#قسط_نمبر_12 سرپراٸز
ماضی
خانم کی شادی پے سب نے خوب خوشی کی تھی ۔ سب سے زیادہ خوش تو اربازخان تھا۔ جسے اپنی منچاہی محبت مل گٸ تھی۔ پھولے نہیں سما رہا تھا۔
گھر بھر میں خانم کے نام کا سکہ چلنے لگا۔ ہر بات میں خانم کی مرضی شامل ہوتی۔ جس سے وہ اور زیادہ مغرور ہوگٸ۔ عباد کو یونی ورسٹی میں مریم پسند آگٸ۔ خانم کی مرضی نہ تھی۔ کہ یہاں رشتہ ہو۔ لیکن عباد کی ضد کے آگے وہ ہار مان کے مریم کو بیاہ کے لے تو آٸیں۔ لیکن اسے قبول نہ کیا۔ ہر بات پے اس پے نکتہ چینی۔ اسکا جینا حرام کر دیا خانم نے۔ اور۔۔ جب خانم امید سے ہوٸیں۔تو پورے خان ولا میں مٹھاٸیاں بانٹی گٸیں۔ خیرات اور نزرانہ پیش کیے گۓ۔ وہ اس دوران مریم کو بھول کے اپنی زندگی میں مگن ہو گٸیں۔ مریم نے سکون کا سانس لیا۔ شہیر کے اس دنیا میں آنے پے خانم کے پاٶں زمین پے نہ پڑ رہے تھے۔ مجھ بوڑھی کو اپنے خان کے آنے کی بے انتہا خوشی تھی۔ کہ خانم کی کی ہوٸ ساری زیادتیاں میں بھول گٸ۔ خانم کے چاہنے پے میں نے جاٸیداد کا ایک بڑا حصہ شہیرکے نام کر دیا۔ لیکن ۔۔۔ میں نے بے ایمانی نہیں کرنی تھی۔ جمیلہ کے بچوں کا بھی حق تھا۔ اس جاٸیداد میں۔ وہ بیٹی تھی۔ اس گھر کی۔ اور عباد کے بچوں کا تو اتنا ہی حق تھا جتنا ارباز کے بچوں کا ۔ اور بس۔۔ یہیں سے بات بگڑی۔ خانم نہیں چاہتی تھی۔ کہ جاٸیداد میں سے کسی کو کوٸ حصہ ملے۔ سال بعد مریم کو امید لگی۔ سبھی خوش تھے۔ماسواٸے۔۔۔ خانم کے۔
اور ایک دن۔۔۔۔!!!!,
بس کسی طرح وہ زہر کی پڑیا مجھے لادو۔ اس مریم کو کھلا کے اس سے تو جان چھٹے۔ مجھے یہ قبول نہیں ۔۔ تو۔۔ اسکی اولاد کو کیسے اپناٶں گی میں۔۔ بیٹا ہوا تو۔۔ خان ولا کی وارثت کا حصہ دار بن جاۓ گا۔ اور۔۔ اگر بیٹی ہوٸ تو۔۔۔ شہیر کے ساتھ نکاح کا ڈھنڑورا پیٹنا شروع کر دے گی۔ میری ساس۔۔ مجھے دونوں صورتوں میں مریم کی اولاد اس خان ولا میں نہیں چاہیے۔
اپنے نادر منصوبے کو فون پے کسی کے ساتھ ڈسکس کرتے وہ اردگر کا ہوش کھو چکی تھیں۔ جبکہ دی جے اسکی ساری باتی سن چکی تھیں ان کے ساتھ مریم نے ساری باتیں سنیں۔ دونوں خانم کے منصوبے سے بری طرح ڈر گٸ تھیں۔
دی جے۔۔ میں کیاکروں
مریم نے نم لہجے میں پوچھا۔
عباد کو بتانے کا بھی کوٸ فاٸدہ نہیں وہ ہماری کسی بات پے یقین نہیں کرے گے۔ دی جے نے سوچتے ہوۓ کہا۔
ایک کام کرے۔۔ آپ پیکنگ کریں۔۔۔۔۔ بہو۔۔۔ اب آپ یہاں نہیں رہیں گیں۔ ہمیں ہماری آنے والی نسل بہت عزیز ہے۔
