Thursday, 20 June 2024

تم میرے نکاح میں ہو EPISODE NO 14

 #تم_میرے_نکاح_میں_ہو

#قسط_نمبر_14 (دھماکہ اپیسوڈ)


💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
کنول ایک جھٹکے سے سانس لیتی آفتاب کے سینے سے جالگی۔
آفتاب نے بھی کسی متاع ِ حیات کی طرح کنول کو اپنی بانہوں میں بھرا۔ دونوں کے چہرے اگلے لمحے آمنے سامنے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پے محسوس کر رہے تھے۔
ایک کی آنکھیں اللہ کے تشکر سے بند تھیں۔ تو دوسرے کی آنکھیں اس دیوانے کو دیکھتی چلی جا رہی تھیں۔
سانس میں تیری
سانس ملی تو۔۔۔
مجھے سانس آٸ۔۔۔۔۔
کنول سب کچھ بھلاٸے اس شخص کو وارفتگی سے بس ایک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔ جو کچھ پل پہلے اسے مار دینا چاہتا تھا اور اس پل۔۔ اسے اپنے ساتھ لگاٸے ۔۔ اسکے وجود میں سانس چلتی دیکھ آنکھیں موندے اسکے ماتھے کے ساتھ ماتھا ٹکا گیا تھا۔
آآآ۔۔۔۔ففففتا۔۔۔۔ببب۔۔۔۔
بمشکل زبان سے ادا ہوا۔
آفتاب نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ اور اگلے ہی لمحے اسے اپنی بے خودی کا احساس جاگا۔
اور نظروں کا زاویہ بدلتا اٹھ کھڑا ہوا ۔اور رخ پلٹ گیا۔
کنول بھی زمین پے ہاتھ رکھتے دوسرا ہاتھ دیوار کے ساتھ رکھے اٹھی۔
آ۔۔۔پ۔۔مجھے۔۔۔ مارنا۔۔۔؟؟ کنول کو آفتاب پے بہت دکھ ہوا۔ جس نے سچاٸ جانے بنا ہی اسے سزا دینا چاہی۔
اسکی پیٹھ دیکھتے آنسو ضبط کرتے بس اتنا ہی کہہ پاٸ تھی کہ۔
آفتاب ایک پل کو آنکھیں بند کر کے دوبارہ کھولتے جھٹکے سے مڑا۔ اور کنول کو دیوار کے ساتھ پن کر گیا۔
اس اچانک افتاد پے کنول پھر سے بری طرح بوکھلاٸ۔
میرے علاوہ۔۔۔ کسی اور کے بارے میں سوچا بھی۔۔۔ تو جان سے مار دوں گا۔۔۔ اور اسکا ایک نمونہ تو۔۔۔ تم نے دیکھ لیا ہوگا۔۔۔ دھمکی بھرا لہجہ۔۔۔
اینڈ آٸ سوٸیر۔۔۔ پچھتاوا بھی نہیں ہوگا مجھے۔
جنون بھرے انداز میں وہ شیر کی طرح غراتے کنول کے کانوں میں کہتا کنول کے پورے جسم میں سنسنی دوڑا گیا۔ کنول کا دل بری طرح دھڑکنے لگا۔
جھٹکے سےوہ پیچھے ہٹا۔
بہت شوق ہے ناں۔۔ تمہیں نکاح کرنے کا۔۔۔؟؟ تو اب ہوگا نکاح۔۔۔ ہمارا نکاح۔۔۔ آفتاب شیر خان کے ساتھ۔۔۔
اسکی جانب کینہ توڑ نظروں سے دیکھتے کہا تو وہ ساکت رہ گٸ۔
آپ۔۔۔ بنا کچھ جانے۔۔۔؟ کنول نے کچھ کہنا چاہا۔
تم میری بہن کا گھر برباد کرو گی۔۔ اور میں چپ چاپ بیٹھ کے تماشا دیکھتا رہوں گا۔۔؟؟ کیسے سوچ لیا تم۔۔۔نے۔۔؟
آفتاب کے جارحانہ تیور پے وہ نظریں پھیر گٸ۔ آنکھیں آنسوٶں سے بھر گٸیں۔
وہ۔۔۔وہ۔۔۔ بلیک ۔۔میل کر رہے ۔۔۔تھے مجھے۔۔۔! کنول چینخ کے بولی۔
اچھھھاا۔۔۔۔۔۔ اور تم۔۔ہو گٸ۔۔۔؟؟ جھوٹ۔۔۔ مت بولو۔ ۔۔کنول۔۔ ورنہ میں بہت برا۔۔۔۔؟؟
اسکے قریب ہوتے دانت پیستے کہا۔
اس سے زیادہ اور کیا برا کریں گے آپ۔۔؟؟ مجھے مارنے چاہا آپ۔۔نے۔۔۔ بنا سچ جانے۔۔۔؟؟ کنول کا لہجہ روندھ گیا۔
سچ۔۔۔۔۔؟؟ تمسخر اڑایا۔
بہت سن لیے تمہارے سچ۔۔۔اور جھوٹ۔۔۔ اب میری باری ہے۔۔۔
قریب آیا۔
تو۔۔ سنو۔۔۔ کچھ دیر میں مولوی صاحب آرہے ہیں۔ اور ہمارا ۔۔نکاح۔۔۔؟؟
