہ کرنا تھا ۔رات کے دس بج چکے تھے۔ اور وہ سنسنان جگہ تھی بالکل۔۔ ایک پل کو کنول کا دل کیا واپس مڑ جاٸے۔۔ نجانے کیسے لوگ ہیں۔۔ اور کیسا۔۔کام۔۔؟ جو رات کےا ندھیرے میں ہی ہوتا ہے۔۔ یہی سوچتے اس نے واپس کے لیے قدم بڑھاۓ۔ کہ ایک باٸیک اس کے پاس آکے رکی۔
پیکٹ۔۔؟؟ باٸیک پے دو لڑکے تھے۔اس میں ایک نے کنول کے آگے ہاتھ بڑھایا ۔ کنول نے پیکٹ اسکیجانب بڑھایا ۔ اس لڑکے نے پیکٹ کھولا۔ اور اس میں سے سفید رنگ کا پاٶڈر دیکھ کنول کے ماتھے پے بل پڑے۔
یہ تو کم ہے۔۔۔؟؟ اس میں سے ایک نے گھوری سے کنول کو نوازا۔
مجھے نہیں۔۔ پتہ۔۔۔! کنول نے کہتے وہاں سے جانا چاہا۔کہ اس لڑکے نے کنول کو کلاٸ سےپکڑکے روکا۔
رک کہاں جاتی ہے۔۔؟ مال پورا کر کے دے یہاں۔۔۔! وہ خونخوار لہجے میں بولا۔
کونسا۔۔مال۔۔۔؟؟ یہ کس انداز سے بات کر رہے ہو؟؟ ہاتھ چھوڑو ۔۔میرا۔۔۔! کنول نے کہتے غصے سے کلاٸ چھڑاٸ۔
یہ ایسے نہیں مانے گی۔۔۔دوسرے نے پہلےوالے کو اشارہ کیا۔ کنول انکے چہروں کے زاویےاور باتوں سے انداہ لگا چکی تھی۔ کہ وہ غلط لوگوں میں پھس گٸ ہے۔ فوراً کندھے پے ڈالا بیگ سنبھالتے وہ وہاں سے بھاگنے لگی۔ کہ ایک لڑکے نے اس پے اس پاٶڈر کو اسکی ناک پے چھوڑا۔ کنول کا سارا دماغ گھوم گیا ۔ اسے بری طرح چکرایا۔ آنکھیں موندکےاس نے دوبارہ کھولیں۔اسے ساری دنیا گھومتی نظر آٸ۔ سر داٸیں سے باٸیں جھٹکتی وہ اپنے دماغ کو ٹھکانے رکھتی وہاں سے اندھا دھند بھاگی۔
وہ لڑکے بھی اسکے پیچھے لپکے۔ وہ گلی سے نکلتی جیسے ہی سڑک پے آٸ۔ انہوں نے کنول کو دبوچ لیا۔ پاس سے گزرتی گاڑی جھٹکے سے رکی۔ اسی گاڑی کے بونٹ پے اس لڑکےنے کنول کو دھکا دیا۔ کنول کا منہ گاڑی کے بونٹ سے جا ٹکرایا۔ اسکے حواس مزید سلب ہوگۓ۔ ناک سے خون کی ایک بوند نکلی ۔ لیکن اسے بس خودکو بچانا تھا۔ اسکے حواس آہیستہ آہیستہ کام کرنا چھوڑ رہے تھے۔ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔
دماغ کے کسی کونے میں آفتاب کا چہرہ لہرایا۔
میری اجازت کے بنا۔۔ گھر سے بار مت نکلنا۔۔ ورنہ۔۔ انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی۔۔۔
آفتاب کے کہے الفاظ اسکی سماعت سے ٹکراٸے۔ کنول نے خود کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کی۔
اس لڑکے نے کنول کوگاڑی کے بونٹ پے لٹاۓ ہی سیدھاکیا۔ کنول نےخود کو چھڑانے کے لیے ہاتھ پاٶں مارے۔ لیکن سب بے سود ثابت ہوا۔
اور تب اسکی ہمت جواب دے گٸ۔ جب اسے اپنی آستینیں پھٹتی محسوس ہوٸیں۔
یااللہ۔۔۔۔۔؟؟
بے اختیار اونچی آواز میں اپنے اللہ کو پکارا۔۔
کہاں ہے۔۔؟؟ دے مجھے۔۔؟؟ ایک لڑکے نے وہ پیکٹ کھولتے سارا پاٶڈر کنول کے منہ کو دبوچے زبردستی اس کے منہ میں انڈیلنا چاہا ۔۔۔۔! کہ۔۔۔؟؟
جاری ہے
💔💔💔💔💔💔💔💔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
کیا لگتا ہے۔۔؟؟ کنول بچ جاۓ گی۔۔۔؟ اور kk کیا چال چلے گی۔۔؟ خانم ایک بار پھر سے بھونچال لانے والی ہے۔۔۔۔؟؟ اگلی قسط آپ کے بہت زادہ اچھے رسپانس پے۔
راٸٹر۔۔ بہت مصروف سی۔۔۔ 😇😇
کہ تبھی باہسے شور کیآواز پے چونکا۔
اتنی صبح ۔۔۔صبح کون۔۔؟؟

No comments:

Post a Comment