لیکن دی جے۔۔۔۔۔۔ کہاں جاٸیں گے۔۔۔۔ہم۔۔۔
بس آپ سامان پیک کریں۔ باقی ہم پے چھوڑ دیں۔
اور پھر دی جے نے مریم کو اپنی جاننے والی ایک داٸ کے پاس چھوڑا۔ خان ولا میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ کہ مریم کہاں ہے۔۔۔
خانم نے بہت کوشش کی کہ پتہ لگ سکے۔ لیکن دی جے نےیہ کہہ کے ٹال دیا۔ کہ ڈاکٹرنے اسکو یہاں کی آب وہوا سےدور رکھنے کا کہا ہے۔ اود وہ جہاں ہے۔محفوظ ہے۔ عباد ماں اور مریم سے بری طرح بدظن ہوگیا ۔ اور جب۔۔۔ مریم اپنی بیٹی کے ساتھ خان ولا آٸ تو۔۔۔ کسی کو ایک اکھ نہ بھاٸ۔کسی نے اس معصوم پری کو نہ اپنایا۔ یہاں تک کہ باپ نے بھی ایک نظر دیکھنا گوارا نہ کیا۔ ایک ماہ تک۔۔۔۔ ایک ماہ تک میں۔۔۔نے بھرپور اسکا ساتھ دینے کی کوشش کی۔ کہ سب اسے اپنا لیں۔ لیکن۔۔۔۔۔
دی جی کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔ وہ لمحے یاد کرکے۔۔
جبکہ شہیر اورآفتاب دم سادھے سب سن رہے تھے۔
میں۔۔۔ لڑتی رہی۔۔۔ اسکے حق کے لیے ۔۔۔ لیکن۔۔ پھر ایک دن۔۔ خانم نے اپنی چال چلی۔
وہ رات آج بھی مجھے یاد ہے۔۔۔۔
چور۔۔ چور۔۔۔۔۔ خانم نے راہداری سے کسی کو کچن سے نکلتے دیکھا۔ جہاں مریم اپنی بیٹی کے لیے دودھ گرم کر رہی تھی۔
سبھی اکھٹے ہوگۓ وہاں۔۔ وہ شخص پکڑا گیا ۔
کون ہو تم۔۔۔۔اور کیا کر رہے ہو یہاں|
ارباز خان نے غصہ سے پوچھا۔
اس نے مریم کیطرف دیکھا۔ سب کی سوالیہ نظریں اس پے اٹھیں۔ وہ اندر تک کانپ گٸ۔ اور نفی میں سر ہلاتی سب کی نظروں میں چھپے سوال کو وہ پڑھتی زمین میں گڑتی جا رہی تھی۔
بولو۔۔۔
عباد نے اس شخص کو ایک گھونسہ مارا۔
میں خود نہیں آیا۔ اس نے بلایا تھا۔ منہ سے خون صاف کرتا وہ پھنکارا۔
سب کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا۔
کیا۔۔۔بکواس ہے یہ۔۔۔۔
دی جے نے بیچ میں پڑتے کہا۔
بزرگو۔۔یہ بکواس نہیں۔۔ اسی عورت نے مجھے ملنے کے لیے بلایا۔ پیسے بھی مانگتی ہے۔وہ بھی دیتا ہوں۔۔۔
وہ مزید بولتا مریم کو تپتے صحرا میں کھڑا کر گیا۔
کییییسے پیسے۔۔۔۔۔
بولتی کیوں نہیں۔۔۔۔ بتاٶ ناں۔۔۔
اس شخص نے گنگ کھڑی مریم سے کہا۔
یہہہہہہ۔۔۔۔۔ جھھھوووٹٹ بببوووللللل رہ۔۔ا۔ ہےےےے۔۔۔ مریم نے ٹوٹے لفظوں میں ادا کیا۔
آج پکڑی گٸ تو مجھے جھوٹا کہہ رہی ہے۔۔ ورنہ تو مجھ سے ملتے کتنا خوش ہوتی تھی۔ شوہر سے تو خوش نہیں تھی۔ طلاق لینے والی تھی۔آج۔۔۔!!!!