ہرگز نہیں۔۔۔ کبھی نہیں کروں گی۔۔۔ بے شک مجھے جان سے مار دیں۔۔
آفتاب کی بات غصے سے کاٹتی بیچ میں بولی۔ وہ جو بلال کے بارے میں بتانے والی تھی۔ آفتاب کی بات پے وہ شدید غصے میں آگٸ۔
میں۔۔پوچھ نہیں رہا۔۔۔ بتا رہا ہوں۔۔۔!آفتاب نے سینے پے ہاتھ باندھتے مطمین انداز میں کہا۔
آپ غلط کر رہے ہیں۔۔۔ مجھے جانے دیں یہاں سے۔۔۔ میرا جانا بہت ضروری ہے۔۔پلیز۔۔۔۔
اب کی بار لہجہ میں منت تھی۔
نکاح کے بعد ہی یہاں سے جا سکتی ہو۔۔ اس سے پہلے نہیں۔۔۔
قطعی انداز میں کہا۔
کیوں۔۔ کیوں کروں میں آپ سے نکاح۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ بھی دوبدو ہوٸ۔ آنسو ابھی بھی گالوں پے لڑھکتے جا رہے تھے۔
ایک پل کو خاموشی چھا گٸ۔ آفتاب خان اس بپھری ہوٸ شیرنی کو دیکھنے لگا ۔
دیکھیں۔۔ مھے جانے دیں۔۔۔ورنہ وہ۔۔۔ ارسل خان۔۔۔ بلال کو۔۔۔؟؟
اوہ۔۔۔۔تو اب تم۔ نیا جھوٹ تیار کر بیٹھی ہو۔۔۔؟؟ آفتاب نے طنز کیا۔ کنول نے دکھ سے اسے دیکھا۔
جھوٹ نہیں۔۔۔ سچ ہے یہ۔۔۔۔۔! کنول نے اپنی بات پے زور دیا۔
اچھا۔۔۔۔ اب تم یہ کہو گی۔۔۔ کہ بلال۔۔۔ ارسل خان کے قبضے میں ہے۔ اور تمہیں۔۔۔ ؟؟؟ چھی۔۔۔۔ ! آفتاب ہنسا۔
مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے کیا۔۔۔؟؟ آفتاب نے غصے سے دیکھتےکہا۔
مجھے پتہ تھا آپ ۔۔۔ میرا یقین نہیں کریں گے۔۔۔ !! اسلیے۔۔ آپ سے کچھ بھی کہنا بے کار ہے۔۔۔
کنول نے منہ پھیرتے دکھ سےکہا ۔
ہوگیا تمہارا ڈرامہ۔۔۔؟؟ اب نکاح کے لیے تیار ہوجاٶ۔سمجھی۔۔۔۔تم۔۔۔!
نہیں کروں گی آپ سے نکاح۔۔۔۔! لنول نے پاس ہوتے دھیرے لیکن مضبوط لہجےمیں کہا ۔ آفتاب اسے دیکھتے لب بھینچ گیا۔
تو ٹھیک ہے۔۔ بیٹھی رہو۔۔ ساری زندگی۔۔ یہیں۔۔
کہتے ساتھ وہ پلٹا۔۔۔
آپپپ۔۔۔پاگل۔۔ہوگۓ ہیں۔۔۔ اس ۔۔ اندھیرے کمرے۔۔میں چھوڑ کے جا رہے ہیں۔۔؟؟ کنول اسکے سامنے آٸ۔
آفتاب شیر خان اس سے بھی زیادہ سخت سزا دیتا ہے۔۔۔ تمہارے لیے بس۔۔۔ تھوڑی سی رعایت کی ہے۔۔۔
کہہ کے اسکے پاس سے نکلنا چاہا۔
نننہیں۔۔۔ مجھے ۔۔جانا ۔۔۔ہے۔۔ورنہ وہ۔۔۔ بلال۔۔۔۔کو۔۔؟؟ کنول کو بلال کی فکر ہوٸ۔ اگر آفتاب نے اسے واقعی یہاں قید کر لیا۔۔تو بلال کو کیسے بچا پاۓ گی۔۔؟؟
اچھا۔۔۔۔اگر اسے بچانا ہے۔۔۔ تو یاں سے ۔۔نکلنا ہوگا۔۔۔؟؟
لنول نے اثبات میں سر ہلایا۔ آفتاب نے بات جاری رکھی۔
اور یہاں سے نکلنے کے لیے تمہیں نکاح کرنا ہوگا۔۔۔ کیونکہ۔۔ میں اپنی بہن کا گھر برباد ہونے نہیں دوں گا۔۔۔کسی صورت بھی نہیں۔۔ اب خود فیصلہ کر لو۔۔۔!
آفتاب نے کہتے اسکی کالی آنکھوں میں جھانکا۔ جو ابھی بہت سے راز اپنے اندر رکھے ہوۓ تھیں۔
کنول نے ایک نظر اسے دیکھا اور کھلے دعوازے سے باہر بھاگنا چاہا۔ کہ آفتاب نے اسکی یہ حرکت نوٹ کر لی۔ اور ایک ہی جست میں اسے جا لیا۔
اور دروازے کے ساتھ ہی دیوار کے ساتھ سختی سے پن کیا۔ اس کے سارے فرار کے راستے بند کر دیے۔
چھوڑیں مجھے۔۔۔۔ ! وہ جھٹپٹاٸ تھی۔
ہمممم۔۔۔۔ چھوڑنا ہی تو نہیں ہے۔۔۔ اسی کے انداز میں اسکے دونوں ہاتھ دیورا کے ساتھ لگاٸے چہرے کے پاس چہرہ کرتے جنونی انداز میں کہا۔
آپ۔۔۔ غلط ۔۔کر رہے ہیں۔۔۔ مجھے۔۔جانے دیں۔۔۔ پلیز۔۔۔۔!