ابھی وہ مزید کچھ کہتا کہ عباد نے اسکے منہ پر پے در پے تھپڑ مارے۔اور مارتا ہوا باہر لے گیا۔مریم روتی ہوٸ دی جے کے پاس پہنچی۔
دی جے۔۔وہ جھوٹ بول رہا۔۔۔۔ہے۔۔
مجھے۔۔۔۔ بدنااممممم کر رہا ہے۔ہچکیو ں سے کہتی دی جے کو اس پے بہت ترس آیا۔ اسکےآنسوسچےتھے۔
جھوٹ مت بولو۔۔۔تم۔۔۔ پاکدامن نہیں ہو۔۔۔ تم جیسی غلیظ عورت کو اب یہاں رہنے کا کوٸ حق نہیں۔
خانم نے بالوں سے پکڑ کے باہر دھکا دیا۔
مریم اپنی صفاٸ میں کچھ کہتی کہ عباد دندناتا ہوا اندر آیا۔ اور بالوں سے پکڑ کے مریم کو کھڑا کیا۔
میں نے زندگی کی سب سے بڑی بھول کی۔ تم سے شادی کر کے۔ تم عزت کی زندی کے قابل ہی نہیں۔ مریم اپنے بالوں کو چھڑاتی نفی میں سر ہلاتی روۓ جا رہی تھی۔
عباد۔۔۔۔ ایک ۔۔۔باربات۔۔۔۔ سن لیں۔۔ وہ۔۔۔ شخص ۔۔ جھوٹ۔۔۔۔
چپ۔۔۔۔ بے شرم۔۔۔ تیرے جیسی کو میں اب ایک منٹ اس گھر میں برداشت نہیں کروں گا۔
میں عباد خان اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔
نننہیں۔۔ اللہ کا واسطہ ہے رک جاٸیں۔مت کریں یہ ظلم۔۔۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔
عباد۔۔ چپ ہو جاٸیں۔۔۔۔دی جے نےاونچی آواز میں روکا۔لیکن اس نے ان سنی کر دی۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔
کہتے ساتھ ہی باہر دروازے کی طرف دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑ کے دور جا گریں ۔
نکل جاٶ یہاں سے۔۔۔
عباد کے چینخنے پے سبھی ایک دم چپ کر گۓ۔
ایک منٹ۔۔۔۔ اپنی اس گناہ کی پوٹلی کو بھی ساتھ لیتی جاٶ۔۔۔ نجانے کس کا گناہ ہے۔۔ جو خان ولامیں پالنا چاہتی تھی۔ اندر سے اس ایک ماہ کی معصوم بچی کو زور سے مریم کی گود میں پٹخا۔ وہ بس اپنی بچی کو دیکھے جا رہی تھی۔ اسے سمجھ ہی نہ آیا کہ اس کے ساتھ اچانک ہوا کیا ہے۔۔
دفعہ ہوجاٶ اب یہاں سے۔۔۔۔
سینے پے ہاتھ باندھے تنفر سے خانم نے مریم سے کہا۔ جبکہ عباد وہاں سے جا چکا تھا۔اور ارباز بھی اس کے پیچھے گۓ تھے۔ دی جے آج صحیح معنوں میں خود کو بوڑھا محسوس کر رہی تھیں۔
اور پھر۔۔۔ رات کے اندھیرے میں اس بے گناہ اور معصوم بچی کے ساتھ گھر سے نکال دیا۔ وہ وقت اور یہ وقت۔۔ کوٸ نہیں جانتا۔۔مریم کہاں ہے۔۔ بلکہ کسی نے جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ اس رات وہ اس معصوم بچی کو لے کے خالی ہاتھ کہاں چلی گٸ۔۔۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں۔۔
دی جے کہتے ہوۓ ایک دم چپ سی ہوگٸیں۔شہیر نے انہیں پانی پلایا۔ اپنی ماں کے اتنے بڑے گناہ کا سن کے وہ خود کو زمین میں گڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
میری امی جان کی شادی کیسے ہوگٸ۔۔