پھر منت کی۔
نکاح کے بعد ہی۔۔۔۔! اسکے چہرے پے اپنی گرم سانسیں چھوڑتے وہ کنول کوبہت جنونی لگا۔ کہ کنول ایک پل کو سہم گٸ۔
دونوں کی نظروں کا تبادلہ ہوا۔۔
کنول نے پلکیں گرا کے اٹھاٸیں۔
کیاکچھ نہ تھا اسکی آنکھوں میں ۔۔۔؟؟ گلے شکوے۔۔۔ شکایتیں۔۔۔ درد۔۔۔
اگر آپ۔۔۔کی یہی شرط ہے ۔۔ تو ٹھیک ہے۔۔۔ !
میں۔۔۔ آپ سے نکاح کوں گی۔۔۔۔
کچھ پل کی خاموشی کے بعد ایک ہاری ہوٸ آواز میں کنول نے کہا۔
لیکن۔۔۔ آپ وعدہ کریں۔۔ نکاح کے بعد مجھے نہیں روکیں گے۔۔۔! مجھے جانے دیں گے۔۔۔۔؟؟؟
کنول نے یقین کرنا چاہا۔ جبکہ آفتاب ہنسا۔اور ہنستے ہوۓ ہی پیچھے ہٹا۔ اسکی ہنسی میں ایک طنز تھا۔
یو۔۔نو۔۔۔۔! ایک لمحہ کو مجھے لگا تم سچ کہہ رہی ہو۔۔ہو سکتا ہے۔۔ بلال کو ہی بچانے کے لیے تم۔۔۔ ارسل خان سے۔۔۔؟؟ لیکن۔۔۔۔؟؟ سر نفی میں ہلایا۔
تم۔۔۔ اگر سچی ہوتی تو۔۔ کبھی مجھ سے نکاح کے لیے راضی نہ ہوتی۔
ایک ایک بات پے زور دیتے چبا چبا کے لفظ ادا کیے۔
بہت جلد۔۔۔ آپ کو سچ اور جھوٹ کا پتہ چل جاۓ گا۔۔ اور اس وقت ۔۔۔۔آپ کے پاس پچھتانے کے لیے بھی۔۔۔ کچھ نہ بچے گا۔۔۔۔! اپنی بہن کا گھر ۔۔برباد ہونے سے تو آپ بچا لیں گے۔۔۔ لیکن۔۔۔ میرے ساتھ کیے۔۔۔۔ اس عمل کی بھرپاٸ آپ۔۔۔ ساری زندگی نہیں کر پاٸیں گے۔
دکھ سے کہتی وہ آنسو گالوں سے صاف کرتی آفتاب کو اپنے دل سے قریب لگی۔ جی چاہا آگے بڑھ کے اس کے آنسو پونچھے۔
لیکن اگلے ہی پل عظمی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ تو بڑھتا ہاتھ واپس پیچھے کھینچ لیا۔ اور لب بھینے باہر نکلنے لگا کہ دروازے میں رک کے واپس پلٹا۔
کنول کا ہاتھ تھاما۔ کنول نے نظر اٹھا کے آفتاب کے سپاٹ چہرے کو دیکھا۔
آفتاب کنول کو لیے اپارٹمنٹ کے اندرونی حصے کی جانب بڑھا۔ اور ایک روممیں لے جا کے وہاں چھوڑا۔ وہ خاموش ہی رہی۔
خو باہر کھڑے سعدی کے پاس آیا۔
مولوی صاحب اور گواہ آگۓ۔۔۔؟؟ سوال داغا۔
جی خان۔۔۔۔! لیکن۔۔۔۔؟؟ وہ تذبذب کا شکار ہوا۔
کیا ہوا۔۔؟؟ آفتاب کے ماتھےپے بل پڑے۔
خان۔۔۔۔! ایک بار۔۔۔ کاظم کا فون آنے دیں۔ وہ سچ پتہ لگا کے دے گا۔۔۔ اس لڑکی سے نکاح۔۔۔؟؟
سعدی۔۔۔۔! سخت گیر آواز میں آفتاب نے اسے ٹوکا۔
میں اپنے فیصلے خود لیتا ہوں۔۔۔ سمجھے تم۔۔۔۔!
آفتاب کے سخت انداز پے سعدی نے سر جھکا لیا۔
آفتاب نے ہمیشہ اسے اور کاظم کو چھوٹے بھاٸ کی طرح چاہا تھا۔ یہی وجہ تھی۔ کہ آج وہ اپنی راۓ دے گیا۔ ورنہ کسی میں اتنی جرات نہیں تھی۔ کہ آفتاب کے آگے سر بھی اٹھا سکے۔
آفتاب کنول کو لیے بڑےہال میں آیا۔ جہاں ان دونوں کا نکاح سر انجام پایا۔
کنول کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
کیا سوچا تھا۔۔ اور وقت نے کیسی چال چلی تھی۔
سعدی نے مبارک باد دی۔
جسے آفتاب نے خاطر میں نہ لایا۔
مولوی صاحب اور باقی گواہوں کو اچھی خاصی رقم دے کے بجھوا دیا گیا تھا۔
پلیز۔۔۔مجھے جانے دیں اب۔۔۔!