آفتاب کے سوال پے ایک نظر دی جے نے اسکی جانب دیکھا۔
یہ بھی ایک راز ہی ہے۔۔ جو آپ کی امی جان ہی کو معلوم ہے۔۔۔ کیونکہ خانم ہی انہیں بیاہ کے لاٸیں تھیں۔
دی جے کی دھیمی آواز ان کے کانوں سے ٹکراٸ۔
آپ نے کیوں خان ولا چھوڑا۔
شہیر کی بات پے انہوں نے بہت فرصت سے پوتے کو دیکھا۔
اپنا نکاح یاد ہے
ان کےاچانک سوال پے اسکی آنکھوں کے گرد اپنے نکاح کے منظر گھومے۔
پندرہ سال کا تھا۔ بہت چھوٹا بچہ نہیں تھا۔ کہ بالکل ہی سب بھول جاۓ۔
اس نکاح کے لیے ایک ڈیل کی تھی خانم نے۔۔۔۔
دی جے پھر سے ماضی میں چلی گٸیں۔
آپ کو خان ولا شہیر کے نام کرنا ہوگا۔صرف یہی نہیں۔۔ بنک بیلنس بھی۔اور پراپراٹی بھی۔
خانم نے شور مچایا ہوا تھا۔
خان ولا اود پراپرٹی پے صرف شہیر کا حق نہیں۔۔ عباد کے بچوں کا بھی حق ہے۔ اور جمیلہ کے بھی۔ میں کسی کے ساتھ کوٸ زیادتی نہیں کروں گی۔دی جے غصہ سے کہا۔
کیسا حق۔۔
عباد کی تو اولاد ہی نہیں۔ تو کسے دیں گیں حصہ۔اور رہی بات جمیلہ کی۔۔۔ تو بیٹیوں کو کم ہی ملتا ہے۔۔ آپ کو جو کہا ہے وہ کریں۔
بہت زیاہ بحث کے بعد بالآخر دی جے نے ایک شرط رکھی۔ کہ شہیر کا نکاح اگر جمیلہ کی بیٹی سے کردیں۔تووہ سب کچھ شہیرکے نام کردیں گیں۔
فضا کا رشتہ میکال سے طے تھا۔ انا کو شہیر کے ساتھ منسوب کرنے کی بات پے جمیلہ اور فیاض صاحب تو نہ بولے۔انکی بات مان گۓ۔ لیکن خانم نے بہت واویلہ مچایا۔لیکن اس بار خانم کی بھی ایک نہ چلی۔دی جے اپنی بات پے ڈٹ گٸیں
اربازخان نے ماں کا ساتھ دیا۔اور خانم کو اپنے طریقے سے سمجھایا۔ اورمجبوراً وہ شہیر اور انا کے نکاح پے بے دلے مان ہی گٸ۔ ۔
دی جے نے بنک بیلنس اور خان ولا شہیر کے نام کر دیا۔البتہ پراپرٹی کا کوٸ فیصلہ نہ لیا ۔
اس دن۔۔ خانم کی بات پے کی عباد کی کوٸ اولاد نہیں۔۔ اس بات پے عباد خانم سے بدظن ہوا۔ارباز بھی خانم کی ساٸیڈ تھا۔ وہ دونوں سے دور ہونے لگا۔ اور تبسم کے قریب۔
لیکن اللہ نے انہیں کسی اولاد سے نہ نوازا۔شاید۔۔ عبادکی یہی سزا تھی۔جس نے اپنی ایک ما کی بیٹی کو ٹھکرایا۔ جس نے باپ کا لمس بھی محسوس نہ کیا۔ پاکدامن بیوی کے کردار کو داغدار کیا۔ اللہ نے اسے اولاد جیسی نعمت سےمحروم رکھا۔
خان ولا میں آفتاب کی آمد بھی خانم کو نہ بھاٸ اوپر سے شہیرکا جھکاٶ آفتاب کی طرف ۔ خانم نے شہیر کو باہر بھجوا دیا۔
وقت گزرتارہا۔ جمیلہ کے گھر سے ناطہ نہ ہونے کے برابرا رہ گیا۔ پانچ سال پہلے وہ مجھ سے ملنے خان ولا آٸ۔اپنے شوہر کے ساتھ۔اورخانم سے برداشت نہ ہوا۔
بہت لڑاٸ کی خانم نے۔
دی جے یاد کرتیں دکھی ہوٸیں۔
اسے کہیں یہ یہاں سے چلی جاۓ۔ خانم نے غصہ سے کہا۔
خانم ۔۔۔ یہ انکی ماں کا گھر ہے۔ انکو یہاں آنے سے کوٸ نہیں روک سکتا۔
آپ بھول رہی ہیں۔ یہ گھر یہ خان ولا آپ میرے بیٹے شہیر کے نام کر چکی ہیں۔ اس لیے اس گھر میں جو بھی فیصلہ ہوگا۔ میری من منشا کے مطابق ہوگا۔
خانم۔۔۔ آپ بھی یہ مت بھولیں۔ آپ کے بیٹے شہیر کا نکاح جمیلہ کی بیٹی کے ساتھ ہوا ہے۔ اس رو سے انابیہ اس خان ولا کی اصل مالکن ہے۔ اور جمیلہ اسکی ماں۔۔۔ اور جمیلہ یہیں رہیں گیں۔ سمجھیں آپ۔
دی جے نے بھی دوبدو جواب دیا۔
ہونہہ۔۔۔ نکاح۔۔۔۔۔ کونسا نکاح۔۔۔ بچپن کا نکاح کوٸ معنی نہیں رکھتا۔ اور اب نکالیں یہاں سے اسے۔۔ نہیں رکھنا کوٸ ناطہ اسکے ساتھ۔۔۔
خانم نے جہانداری سے دی جے کی آنکھوں میں آنلھیں ڈال کے کہا ۔
دیکھ رہے ہیں آپ ارباز اپنی بیوی کو۔۔۔ کیسے وہ آپ کی ماں اور بہن کی بے عزتی کر رہی ہیں۔۔۔
دی جے خاموش کھڑے تماشا دیکھتے ارباز سے مخاطب ہوٸی۔
دی جے۔۔ آپ کیوں خانم سے بحث کر رہی ہیں۔۔۔ آپ بحث کر کے بات کو مزید بگاڑرہی ہیں۔۔۔وہ بہتر فیصلہ کر سکتی ہے۔۔ آپ انکی ساٸیڈ لیں۔
ارباز کے کہے الفاظ دی جے کے دل کے پار ہوۓ۔جمیلہ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگۓ۔
چلیں سلطان صاحب۔۔ چلتے ہیں۔ جمیلہ مزید خرابی دیکھتی شوہر سے بولیں۔
نہیں۔۔۔۔ جمیلہ کہیں نہیں جاۓ گی۔ میری بیٹی کہیں نہیں جاۓ گی۔
دی جے نے آج پہلی بار اپنی بیٹی کی ساٸیڈ لی۔
ٹھیک ہے۔۔ اگر آپ کو زیادہ برا لگ رہا ہے تو۔ آپ بھی ان کے ساتھ جا سکتی ہیں۔
خانم کے الفاظ دی جے کے دل پے جا لگے۔ ایک نظر بڑے بیٹے کو دیکھا۔جو بیوی کا غلام بنا کھڑا تھا۔اور دوسری نظر عباد پے ڈالی۔ جو نظریں چرا گیا تھا۔ اسکا دل پہلے ہی دی جے کے لیے برا ہو چکا تھا۔جب انہوں نے شہیر کے نام جاٸیداد کا آدھے سے زیادہ حصہ اسکے نام کر دیا تھا۔
ٹھیک ہے۔ اگر ایسی بات ہے۔۔ تو ہم بھی یہاں نہیں رکیں گے۔۔۔ آپ سب کو یہ خان ولا مبارک۔
دی جے نے نم آواز میں کہا۔
خانم نے منہ پھیر لیا۔
دی جے۔۔ مت کریں ایسا۔۔۔یہ آپ کا گھر ہے۔۔ آپ یہیں رہیں۔۔ ہم چلے جاتے ہیں یہاں سے۔۔۔
فیاض سلطان نے دھیمے لہجے میں کہا۔
اوہ ہیلو۔۔۔ یہ ڈرامہ بند کرو۔ اور لے جاٶ انہیں یہاں سے۔۔۔ اتنا عرصہ ہم نے خدمت کی۔ اب بیٹی کا بھی تو کچھ فرض بنتا ہے ناں۔۔ تو لو انہیں اور نکلو یہاں سے۔۔
خانم نے ہر لحاظ بالاۓ طاق رکھے انہیں ہاتھ کے اشارے سے گھر سے نکل جانے کا کہا۔
ارباز بھاٸ۔۔ آپ سے مجھے یہ امید نہ تھی۔۔ یہ ماں ہیں آپ کی۔۔۔
جمیلہ نے روتے ہوۓ کہا۔
بڑے خان سے کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔ جو کہنا ہے مجھ سے کہو۔۔۔ وہ صرف انکی ماں نہیں ۔۔ تمہاری اور عباد کی بھی ہیں۔۔ اور اب یہ ڈرامے خان ولا سے باہر جا کے کرو۔۔۔ دماغ گھوما دیا ہے۔ خانم نے نخوت سے کہا۔