کنول نے اٹھتے کہا۔
سعدی۔۔۔! یہ جہاں جانا چاہے ۔۔۔ انہیں چھوڑ آٶ۔
کہتے ہوۓ آنکھوں ہی آمکھوں سے کوڈ ورڈ بھی دیا۔ کہ نظر رکھے اس پے۔
جی۔۔۔! سعدی نے سر جھکاۓ کہا۔
ممم۔۔میرا۔۔۔ فون۔۔۔؟؟ کنول نے آفتاب کیجنب دیکھتے اپنا فون مانگا۔
ایک نظر اسے دیکھا۔ اور جیب سے نکال کے فون اسے تھما دیا۔ جسے وہ بند کرکے جیب میں رکھے ہوۓ تھا۔
کنول نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا ۔
اگر فون آن ہوتا تو۔۔ اسے کم سے کم سچاٸ کا تو پتہ چل جاتا۔۔۔! کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہی۔۔
لیکن ۔۔۔ شاید یہ سب ایسے ہونا ہی لکھا تھا۔ نصیب یں۔ وہ بنا ایک لفظ بولے وہاں سے نکلی۔ سعدی نے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
وہ بیٹھی تو سعدی نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ دور ریلنگ پے کھڑے آفتاب کی نظروں نے آخر تک اسکا پیچھا کیا۔
وہ جانتاتھا۔۔۔ کہ وہ کیا کر گیا ہے۔۔۔ لیکن وہ مطمین تھا۔ اس نے بہن کا گھر بچایا تھا۔ اب کنول کچھ بھیکرے۔۔ لیکن ۔۔۔نکاحکے اوپر نکاح نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ اتنا تو وہ بھی جانتا تھا۔
💧💧💧💧💧💧💧💧💧💧💧💧💧💧
رجسٹرار آفس کے باہر کنول نے گاڑی رکواٸ۔ او نچے اترتی بنا کچھ کہے اندر کی جنب بڑھ گٸ۔
سعدی بہت چپ چپ سا تھا۔ وہ کاظم سے مسلسل کرابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن اسکا نمبر بند جا رہا تھا۔ اس وجہ سے بھی وہ کافی پریشان ہوا تھا۔
اسکی نظر آفس کے دروازے پے ہی تھی۔
کہ کاظم کی کال آگٸ۔ سعدی نے فوراً کال پک کی۔
اور اسے ساری ڈیٹیل دی۔
جسے سن سعدی کےپیروں تلے سے زمین نکل گٸ۔
موباٸل فون ساٸیڈ پے تکھتا وہ سامنے آفس میں داخل ہوا۔ جو کہوہاں اکا دکا لوگ ہی تھے۔۔لیکن وہاں نول کہیں نہیں تھی۔
ایکسکیوز می۔۔۔! یہاں ابھی ایک لڑکی آٸ تھی۔۔نکاح۔۔ کے لیے۔۔؟؟ وہ کہاں ہیں۔۔؟
سعدی کو سمجھ نہ آیا کہ کسطرح کنول کا پوچھے تو جو دماغ میں آیا پوچھ لیا۔
لڑکی۔۔۔؟؟ لیکن۔۔ا بھیتو ۔۔کوٸ نہیں آٸ۔۔۔ اور ویسے بھی رجسٹرار کا آفس کا ٹاٸم ختم ہوگیا ہے۔ وہ جا چکےہیں۔۔ تو آپ کل آٸیے گا۔۔۔
آگے سے لمبا چوڑا جواب ملا۔
سعدی لب بھنچ گیا ۔ ایک بار پھر کنول کو ڈھونڈنا چاہا لیکن وہوہاں ہوتی تو ملتی ناں۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔! کیا یہاں سے باہ جانے کا کوٸ اور راستہ بھی ہے۔۔؟؟
ایک شخص سے پوچھا۔ اس نے پہلے تو سعدی کو سر سے پاٶں تک دیکھا۔
پھر قریب ہوا۔۔۔
کیا کسی کو بھاگا کے نکاح کر رہے ہو۔۔۔؟؟
بکواس۔۔۔؟؟ سعدی نے لب بھینے۔
جو پوچھا ہے وہ بتاٶ۔۔۔۔؟؟
ایک نہیں۔۔۔۔تین راستےہیں۔ یہاں سے باہر نکلنے کے۔۔۔
لیکن۔۔۔ بنا پیسوں کے نہیں بتاٶں گا۔
وہ شخص اپنی مطلب کی بات پے آیا۔
جبکہ سعدیکو یقین ہو گیا تھا۔ کہ کنول چکما دے کے وہاں سے جا چکی تھی ۔ اب۔۔۔ آفتاب خان کو کیا جواب دے گا۔۔؟ اسے یہی سوچ کے پریشانی ہو رہی تھی۔
💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨
آٹو کرواتی وہ ارسل خان کے بتاۓ ہوۓ ایڈریس پے پہینچی۔
سڑک بالکل سنسان تھی۔ کوٸ بھی رات کےاس وقت وہاں موجود نہ تھا۔
ایک طرف وہ کھڑی تھی۔ تو دوسری طرف ارسل خان اپنے دو گن مین کےہمراہ کھڑا کنول کو گھور رہا تھا۔
ویلکممم۔۔۔۔۔۔! ویلکممممم۔۔۔۔ ارسل نے بانہیں پھیلاٸیں۔
بلال کہاں ہے۔۔؟ سامنے جاتےسخت لہجے میں پوچھا۔
کہا تھا ناں۔۔۔نکاح کے بعد ملے گا۔۔بلال۔۔۔ !
سگریٹ نکال کے سلگایا ۔ اور دھواں ہوا کے سپرد کیا۔
ارسل خان۔۔۔۔۔! نکاح ۔۔۔ہوگیا ہے۔۔۔۔! غصےمیں اسکا نام لیتی۔۔ اگلے پل خوشی سے بتایا۔
ارسل خان کے چہرے پے بھی مسکراہٹ بکھری۔
گڈ جاب۔۔۔۔! کہتے ہوۓ کنول کو شاباشی دی ۔ اور گاڑی میں بیٹھنےکا اشارہ کیا۔
خود بھی بیٹھا اور ڈراٸیور کو چلنے کا اشارہ کیا ۔
ہمارا۔۔پلان سکسیس فل رہا۔۔۔! فاٸنلی۔۔ اس نے نکاح کر ہی لیا۔
کنول نے مسکراتے کہا۔
پلان تھا بھی تو پاور فل۔۔۔۔ !
ارسل نے بھی ہاں میں ہاں ملاٸ۔
یہ سب آپ کی وجہ سے ممکن ہوا ارسل بھاٸ۔ ۔۔ تھینک یو سو مچ۔۔۔ آپ نے واقعی بھاٸ ہونے کا حق ادا کیا ہے۔۔۔
انا نے دل سے اسےکہا۔
تم بھلے میر منہ بھولی بہن ہو۔۔ لیکن۔۔ مجھے سگھی بہنوں سے زیادہ عزیز ہو۔۔ اور جو کچھ۔۔ ماضیمیں آپ ۔۔کے ساتھ ہوا۔۔۔ اسکا بدلہ لینے میں میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں۔۔ ارسل نے اسے اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلایا۔ انا کی آنکھیں نم ہوگٸیں۔
خیر اب آگے کا کیا پلان ہے۔۔؟؟ ارسل خان نے اسکی جانب دیکھا۔
کنول نے ایک نظر ارسل خان کی طرف دیکھا۔
خان ولا میں انٹری۔۔۔ اور ان سب کی بربادی۔۔۔۔۔!
کہتے ہوٸے کنول کے اندر کی ساری نفرت اسکے لفظوں میں صاف جھلکی تھی۔
آل دا بیسٹ۔۔۔ ماٸ سسٹر۔۔۔! ہاسٹل کےپاس گاڑی روکی۔
ناول کا نام۔ تم۔یرے نکاح میں ہو۔ اور راٸٹر منتہا چوہان ہیں۔ نیکسٹ قسط کی اپ ڈیٹ کے لیے میری آٸ ڈی پے کلک کریں۔
آپ بلال کو کچھ عرصےکےلیے کہیں اور لےجاٸیں۔۔ میں نہیں چاہتی۔۔ کہ ۔۔اسے اس سب کا پتہ چلے۔۔۔وہ بہت معصوم ہے۔۔۔۔!!
کنول کے لہجےمیں بلال کے لیے پیار ہی پیار تھا۔
فکر نہیں کرو۔۔۔میں مینج کر لوں گا۔۔ تم اپنا خیال رکھنا۔
ارسل خان نے اسے مطمین کیا۔
اور۔۔۔ وہ آپ کی۔۔مسز۔۔۔؟؟ انکو کیسے مینج کریں گے۔۔۔؟؟ کنول نے شرارت سے کہا۔
تو ارسل مسکرادیا۔
وہ تو جان ہے۔۔۔ اسے مینج کرنا کونسا مشکل ہے۔۔؟
عظمی کے لیے ارسل خان کے لہجے میں پیار ہی پیار تھا۔ کنول مسکراتی ہوٸ نیچے اتری۔دل ے انکے لیے دعا کی۔ اور ہاسٹل کے اندر داخل ہوگٸ۔
جہاں اس نے سب سے پہلے کھانا کھایا۔ اور میڈیسن لیں۔
بستر پے دراز ہوتے آج کے دن کے بارے میں سوچنے لگی ۔
خان ولا کے رہنے والوں سے بدلہ لینے کے لیے اسے خان ولا میں داخل ہونا تھا۔ جہاں وہ۔۔ بنا کسی حیثیت۔۔۔ کسی حق کے داخل نہیں ہوسکتی تھی۔
پہلانشانہ اسکا شہیر تھا۔لیکن۔۔ وہجب یہاں آیا۔ تو آتےہی وہ دوسرے شہر چلا گیا۔ جہاں اسے پتہ چلا کہ وہ پہلے سے ہی نکاح میں ہے۔
اس خان ولا میں آفتاب خان ایک بہت بڑا آپشن تھا۔ بھلے وہ اس کا خان ولا سے کوٸ تعلق نہ تھا۔ لیکن۔۔ وہ خان ولا کا ایک فرد تھا۔ اور پھر اسکی ماں۔۔۔ ؟؟
سب جان لینے کے بعد آفتاب بھی اسکے نشانے پے آگیا ۔ اور یوں وہ آفتاب کو اپنے جال میں پھساتی چلی گٸ۔ اور آج اس سے نکاح کرکے کامیاب بھی ہوگٸ۔
اگلا لاٸحہ عمل بھی وہ تیار کرچکی تھی۔اور اپنی ہر چال کے لیے وہ تیار تھی۔ اور مطمین ۔
آنکھیں موندیں اب وہ سکون کر رہی تھی۔
💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨💨
کیا ہوا۔۔۔؟؟ اتنی چپ چپ کیوں ہو۔۔؟؟
جیسے ہی کراچی اٸیر پورٹ پے قدم رکھا۔ شہیر نے انا کا ہاتھ تھامے اس سے استفسار کیا۔
سارے وقت وہ خاموش رہی تھی۔ یوں اچانک سے گھر سے دور ہونا۔۔۔ اور یہ رخصتی۔۔۔ شہیر اسکی حالت سمجھ رہا تھا۔ اس لیے اسے نہ چھیڑا۔ اور خاموش رہا۔ لیکن اسکا ہاتھ نہ چھوڑا۔
نہیں۔۔۔۔۔ کچھ۔۔۔ نہیں ۔۔بس ۔۔۔ یوں ہی۔۔۔! انابیہ نےنظریں چراٸیں۔
انا۔۔۔ گھبراٶ مت۔۔۔ میں ہوں ناں ساتھ۔۔۔ پھر کیوں پریشان ہوتی ہو۔۔؟؟ شہیر اسکا ہاتھ تھامے اٸیرپورٹ سے باہر نکلا۔ گاڑی وہ پہلے ہی منگوا چکا تھا۔