چلیں دی جے۔۔۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ میں آپ کو پلکوں پے بٹھا کے رکھوں گا۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا۔ کہ اس گھر میں آپ کو وہ مان اور عزت ملے گی۔ جس کی آپ حق دار ہیں ۔
فیاض سلطان نے ان سب پے قہر کی نظر ڈالتے کہا۔ خانم نے منہ پھیر کے سر جھٹکا ۔
اب نکلو گے یا دھکے دے کے نکالوں۔۔۔
خانم کے ان الفاظ نے جمیلہ کو بری طرح زخم دیے۔
بھابھی ۔۔۔ اتنی مغروری بھی اچھی نہیں۔ یاد رکھنا۔۔۔ ایک دن آپ کی یہ لنکا۔۔ آپ کا اپنا ہی ڈھاۓ گا۔۔۔
انگلی اٹھا کے وارن کیا تو وہ غصہ سے آگے بڑھتیں ان کو دھکے سے دروازے کی جانب دھکیلا۔
دی جے کو بھی خانم نے ہاتھ سے دھکا دیا۔
بس۔۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔ جا رہے ہیں۔۔ ہم۔۔ فرعون مت بنیں۔۔
کیونکہ فرعون کی لنکا کو موسیٰ علیہ السلام نے ڈھایا تھا۔ اور انہوں نے پرورش بھی اس گھر میں پاٸ تھی۔ ڈریں اس وقت سے۔۔ جب ایک موسیٰ آپ کی فرعونیت کو ڈھانے آگیا۔ اس دن نہ آپ کوآسمان گلے لگاۓ گا نہ زمین اپنی آغوش دے گی۔
فیاض سلطان نے غصے سے للکارا۔ اور دی جے اور بیوی کو تھامے خان ولا کی دہلیز پار کر گۓ۔
دی جے کی بات ختم ہوٸ تو ان دونوں نے سر اٹھا کے انہیں دیکھا۔ دونوں ہی اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہے تھے۔
یقین نہیں آتا ۔۔ مما جان۔۔۔اتنا گر سکتی ہیں۔۔۔۔
شہیر کے الفاظ پے دروازے کے باہر کھڑے شامی کے وجود میں حرکت ہوٸ۔ وہ بھی سب سچ جان چکا تھا۔
اس ناول کا نام ہے۔ تم میرے نکاح میں ہو۔ اور راٸٹر ہیں۔ منتہا چوہان
اس نے تشکر سے آنکھیں موند لیں۔ یقیناً اپنی ماں کے اس روپ کو جاننے کے بعد شامی کو امید نہ تھی ۔ کہ وہ اپنی ماں کے خلاف جاٸے گا۔ لیکن صد شکر کے۔۔ اس نے صحیح اور غلط کو پہچانا۔انابیہ کو لے کے وہ بہت پریشان تھا۔لیکن اب شہیر کے ردعمل پے مطمین ہوتا وہاں سے ہٹنے لگا کہ دی جے کی بات پے قدم وہیں رک گٸے ۔
بیٹا۔۔۔ وہ تو اس سے بھی زیادہ برا کرسکتی ہے۔اب بات آپ پے ہے آپ اپنا رشتہ کیسے بچاتے ہیں۔۔ اپنے نکاح کو کیسے بچاتے ہیں۔یاد رکھیے گا۔۔ ایک طرف ماں ہے جس نے جنم دیا۔ تو دوسری طرف نکاح۔۔ جس میں اللہ اور اسکے رسول کو حاضر ناظر جان کے وفا کا ساتھ نبھانے کا عہد کیا ہے ۔
مشکل گھڑی سے نکلنا کیسے ہے۔۔۔ سوچ سمجھ کے قدم اٹھانا۔
شہیر کے دماغ میں دی جے کی باتیں اپنا اثر دکھا رہی تھیں۔
دی جے۔۔۔۔ آپ واپس خان ولا جاٸیں گیں میرے ساتھ۔۔ اور آپ کا مقام آپ کا رتبہ آپ کو واپس لوٹاۓ گا۔آپ کا پوتا آپ کا خان۔۔۔ !!!