ڈراٸیور نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ شہیر انا کو لیےگاڑی میں بیٹھا۔
شہیر نے دوبارہ سے انابیہ کا ٹھنڈا پڑتا ہاتھ تھاما۔
اور اسے اپنے ہونے کامان بخشا۔
انا ۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔ ہر لڑکی کی طرح تمہارا بھی ارمان ہوگا۔ کہ دھوم دھام سے تمہاری شادی ہوتی۔۔۔ اور۔۔تم۔۔۔ یہ ڈیزرو بھی کرتی ہو۔۔۔ کچھ لمحے تو وہ چپ ہی کر گیا۔ انا بس اسے دیکھے گٸ۔
لیکن۔۔ میں شہیر خانزادہ ۔۔تم سے وعدہ کرتا ہوں۔۔ تمہارا ہر ارمان پورا کروں گا۔۔۔ ہمارا ریسپشن بہت دھوم دھام سے ہوگا ۔۔۔ ان شاء اللہ،،،
ان شاء اللہ...۔۔۔ انا بھی اسکی بات پے دل سے مطمین ہوتی مسکرا دی۔
ایک ریسٹورینٹ پے گاڑی روکی۔تو انا چونکی۔
کیا ہوا۔۔؟؟
چلو۔۔۔۔ کچھ کھا لیتے ہیں۔۔ بہت زوروں کی بھوک لگی ہے۔
گاڑی سے باہرنکلتے ہی کہا۔
لیکن۔۔ مجھے بھوک نہیں۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ چلیں۔۔ گھر چلتے ہیں۔
انا نے اسکا بازو پکڑ کے روکا۔
انا۔۔۔ !تمنے پلین میں بھی کھ نہیں کھایا۔ اب بھی بھوکی رہو گی۔۔؟؟ جبکہ جانتی ہو۔۔ گھر میں کوٸ استقبال کرنے والا نہیں۔
شہیر نے برا منہ بنا کے کہا۔
مجھے۔۔ ضرورت بھی ہیں کسی کے استقبال کی۔ مجھے بس۔۔ آپ کا ساتھ چاہیے۔
انا نے دھیمی لیکن مضبوط آواز میں کہا۔
وہ تو میں ہمیشہ ہوں میری جان۔۔۔! لیکن۔۔۔ پہلے پیٹ پوجا۔۔۔ پھر کم دوجا۔۔
شہیر نےطپیار سےکہتے انا کو زبردستی باہر نکالا۔ اور اند کی جانب قدم بڑھاۓ۔
آرڈر دینے کے بعد وہ انا کیجانب متوجہ ہوا۔
انا۔۔۔ اسے پہلے کبھی کراچی آٸ۔۔؟؟ یونہی سرسری انداز میں پوچھا۔
ہمممم۔شاید بچپن میں۔۔۔ ! یاد کرتے ہوۓ کہا۔
میں تمہیں پورا کراچی گھماٶں گا۔۔۔ اور ۔۔۔ہنی مون پے ہم۔۔۔ پیرس جاٸیں گے۔
شہیر اپنا پلان بتا رہا تھا۔ ہنی مون کے نام پے انابیہ کا دل دھڑکنے لگا۔ جبکہ چہرے پے گلال بکھر گیا۔
اتنے میں ویٹر نے کھانا سرو کیا۔ تو باتوں کا تسلسل ٹوٹا۔
✨✨✨✨✨✨✨✨
امی۔۔۔جان۔۔۔۔! آپ کیوں اتنی چپ چپ سی ہیں۔۔؟؟ شامی نے ماں کو اداس دیکھا تو پاس آگیا۔ اور پیار سے ماں کو گلے لگایا۔
اچانک ہی رخصت کر دیا۔ گھر خالی خالی سا لگنے لگا ہے۔۔۔ آنکھیں نم تھیں۔
امی جان۔۔۔ ایک دن تو بیٹیوں کو رخصت ہونا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔ اب یوں اداس نہ نہ ہوں۔۔ میں ہوں۔۔ناں۔۔ آپ کےپاس۔
منہ کے ہاتھ چومے۔۔
ہممممم۔۔۔ میں سوچ رہی تھی۔۔ عابی کو رخصت کر کے لے آتی ہوں۔۔گھر بھر میں رونق ہو جاۓ گی۔
اپنا پلان بتاتیں جمیلہخاتون نے شامی کے چرے کےاتار چڑھاٶ نہ دیکھے۔
ایک۔۔۔۔منٹ۔۔۔ ؟؟ یہ عابی کہاں سے آگٸ بیچ میں۔۔؟؟
ایک روٹی تک تو بنانا آتی نہیں۔۔ اور رخصتی۔۔؟؟ نا باباب نا۔۔ میں باز آیا۔۔
شامی نے ہاتھ جھاڑے۔
نہں آتی تو کیا ہوا۔۔؟ میں سکھادوں گی سب۔۔۔ اور دیکھو بھی تو سہی۔۔ کتنی لاٸق ہے۔۔ میری بہو۔۔ اتنی چھوٹی عمر میں یونیورسٹی بھی پہنچ گٸ۔ باقی گھر کے کامبھی سیکھ لے گی۔پورے یقین سے کہا
جی جی۔۔جب سیکھ لےگی۔۔ تب بات کریں گے اس بارے میں ۔۔ ابھی۔۔ آپ بس آرام کریں۔
شامی انہیں لیے ان کے کمرےمیں چھوڑ آیا ۔
جبکہ اس کا اپنا دل بے حد اداس تھا۔ انا کے جانے سے وہ سب سے زیادہ اپ سیٹ ہوا تھا۔ لیکن۔۔ شہیر اسکی خوشی تھا۔وہ بیچ میں کیسے دیوار بنتا۔ ۔۔۔؟؟
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
کچھ ہی دیر میں وہ خان ولا کے گیٹ سے اندر داخل ہو رہے تھے۔
شہیر انا کو لیے اندر کی جانب بڑھا ۔ جہاں تقریباً اسی کا انتظار ہو رہا تھا۔
شہیر نے جب ڈراٸیور کو گاڑی لے کے اٸیرپورٹ آنے کا کہا۔ خانمکو سب سے پہلے رپورٹ گٸ تھی۔
اور وہ بے انتہا خوش تھیں۔
سبھی گیٹ پے نظریں گاڑے بیٹھے تھے۔ کافی رات ہوگٸ تھی۔ لیکن نیند سب کی نظروں سے کوسوں دور تھی۔
عروج کو بہت بے چینی تھی۔ جو ویڈیو اس نے بھیجی تھی شہیر کے نمبر پے۔ اسکا کوٸ ری ایکشن ابھی تک نہیں آیا تھا۔ اور آج ہی پتہ چلنا تھا۔
شہر کے قدم خان ولا میں داخل ہوۓ۔
میرا خان۔۔۔۔۔! خانم بے اختیار جذبات کی رو میں بہہ کے آگے بڑھیں۔ کہ قدم وہیں تھم گۓ۔
سامنے شہیر کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ کے۔
سب چہرے جن پے کچھ دیر پہلے خوشی تھی۔ اب حیرت اور تجسس نے لے لی تھی۔
خانم نے مڑ کے ارباز خان کو دیکھا۔ جبکہ وہ بھی حیرانی سے یکھ رہے تھے۔
چھوٹے خان۔۔۔۔۔! یہ۔۔۔۔ یہ۔۔ کون ہے۔۔؟؟ ایک ڈر دل میں کنڈلی ڈالے بیٹھا تھا۔
آپ کی بہو۔۔۔ انابیہ شہیر خانزادہ۔
شہیر نے پر اعتماد انداز میں کہتے سب کے سروں پے بم پھوڑا۔
خانم دو قدم پیچھے ہٹیں۔
عروج کی آنکھیں جھلملاٸیں۔ اسکی ماں۔سامعہ بھی بری طرح پیچ و تاب کھاتی رہ گٸیں۔
جبکہ عباد خان کے چہرے پے ایک تمسخرانہ مسکراہٹ تھی۔
نہیں۔۔۔ کہہ دیں۔ یہ جھوٹ ہے۔۔۔۔ ! آپ ۔۔ایسا نہیں کر سکتے چھوٹے خان۔۔؟؟ آپ۔۔۔ یوں اچانک۔۔۔؟؟
خانم کا لہجہ پتھرایا ہوا تھا۔ انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ کہ انہیں اتنی بری طرح شکست ہوگی۔ وہ بھی اپنے بیٹے کے ہاتھوں۔۔۔
مما جان۔۔۔! اس میں جھوٹ کیا ہے۔۔؟ انابیہ میری بیوی ہے۔۔ اور ایک دن اسے آنا تھا۔ اس گھر میں۔۔۔ رخصت ہوکے۔۔۔
شہیر خانزادہ نے ہر لفظ پے زور دیتے کہا۔
رات کے اندھیرے میں ۔۔۔ کوٸ رخصت ہو کے نہیں آتی۔۔ شہیر خانزادہ۔۔۔۔!
اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ تھے خانم کے۔ شہیر لب بھینچ گیا۔
اور کچھ توقف کے بعد انا کا ہاتھ چھوڑتا ۔ اپنی ماں کے قریب آیا۔ انا کے دل کو کچھ ہوا۔
رات کے اندھیرے میں اس خان ولا میں بہت کچھ ہو چکا ہے۔۔۔۔ جو راز یہ۔۔۔ خان ولا کے در و دیوار اپنے اندر چھپاکے رکھے ہوۓ ہیں۔۔۔۔ اس لیے۔۔۔ یہ۔۔ الفاظ دوبارہ مت کہیے گا۔۔۔مماجان۔۔۔!
شہیر کے لفظوں نے خانم۔کا دل بری طرح چیر دیا۔ وہ کس بارے میں بات کر رہا تھا۔۔۔؟؟ کہیں وہ سب سچ جان۔۔تو نہیں گیا۔۔؟؟ دیجے نے اسے کیاکیابتایا ہوگا۔۔؟؟
یہ ساری باتیں ہیان کے دماغ میں گردش کرنے لگیں۔
چھوٹے خان۔۔۔! آپ۔۔۔ انابیہ کو روم میں لے کے جاٸیں۔ صبح بات ہوگی۔
ارباز خان نے معاملہ رفع دفع کرنا چاہا۔
ہرگز نہیں۔۔۔! میں اسے۔۔ بہو۔۔؟؟
خانم۔۔۔! پہلی بار۔۔۔ پہلی بار۔۔ ارباز خان نے اونچی آواز میں اپنی بیوی کو پکارا۔ کہ سبھی دیکھتے رہ گۓ ۔ خود خانم بھی آنکھوں میں بے یقینیبلیے اپنے دوانے شوہر کو دیکھتی رہ گٸیں۔
مزید کوٸ بات نہیں۔۔۔ سختی سے کہا۔
چھوٹے خان۔۔ جاٸیں۔۔۔ اپنے روم میں۔۔۔!