مضبوط لہجے میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔
اور انابیہ۔۔۔ اسکا کیا ؟
دی جے کے سوال پے وہ پل بھر کو ٹھٹھکا۔ اور ان کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتا وہ انکی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔
میری دی جے۔۔ مجھے اسکی رخصتی چاہیے۔۔ آج ابھی اسی وقت۔۔۔!!,
مضبوط انداز میں کہتا وہ دی جے کے ساتھ آفتاب کو بھی حیران کر گیا۔
اسطرح اچانک۔۔۔۔؟
دی جے حیران ہوٸیں۔
اچانک ہی تو سارے پردے فاش ہوۓ ہیں۔ اور مجھے میری بیوی چاہیے۔۔ اسکی رخصتی چاہیے۔
کیا اسے خان ولا میں وہ مقام دلا سکو کے جسکی وہ حق دار ہے۔۔
دی جے کے سوال پے باہر کھڑے شامی کا دل چاہا دی جے کے گال چوم لے جا کے۔ آج تو وہ اسے حیرت میں ڈال رہی تھیں۔
میں ایسا کوٸ وعدہ نہیں کروں گا دی جے۔۔ کیونکہ سامنے میری مما جان ہے۔۔ ان کے خلاف میں چاہ کے بھی کھڑا نہیں ہوسکتا۔
شہیر کے لفظوں پے شامی نے دانت کچکچاۓ۔
لیکن۔۔۔ یہ وعدہ ضرور کرتا ہوں ۔ جہاں میری بیوی کی عزت نہ ہوگی۔ میں بھی وہ جگہ چھوڑ دوں گا۔
اپنی بیوی کو پروٹیکٹ کروں گا۔۔ اپنی جان سے زیادہ اسکی حفاظت کروں گا ۔
مضبوط لب ولہجہ دی جے کو مطمین کر گیا۔
جبکہ شامی کا دماغ تھوڑا کنفیوز ہوا ۔
اور وہاں سے ہٹ گیا۔
مجھے اپنے خان پے پورا بھروسہ ہے۔
دی جے نے اسکو پیار سے دیکھتے کہا۔
تو پھر ڈن ہو گیا ۔
شہیر کا بڑا بھاٸ ہونے کے ناطے آج ہی آپ کے ساتھ انکل سے رخصتی کی بات کرتے ہیں۔
آفتاب نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔
معلوم نہیں فیاض اسطرح اتنی جلدی رخصتی کے لیے مانیں گے یا نہیں۔۔۔۔۔بنا ارباز اور خانم کے۔۔؟؟
دی جے پر سوچ انداز میں بولیں۔
انکا ہونا ضروری نہیں اب دی جے۔۔۔ آپ ہیں ناں۔۔۔ اور۔۔
مجھے اپنی دی جے پے پورا بھروسہ ہے۔ آپ منا لیں گیں۔
شہیر نے پیار جتاتے کہا۔جبکہ وہ دل ہی دل میں ماں سے ہر سوال کا جواب لینے کا ارادہ رکھتا تھا۔
آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔ پاگل ہوگۓ ہیں کیا۔۔۔۔
کنول اس وقت ارسل کے آفس میں کھڑی تھی۔جو بہت پریشان دکھاٸ دے رہا تھا۔اوراسکی بات سن کے کنول کے پیروں تلے سے زمین نکل گٸ۔
کنول پلیز۔۔۔ بات کو سمجھو۔۔۔ تمہیں میں نے کبھی بہن کی نظر سے نہیں دیکھا۔۔ مجھے ۔۔۔ تم اچھی لگتی ہو۔۔۔ اور۔۔ کونسا خان ہے۔۔ جو دو شادیاں نہ کرتا ہو۔۔۔ میں نے بھی کر لی تو کونسا گناہ ہو جاۓ گا۔۔ میں دو بیویاں افورڈ کر سکتا ہوں ۔ ارسل کا لہجہ اٹل تھا۔
آپ۔۔۔ آپ کا ماغ خراب ہوگیا ہے۔۔ ارسل بھاٸ۔۔۔ مجھے۔۔۔بالکل بھی علم نہیں تھا۔۔ کہ میں جسے اپنا بھاٸ سمجھتی رہی وہ اپنے ماغ میں اتنا گند رکھ کے۔۔۔
کیسا گند۔۔۔ ہاں۔۔ کیا کوٸ غلط حرکت کی ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ یا کچھ برا کیا ہے۔۔۔۔ صرف تمہیں پرپوز کیا ہے۔۔ تمہیں اپنانا چاہتا ہوں۔۔۔ دل سے۔۔۔
پاس آتے گھمبیر انداز میں کہا۔
لیکن۔۔ میں ایساکچھ نہیں چاہتی۔۔۔ آپ۔۔۔اپنی بیوی کو دھوکہ کیسے۔۔ دے سکتے ہیں۔۔۔۔
کنول کا دماغ سٹک ہو چکا تھا۔
دھوکا کیسا۔۔۔ اسی نے تو میرے دماغ میں یہ سب ڈالا۔۔۔اسی کی روز کی چخ چخ سے تنگ آکر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔۔ اگراسے ایسا لگتا ہے۔۔ تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔۔۔ اسکے باپ نے تو تین شادیاں کی ہیں۔۔ میں دوسری کرنے جا رہا ہوں۔
چپ۔۔۔ ایک دم چپ۔۔ خبردار جو آپ نے ایک لفظ مزید بولا تو۔۔۔ میں بھول جاٶں گی۔۔ کہ میں نے آپ کو کبھی اپنا بھاٸ مانا تھا۔۔۔ اپنا دکھتا سر پکڑے کنول دروازہ کھول باہر نکلنے لگی۔ کہ پھر واپس پلٹی۔
خبردار۔۔ خبردار۔۔ جو اسطرح کی دوبارہ کوٸ بات بھی کی۔۔ میں آپ کو۔۔۔!!