معاملےکی نزاکت کو سمجھتے ہوۓ شہیر نے بھی مزید کوٸ بحث نہیں کی۔ اور انابیہبکو لیےطاپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔
خانم نے ایک چکوہ کناں نظر شوہر پے ڈالی۔ اور منہ پھیر کے روم۔میں لی گٸیں۔
ان کےجانے کے بعد ارباز خان سر تھامے سٹڈی روم کی جانب بڑھے۔
دیکھا۔۔۔ آپ نے۔۔ وہ لے آیا۔۔ اسے۔۔۔! اب میرا کیا ہوگا۔۔؟؟
عروج نے دل گرفتہ ہوتے ماں سے کہا۔
چپ ہو۔۔ ابھی۔۔۔ کچھ مت کہو۔۔۔ مجھے آپا پے پورا یقین ہے۔۔ وہ ہمارے ساتھ۔۔ کوٸ زیادتی نہیں ہونے دیں گیں۔
سامعہ بی بی کو اب بھی بای پلٹنے کا انتظار تھا۔
ایک بات میں آپ سے کہہ دوں۔۔ شہیر۔۔ میرا نہ ہوا۔۔ تو۔۔ میں اسے کسی او کا بھی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔! سب کچھ۔۔ برباد کردوں گی۔۔۔ سنا آپ نے۔۔۔!
غصے سے دھیمی آواز میں کہتی وہ بھی اپنے کرے کی جانب بڑھ گٸ۔ جبکہ آج کی رات تو اسکی اب کانٹوں پے ہی گزرنی تھی۔
🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟
انا۔۔۔۔؟؟؟کمرے میں آتے ہی شہیر نے سامان ایک طرف رکھا۔ اور بت بنی کھڑی انا کو پکارا۔ تو وہ چونکی۔
ٹھیک ہو ناں۔۔۔؟؟
جی۔۔۔۔! گہری سانس خارج کی۔
یہاں آٶ۔۔۔۔! ہاتھ تھام کے گلاس ڈور کے دوسری طرف لے گیا۔ اور ریلنگ کے پاس لے جاکے کھڑا کیا۔
وہاں دیکھو۔۔۔!!
وہ جو شہیر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اسکے کہنے پے سامنے ونڈو سے باہر دیکھا ۔
سامنے چاند بادلوں سے اٹھکیلیا کر رہا تھا۔ اور چاند کی روشنی تھوڑی تھوڑی دیر بعد ظاہر ہو کے آنکھ مچولی کھیل رہی تھیں۔ اور ایسے میں گارڈن کے بیچوں بیچ فاٶنٹٹین کا منظر انا کو حیراں کر گیا۔
اس پہر کا یہ منظر بہت ہی دلفریب تھا۔
ماشاءاللہ ۔۔۔۔ کیا خوبصورت نظارہ ہے۔۔۔
Its an amazing....
انا سب کچھ بھولے ریلنگ پے ہاتھ رکھے نچے یکھتی گارڈن سے نظر ہوتی پورے ایریا پے بھٹکتی چلی گٸ۔
آپ کی امی نے خان ولا کو بہت خوبصورتی سے سجایا ہے۔۔۔ بہت پیارا ہے۔۔۔ رٸیلی۔۔۔
انا ل سے تعریف کرتی شہیر کی جانب مڑی جو بہت وارفتگی سے اسکے پیچھے کھڑا اسے دیکھے جا رہا تھا۔ انا کی پلکیں بھاری ہوٸیں تو جھکتی چلی گٸیں۔ اور دل نے ایک سو بیس کی رفتار سے سپیڈ پکڑی۔ واپس رخ آگے کی طرف موڑ لیا۔ شیر اسکے قریب ہوتا اسکے بالوں میں منہ چھپا گیا ۔ زرا سے بال ہٹاۓ تو نرم ملاٸم گردن پے نظریں جا ٹھہریں۔ وہیں بے اختیار ہتے ایک گساخی کر گیا ۔ انا کا تو ایسا حال تھا۔ کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
ٹھنڈ بڑھتی جا رہی ہے۔۔ چلو۔۔ اندر چلیں۔
شہیر نے اپنے حواس پے قابو پاتے اسکا ہاتھ تھام مرے میں لے آیا ۔
چینج کر لو۔۔۔۔ ریلیکس ہوجاٶ۔۔
شہیر نے نارمل انداز میں کہا۔ اور اپنے بیگ کی زپ کھولنے لگا۔
انا گرا سانس خارج کرتی باتھ روم کی جانب بڑھی۔
جبکہ شہیر کل کا لاٸحہ عمل تیار کرنےلگا تھا۔ اسےکسططرح ماں باپ کو ہینڈل کرنا ہے۔ وہ بہت بصے پیمانے پے ریسپشن کرنا چاہتا تھا۔ سب سے اپنی بیوی انابیہ کو متعارف کروانا چاہتا تھا۔ اس کے بعد ہی وہ اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کرنا چاہتا تھا۔
یوں تو شہیر نے انابیہ کےلیے بہت اچھا سوچ رکھا تھا ۔ اسکی نیت بھی صاف تھی۔ پر۔۔۔ کیا حالات اور خان ولا کے مکین اسے ۔۔۔ اسکی خوشی سمیت قبول کرتے۔۔؟؟ جہنوں نے ماضی میں اتنا کچھ کیا۔۔۔ کیا حال میں انکا بیٹا ۔۔۔ انکے مخالف ڈٹکےکھڑا ہو پاۓ گا۔۔؟؟ یا پھر سے جیت جاۓ گی۔۔ خانم کی چال بازیاں۔۔؟؟
یہ تو آنےوالا وقت ہی بتاۓ گا۔
جاری ہے
💞💞💞💞💞💞💘💘💘💘💘💘💘💘
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
جلدی سے اچھا سا رسپانس دے دیں۔ کس کس کو جھٹکا لگا۔۔۔ آج ک قسط پڑھ کے۔۔؟؟
آگے ابھی اور بھی دھماکے دار قسط کے لیے تیار رہیں کیونکہ عشق کے امتحاں ابھی اور بھی ہیں۔۔۔ اور سسپنس ابھی ختم نہیں ہوا۔
اپنا بہت خیال رکھیں۔ دعاٶں مثس یاد رکھیں۔
جزاك اللهُ‎

All reaction
7

No comments:

Post a Comment