کیا کرلوگی تم۔۔۔؟
ہاں۔۔۔۔؟ ارسل کو بھی غصہ آگیا۔ تو غصے سے اسکا بازو جکڑا۔وہ حیرانی سے اسے دیکھتی رہ گٸ۔
کہ تبھی دروازہ کھولے عظمی اندر داخل ہوٸ۔ وہ ان دونوں کو اس قدر قریب دیکھ ساکت رہ گٸ۔اسکے تو تن بدن میں آگ لگ گٸ۔ ارسل نے دھیرے سےکنول کا بازو چھوڑا۔ عظمی کی آنکھیں آنسوٶں سے بھر گٸیں۔
آگے ہوتے ایک نظر شوہر کو دیکھا۔ اور دوسری نظر کنول پے ڈالتی اس نے کنول پے ہاتھ اٹھایا۔ کہ ارسل نے اسکا ہاتھ ہوا میں ہی روک لیا۔ نظر پلٹ کے حیرت سے اپنے شوہر کو دیکھا۔
خبردار جو کنول پے ہاتھ اٹھایا تو۔۔۔ بہت برا پیش آٶں گا۔۔۔ ہونے والی بیوی ہے یہ میری۔۔ سمجی تم۔۔۔۔
غصے سے کہتا وہ عظمی کو بہت کچھ باور کرا گیا۔
کنول حیرت سے ارسل کا منہ دیکھتی رہ گٸ۔ کتنے دھڑلے سے وہ شخص جھو ٹ بول رہا تھا۔ کنول تو اسکا منہ دیکھتی رہ گٸ۔
عظمی کے دل میں درد کی ایک ٹھیس سی اٹھی۔ وہ آنسو ضبط کرگٸ۔
آپ۔۔۔۔؟؟ اسکے الفاظ اسکا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
پلیز۔۔ میری بات۔۔ظ؟ کنول نے عظمی سے بات کرنی چاہی۔ لیکن اس نے ہاتھ اٹھا کے روک دیا۔ اور واپس انہی قدموں سے مڑ گٸ۔
کنول کا یکدم ہوش آیا۔ وہ عظمی کے پیچھے لپکی۔ اسے سچاٸ بتانے کے لیے۔
رک جاٶ۔۔ کنول۔۔ جانے دو اسے۔۔۔ تم۔۔۔ شادی کی تیاری کرو۔ کل ہمارا نکاح ہوگا۔
ارسل نے اسکے سر پے بم پھوڑا۔
مسٹر ارسل خان۔۔۔!
کسی بھول میں مت رہنا۔۔۔ میں مر تو سکتی ہوں۔۔ لیکن۔۔ تم سے نکاح۔۔ کبھی نہیں کروں گی۔
نفرت سے کہتی وہ واپس باہر کی طرف مڑی۔
اپنے بھاٸ بلال کی جان کی خاطر بھی نہیں۔۔؟
بلال کے نام نے کنول کے پیروں تلے سے زمین نکلی۔۔ایک پل کو اسکا وجود لرزا۔
جاری ہے۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کہانی نے لیا ہے ایک نیا موڑ۔ آگے اب بہت کچھ نیا پڑھنے کا ملے گا۔ آپ سب کو۔۔ ایک نٸ جنگ چھڑے گی۔ خان ولا میں۔ اور ۔۔۔ جب آفتاب کو پتہ چلے گا۔ کنول کے نکاح کا۔۔تو اسکا کیا ری ایکشن ہوگا۔۔۔؟
اب آتے ہیں قسط پے۔۔؟؟ روزانہ قسط چایٸے تو رسپانس بیسٹ ہونا چاہیے۔ آپ کی پیاری راٸٹر۔

No comments:
Post a Comment